کیا حکومت کے تحریک انصاف سے بیک ڈور مذاکرات جاری ہیں؟

آئین کی گولڈن جوبلی کے حوالے سے منعقدہ کنونشن میں سابق صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم شہباز شریف سے پی ٹی آئی کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مذاکرات کیلئے اپوزیشن کو شہباز شریف کے پاس آنا ہو گا کیونکہ وہ وزیراعظم ہیں جبکہ دوسری طرف کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے مرکزی رہنما اور مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے مولانا اسد محمود نے عمران خان سے مذاکرات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں فارن فنڈنگ فتنے عمران خان سے مذاکرات پر مجبور نہ کیا جائے۔ نیازی جیسے ملک دشمن سے کوئی بات نہیں ہو سکتی جبکہ دوسری طرف سینئر صحافی و تجزیہ کار منصور علی خان نے دعوی کیا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان غیر رسمی رابطے شروع ہو چکے ہیں۔ اپنے ایک وی لاگ میں ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی اور پی ڈی ایم حکومت خاص کر پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان غیر رسمی روابط شروع ہو چکے ہیں اور معاملات طے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ جو سیاست دان ٹی سکرینز پر اور جلسے جلوسوں پر نظر آتے ہیں حقیقت میں بالکل مختلف ہوتے ہیں، جو کچھ نظر آتا ہے حقیقت میں سب کچھ اور ہوتا ہے، دونوں جانب سے مل بیٹھ کر معاملات طے کرنے پر رضا مندی ظاہر کی گئی ہے۔
منصور علی خان نے مزید انکشاف کیا کہ ن لیگ کے سینئر یعنی ٹاپ 5 رہنماؤں میں سے ایک جو کہ کیبنٹ کا حصہ بھی ہیں انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی سے غیر رسمی رابطے ہوئے ہیں، حکومت چاہتی ہے کہ گارنٹی دی جائے کہ معاملات طے ہونے کے بعد عمران خان اس پر کاٹا نہیں لگائیں گے، اس لیڈر کا مزید کہنا ہے ماضی میں بھی پی ٹی آئی سے مذاکرات کر چکا ہوں اور ماضی میں بھی ایسا ہو چکا ہے کہ بہت سی باتیں جو طے ہوئی تھیں بعد میں ان پر عمل نہیں کیا جاتا اس لیے اب کی بار ن لیگ گارنٹی مانگ رہی ہے، بظاہر جلسوں میں دونوں جماعتیں ہی کہیں گی کہ ہم مذاکرات نہیں کریں گے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
سینئر صحافی نے مزید انکشاف کیا کہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کے سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ نے ٹیبل ٹاک سے منع کیا ہے اور کہا کہ آپس میں معاملات طے کر لیں ہم اپنا چھکاؤ کسی ایک جانب نہیں کریں گے، ہم آپ کی صرف معاونت کریں گے۔ کیونکہ 25 مئی کو پی ٹی آئی کی جانب سے ریلی کا اعلان کرنے پر بھی ان دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جن میں سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے اہم کردار ادا کیا تھا لیکن وہ مذاکرات بھی کامیاب نہ ہو سکے اور کچھ بھی طے نہ پا سکا۔ سینئر صحافی منصور علی خان نے انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ روز پہلے سینئر صحافی حستات ملک نے یہ خبر آن ایئر بتائی کہ حکومت نے سپریم کورٹ سے بھی بیک ڈور مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا ہے، اس کے علاوہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دوسرے ججوں جو ان کے دھڑے میں شامل نہیں ہیں ان کے ساتھ رابطے تیز کر لیے ہیں اور یہ جج اب ان کے ساتھ بینچوں کا حصہ بھی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اگلے 24 گھنٹے بہت اہم ہیں جن کے درمیان ’میک‘ اور ’بریک‘ کا فیصلہ ہو گا، اور انہی 24 گھنٹوں کے دوران حکومت نے الیکشن کمیشن کو جو 10 اپریل تک 21 ارب روپے مہیا کرنے تھے وہ مہیا نہیں کئے جس پر سپریم کورٹ دیکھتے ہیں کیا کارروائی کرتی ہے۔ الیکشن کمیشن کو فنڈز فراہم کرنے کے حوالے سے وزیرِ اعظم کی زیرِنگرانی کابینہ کا اجلاس بھی ہوا لیکن اس میں کوئی بھی حتمی فیصلہ نہ ہو پایا۔ اس بارے میں پارلیمنٹ نے بل بھی پاس کر دیا ہے کہ فنڈز نہ دیئے جائیں۔
تاہم دوسری طرف ذرائع کا دعوی ہے کہ نواز شریف پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کے ساتھ مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں۔ نون لیگ کے قائد نواز شریف فی الحال عمران خان سے بات چیت کرنے کی بجائے انھیں گرفتار کر کے قانون کے تابع کرنے اور احتساب کرنے کے حق میں ہیں۔ جبکہ پارٹی رہنماؤں کی اکثریت اس معاملے میں ان کی ہمنوا ہے تاہم پارٹی کے بعض معتدل مزاج رہنماؤں کا خیال ہے کہ سیاسی تناؤ کم کرنے کے لیے بات چیت کا دروازہ کھولنا ضروری ہے۔
