پارلیمنٹ نے عمرانڈو ہم خیال ججز کو وارننگ دے دی

سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کھل کر آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ جہاں ایک طرف وفاقی حکومت نے پنجاب میں انتخابات کیلئے فوری فنڈز کی فراہمی سے انکار کر دیا ہے وہیں توہین پارلیمنٹ پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور ہم خیال ججز جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کو ایوان میں طلب کرنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے جبکہ دوسری طرف سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے چیف جسٹس کے نام لکھے گئے خط میں انھیں سیاست سے دور اپنی حدود میں رہنےبارے متنبہ بھی کر دیا ہے۔ اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عطا بندیال کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ خود کو لازمی طور پر سیاست سے الگ رکھے۔ ایک دوسرے کی حدود میں مداخلت نہ کی جائے اور آئین اور جمہوریت کو مل کر کام کرنا چاہیے۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اخراجات کی منظوری قومی اسمبلی کا اختیار ہے اور پارلیمنٹ کو اس آئینی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔اسپیکر نے سپریم کورٹ کے بعض حالیہ فیصلوں کو قومی اسمبلی کے آئینی اختیارات میں مداخلت کے مترادف قرار دیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال اور دیگر ججز کو خط لکھ کر پاکستانی عوام کے منتخب نمائندوں میں پائی جانے والی تشویش اور بے چینی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرٹیکل 79اور 85میں فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے اخراجات کا اختیار قومی اسمبلی کو حاصل ہے‘ عدالتی فیصلے سے پارلیمنٹ کا استحقاق مجروح ہوا‘ سپریم کورٹ سیاسی الجھن میں نہ پڑے‘ قومی اسمبلی یہ سمجھتی ہے کہ 4‘14اور19اپریل کو تین رکنی بینچ کی طرف سے دیئے گئے احکامات چار تین کی اکثریت سے دیئے گئے فیصلے کی خلاف ورزی ہیں‘ عدالت کی طرف سے اسٹیٹ بینک اور خزانہ ڈویژن کو الیکشن کمیشن کیلئے 21ارب روپے مختص کر نے کے احکامات پرعملدر آمد قومی اسمبلی نے روک دیا ہے‘چار اپریل کو دیا جانے والا فیصلہ قابل عمل نہیں،تین رکنی بینچ کے احکامات کے ذریعے مالیاتی امور کے بارے میں قومی اسمبلی کے اختیار اور آئینی عمل کی مکمل بے احترامی کی گئی ہے،تین رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کو 21ارب کے اخراجات کی اجازت نہ دینے پر’’سنگین نتائج‘‘ کی دھمکی دی ہے ،قومی اسمبلی کو اس پر گہری تشویش ہے ، یہ قومی اسمبلی کا وقار مجروح کر نے اور آئینی نظام کو توڑنے کے مترادف ہے ‘خط کے متن میں کہاگیاہے کہ عدالتوں کو آئین کی تشریح کا اختیار حاصل ہے ،انہیں آئین دوبارہ لکھنے یاپارلیمنٹ کی بالادستی کی خلاف ورزی کا اختیار نہیں‘تین رکنی بینچ کو آئینی تقاضے نظرانداز کرتے ہوئے فنڈز کے اجراء کی ہدایت دینے کا اختیار نہیں‘قومی اسمبلی آئین اور عوام کی طرف سے دیئے گئے حق اور اختیار کا مکمل دفاع کریگی ،آئینی نظام بالائے طاق رکھنے کی کسی بھی کوشش پر قومی اسمبلی جواب دے گی ‘ الیکشن کمیشن کو فنڈز کے اجرا کی بار بار احکامات سے اداروں کے درمیان غیر ضروری تناؤ پیدا ہورہا ہے جس سے قومی مفاد کو نقصان ہوسکتا ہے اور اس طرح قومی اسمبلی کے اختیارکو بھی متاثر کیا جارہا ہے ،قومی اسمبلی عام انتخابات کیلئے اخراجات کی منظوری آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دے گی جو وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کیا جائیگا ، عوام نے آزاد عدلیہ کیلئے جدوجہد کی‘بد قسمتی سے عدلیہ نے اکثراوقات ان سیاست دانوں پر ہی بندوق تانی ہے جو مشکل وقت میں عدلیہ کا دفاع کر تے رہے ہیں،سپریم کورٹ جہاں تک ممکن ہو سیاسی تناؤ میں گھسنے سے گریز کرے ‘ آئینی معاملات پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں پر چھوڑ دئیے جائیں۔