کاکڑ کی نگراں حکومت 6 ماہ چلے گی یا 2 سال؟

اتحادی حکومت کی قبل از وقت تحلیل اور انوار الحق کاکڑ کی بروقت بطور نگراں وزیر اعظم تقرری کے باوجود آئینی، معاشی اور سیاسی مشکلات میں گھرے پاکستان میں الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے بے یقینی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے انوار الحق کاکڑ کی نگراں حکومت 90 دن کی بجائے طویل عرصے تک اپنی خدمات انجام دیتی نظر آتی ہے۔
خیال رہے کہ آئین کے تحت نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی حکومت کو 90 روز میں الیکشن کروانا ہوں گے، تاہم اتحادی حکومت نے آخری دنوں میں نئی مردم شماری کی منظوری دی ہے جس کے تحت الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں کرے گا۔الیکشن کمیشن کے ایک سابق عہدے دار کے مطابق ’وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے سینکڑوں حلقوں کی حلقہ بندیاں کرنے میں چھ یا اس سے زیادہ ماہ لگ سکتے ہیں۔‘ تاہم اس حوالے سے حتمی رائے الیکشن کمیشن یی ہو گی کہ اسے حلقہ بندیاں کرنے میں کتنا وقت لگے گا اور الیکشن کب ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے بعد الیکشن کمیشن کو امیدواروں کی طرف سے قانونی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑے۔
اس لئے نگراں وزیراعظم کا تقرر ہونے کے باوجود عام انتخابات 90 روز کی آئینی مدت میں ہوتے دکھائی نہیں دے رہے اور اس بات کا اقرار سابق وفاقی وزرا بھی جاتے جاتے کر گئے ہیں، جس کے بعد ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے کہ آیا اگر 90 روز کی آئینی مدت کے اندر انتخابات ممکن نہیں ہوتے تو کیا یہ آئین کی خلاف ورزی نہیں ہو گی۔
سابق مشیر امور کشمیر قمرزمان کائرہ کے مطابق عام انتخابات جنوری یا فروری میں ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر 90 روز میں الیکشن ہونا آئینی تقاضا ہے تو نئی مردم شماری کے مطابق نئی حلقہ بندیاں بھی آئین کا تقاضا ہے۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ 2017 کی مردم شماری کو عارضی طور پر قبول کیا گیا تھا، اگر اتفاق رائے نا ہوتا تو بڑا نقصان ہونا تھا۔
اس سے قبل سابق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی کہا تھا کہ نئی مردم شماری کی منظوری کے بعد عام انتخابات جنوری یا فروری تک ملتوی ہو سکتے ہیں۔اعظم نذیر تارڑ کے مطابق نئی مردم شماری کی منظوری کے بعد آئینی طور پر ضروری ہے کہ نئی حلقہ بندیاں کی جائیں اور اس کے لیے الیکشن کمیشن کو 120 روز کا وقت درکار ہے۔
اس کے علاوہ سابق وفاقی وزیر داخلہ راناثنااللہ بھی انتخابات میں تاخیر کا خدشہ ظاہر کر چکے ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ آئندہ عام انتخابات فروری یا مارچ تک جا سکتے ہیں کیوں کہ نئی مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں ہونا آئین کا تقاضا ہے۔۔
اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی راجہ ریاض 2 سال تک انتخابات میں تاخیر کا خدشہ ظاہر کر چکے ہیں۔سینیئر سیاست دان نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ نومبر میں انتخابات کے انعقاد سے ملک کی معاشی مضبوطی میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک انتخابات نہیں دیکھ رہے جب تک ملک مالی استحکام حاصل نہیں کر لیتا۔
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن میں 90 روز سے زیادہ کی تاخیر ہوتی ہے تو سپریم کورٹ آئین کی تشریح کرتے ہوئے آئینی و قانونی سوالات
نون لیگ نواز شریف کی باعزت وطن واپسی ممکن بنا پائے گی؟
بھی اٹھا سکتی ہے۔
