بڑی وکلاء تنظیم بھی جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف میدان میں

سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر اکبر نقوی مبینہ آڈیو لیک اور اربوں روپے کے نامی اور بے نامی اثاثوں کے الزامات میں پھنستے نظر آتے ہیں۔ مسلم لیگ ن لائرز ونگ اور ایڈووکیٹ میاں داوؤد کے بعد اب پاکستان بار کونسل نے بھی سپریم جوڈیشل کونسل سے جسٹس مظاہر نقوی پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔پاکستان بار کونسل نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کردیا ہے جس میں جسٹس مظاہر پر الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی نقوی کی مبینہ طور پر آڈیو لیکس کے بعد وکلا کی جانب سے ان کے خلاف تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے، قبل ازیں ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز بھی دائر ہوچکے ہیں اور آج پاکستان بار نے بھی ان کے خلاف باضابطہ طور پر تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے۔پاکستان بار کونسل کی جانب سے شکایت آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت دائر کی گئی ہے۔پاکستان بار کونسل کی جانب سے  جسٹس مظاہر علی نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کئے گئے ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر علی اکبر کے خلاف سنجیدہ نوعیت کے الزامات سامنے آئے ہیں اس لیے ان کے پر عائد الزامات کی تحقیقات ضروری ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں عدالت عظمیٰ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف یہ چوتھی درخواست دائر کی گئی ہے اس سے قبل میاں داؤد ایڈووکیٹ نے 2 صفحات پر مشتمل درخواست سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کی تھی جس میں جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس کی فوری سماعت اور ان سے عدالتی امور واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل عمرانڈو ہو جانے والے سابق وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ آڈیو لیک ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف جائیدادوں سے متعلق ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے انفرادی طور پر جمع کروایا گیا تھا، جس میں سپریم کورٹ کے جج پر مس کنڈکٹ اور ناجائز اثاثے بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ جسٹس مظاہر نقوی مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے، ناجائز اثاثے بنائے، فرنٹ مینوں کے ذریعے ناجائز دولت اکٹھی کی۔ریفرنس میں مزید کہا گیا تھا کہ جسٹس مظاہر نقوی کے اثاثوں میں حالیہ دنوں میں 3 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔  جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے ناجائز اثاثے،آڈیو لیک جیسے معاملات کی تحقیقات کی جائیں۔دائر کیے گئے ریفرنس میں استدعا کی گئی تھی کہ سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس مظاہر اکبر نقوی اور ان کے اہل خانہ کی جائیدادوں اور اثاثوں کی تحقیقات کرے۔

علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) لائرز فورم پنجاب کی جانب سے بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف درخواست جمع کرائی گئی تھی۔جنرل سیکریٹری مسلم لیگ (ن) لائرز فورم زاہد حسین کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر ججز کے ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا تھا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) لائرز فورم پنجاب نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ جسٹس مظاہر ’مس-کنڈکٹ‘ کے مرتکب ہوئے، اس لیے سپریم جوڈیشل کونسل ان کے خلاف کارروائی کرے۔ وکلا کی جانب سے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف آڈیو لیک کی بنیاد پر شکایت دائر کی گئی تھی۔وکلا نے درخواست میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ جسٹس مظاہر نقوی کی مبینہ گفتگو کا ٹرانسکرپٹ بھی شامل کیا ہے اور درخواست کی ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں چار درخواستیں دائر ہونے کے باوجود چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی طرف سے کوئی نوٹس نہ لینے اور کسی قسم کی کارروائی نہ ہونے سے کئی خدشات کو جنم دیا ہے۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ ماضی میں تو کئی دفعہ کسی چھوٹی سی شکایت پر گھنٹوں کیا منٹوں میں بھی ججز کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہی ہیں جبکہ ماضی قریب میں جسٹس قاضی فائز عیسی عدالتوں میں پیش ہوچکے ہیں پھر جسٹس مظاہر نقوی کی آڈیوز اور شکایات پر کارروائی سے آخر کیا چیز مانع ہے؟ کون سی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف کارروائی سے گریزاں ہیں۔

نیب ترامیم کیس عدالت اعظمیٰ میں سماعت کیلئے مقرر

Back to top button