خط کی کاپیاں اٹارنی جنرل اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو بھی بھجوائی گئی ہیں ۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پاکستان الیکشن کمشن کے لیے 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔اس سے قبل سپریم کورٹ نے وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے عہدے داروں کو طلب کر کے 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس پر سٹیٹ بینک نے یہ موقف اختیار کیا کہ حکومت کے فنڈ میں سے 21 ارب روپے الگ کر لیے گئے ہیں لیکن انہیں جاری کرنے کا اختیار صرف حکومت کے پاس ہے۔عید سے قبل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا تھا کہ پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم برقرار ہے ، تاہم سیاسی پارٹیاں کسی اور تاریخ پر اتفاق کرتی ہیں تو سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر غور کر سکتی ہے۔سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اسے 27 اپریل کی سماعت میں اپنے فیصلے سے آگاہ کیا جائےلیکن 13 پارٹیوں پر مشتمل حکمران اتحاد اور حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اور یہ امکان موجود نہیں ہے کہ ان کے درمیان کسی تاریخ پر اتفاق ہو سکے۔
اس سے قبل وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ پنجاب میں سپریم کورٹ کی مقرر کردہ تاریخ پر الیکشن کرانے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر چکی ہیں کہ وہ اقلیتی فیصلہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ سپریم کورٹ کے چار جج اپنے الگ الگ نوٹ میں الیکشن سے متعلق سوموٹو کو مسترد کر چکے ہیں۔
دوسری جانب بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزرا اور ارکان نے اپنی تقاریر میں سپریم کورٹ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں مداخلت کرنے سے باز رہے۔وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عدالتی حکم کے ذریعے باربار پارلیمنٹ کی توہین کی جارہی ہے ‘ اقلیتی فیصلہ کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے‘ اسپیکر صاحب محض خط سے کام نہیں چلے گا، سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کا استحقاق مجروح کیا ہے‘ قومی اسمبلی کی استحقاق کمیٹی میں یہ معاملہ اٹھایا جائےاورتوہین پارلیمنٹ کی کارروائی کی جائے ‘پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن محسن داوڑ نے چیف جسٹس کو سیاسی جماعت کا کارکن قراردیتے ہوئے کہاکہ پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے اورچیف جسٹس وساتھی ججز کواس کمیٹی میں طلب کیا جائے ‘وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہناتھاکہ اسٹیٹ بینک عدالتی حکم پر الیکشن کمیشن کو فنڈزجاری نہیں کرسکتا ‘ہمیں غیرآئینی کام کرنے کو کہاجارہاہے ‘اگر الیکشن تین چارماہ بعد ہوں تو کیاہوجائے گا‘جے یو آئی کی رکن شاہدہ اختر نے کہاکہ ابھی نہیں توکبھی نہیں‘ہمیں پارلیمان کی بالا دستی کیلئے کھڑا ہونا ہوگا‘فیصلے ہم پر مسلط کیے جا رہے ہیں اور طریقہ بھی بتایا جا رہا ہے ،یہ فیصلے نہیں سہولت کاری ہے‘بجٹ ہمارا اختیار ہے کسی اور کا نہیں ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رکن امیر حیدر خان ہوتی نے کہاکہ ہم نے اس آئین کا ہر حال میں تحفظ کرنا ہے،آئین میں کہاں لکھا ہےممبر ووٹ نہیں کرتاتو گنا بھی نہیں جائیگا؟سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ آتا تو اسمبلی برقرار رہتی‘وہ غیر آئینی فیصلہ کس کا تھا،آئین میں کہاں لکھا ہے چار ججز کا فیصلہ نہیں 3 ججز کا فیصلہ ماننا ہے‘کیا وجہ ہے تمام سیاسی مقدمات تین ججز کے سامنے ہی آتے ہیں۔ہم لاء کو تسلیم کرتے ہیں لیکن سپریم کورٹ میں مدر ان لاء کی مرضی نہیں چلنے دینگے۔۔
سپیکر راجہ پرویز اشرف کے خط، وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے اتحادی جماعتوں کے قائدین کے اجلاس میں کئے جانے والے فیصلوں اور پھر قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہونے والی کارروائی کے دوران اراکین پارلیمنٹ کے لب ولہجے اوروفاقی دارالحکومت کی سیاسی اور حکومتی فضا کے ساتھ ساتھ قرائن اس امر کی غمازی کر رہے ہیں کہ بات بگڑ چکی ہے اور حالات دسترس سے باہر نکل رہے ہیں۔