بعض ذرائع کا دعوی ہے کہ پس پردہ ہونے والی کوششوں نے دونوں فریقوں کو بات چیت کی ٹیبل پر آنے کے لئے تیار کیا۔ تاہم مریم نواز کی جانب سے عمران خان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کی کھلی مخالفت نے اس منظرنامے کو دھندلا دیا۔ اب لندن سے اطلاع آئی ہے کہ نواز شریف بھی چیئرمین پی ٹی آئی سے کسی قسم کی بات چیت کے حق میں نہیں۔
لندن میں موجود شریف خاندان سے قریبی ذرائع کے مطابق نواز شریف سمجھتے ہیں کہ اس موقع پر عمران خان سے بات چیت کرنا انہیں این آر او دینے کے مترادف ہو گا۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں درجنوں مقدمات کا سامنا کرنے والے عمران خان پر ہاتھ ہلکا رکھنا پڑے گا اور وہ ممکنہ گرفتاری سے بچ نکلیں گے، جو آج نہیں تو کل ہونی ہے اور اس کا فیصلہ حکومت کر بیٹھی ہے۔
ذرائع کے بقول نواز شریف اس وقت عمران خان سے بات چیت کے بجائے ان کی گرفتاری میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ کہ مریم نواز بھی اپنے والد کے موقف کی حامی ہیں۔ لندن میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان سے بات چیت کے بجائے ان کی پارٹی سے دہشت گرد جماعتوں کی طرح نمٹنے کا بیان بھی مریم نواز کی اپنی سوچ نہیں، بلکہ وہ نواز شریف کے خیالات کو آگے بڑھارہی ہیں۔
ادھر لاہور میں موجود نون لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان یا پی ٹی آئی سے بات چیت نہ کرنے کے معاملے پر نون لیگ کے رہنماؤں کی اکثریت کا اتفاق ہے۔ تاہم پارٹی کے صدر اور وزیراعظم شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ عمران خان سے بات چیت کے بغیر ملک میں سیاسی استحکام لانا مشکل ہے اوراس کے نتیجے میں نا صرف انہیں گورننس میں مشکلات درپیش رہیں گی۔ بلکہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی بھی کھٹائی میں پڑی رہے گی۔لہٰذا وہ عمران خان سے بات چیت کا کڑوا گھونٹ بھرنے پر آمادہ ہیں۔ اس معاملے میں وفاقی وزیر قانون اعظم تارڑ، شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعد رفیق، طارق فضل چوہدری اور نون لیگ کے بعض دیگر معتدل مزاج رہنما پارٹی صدر شہباز شریف کے ہمنوا ہیں۔ تاہم پرویز رشید، رانا ثنا اللہ، خواجہ آصف، میاں جاوید لطیف، طلال چوہدری، عابد شیر علی، خرم دستگیر، برجیس طاہر اور دیگر کئی رہنما نواز شریف اور مریم نواز کے مؤقف کے تائید کنندہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق احسن اقبال کا معاملہ کچھ ادھر اور کچھ ادھر والا ہے۔ احسن اقبال پارٹی کے اندر بھی اس حوالے سے کھل کر بات نہیں کرتے کہ ان کے خیال میں عمران خان کو ٹیبل پر لانے سے متعلق شہباز شریف کی پیشکش بہتر ہے یا ان سے کسی قسم کی بات چیت نہ کرنے کا نواز شریف اور مریم نواز کا موقف درست ہے۔ نون لیگی ذرائع کے بقول اس اسٹیج پر جبکہ عمران خان کے حواس پر گرفتاری کا خوف غالب ہے، ایسے میں مذاکرات شروع کیے جانے پر عمران خان کو اس خوف سے نجات مل جائے گی۔اس کے نتیجے میں وہ بھرپور طریقے سے انتخابی مہم پر فوکس کر سکیں گے اور پھر یہ کہ بات چیت کا دروازہ کھولنے کی صورت میں انتخابات سے کچھ پہلے چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کرکے دو سے تین ماہ تک جیل میں رکھنے کا مجوزہ حکومتی پلان بھی دھرا رہ جائے گا۔
نون لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے قریب پارٹی کے بعض رہنما اس سلسلے میں نواز شریف کو لچک دکھانے پرآمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان رہنماؤں کا خیال ہے کہ جس طرح سابق آرمی چیف کی مدت میں توسیع اور عمران خان کے خلاف کامیاب تحریک عدم اعتماد کے بعد فوری الیکشن میں نہ جانے کے معاملے پر نواز شریف کو منا لیا گیا تھا، عمران خان سے بات چیت پر بھی انہیں آمادہ کر لیا جائے گا۔ لیکن اس معاملے پر نواز شریف کی جانب سے لچک دکھانے کے حوالے سے فی الحال قطیعت سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
مبصرین اور تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ ملک میں سیاسی بحران کے پیشِ نظر تمام سٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات ناگزیر ہیں اور یہ وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے نگران حکومت، اصلاحات اور انتخابات کے حوالے سے اتفاق پیدا ہوسکتا ہے تاہم اس کے امکانات تاحال واضح نہیں۔
