اپوزیشن کا فوج سے امریکی خط پر لب کشائی کا مطالبہ

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنے خلاف دائر اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو سپیکر کے ہاتھوں امریکی سازش قرار دے کر مسترد کروانے کے بعد حزب اختلاف کی تینوں بڑی جماعتوں نے دھمکی آمیز خط پر نیشنل سیکورٹی کمیٹی میں طے پانے والے نکات کے حوالے سے فوجی ترجمان سے وضاحت مانگ لی ہے کیونکہ آرمی اور آئی ایس آئی چیفس نے کمیٹی اجلاس میں شرکت کی تھی لیکن اب اس حساس ترین معاملے پر معنی خیز خاموشی سادھے ہوئے ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ فوجی قیادت نے آف دی ریکارڈ اپوزیشن کے اس موقف کی تصدیق کی ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کوئی بیرونی سازش نہیں، اور نہ ہی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں ایسا کوئی ثبوت سامنے آیا تھا، تاہم فوجی قیادت اس معاملے پر کوئی باضابطہ موقف نہیں دے رہی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عمران خان اپنا بیرونی سازش نامی چورن تیزی سے فروخت کر رہے ہیں۔

چنانچہ اب سابق صدر آصف زرداری، بلاول بھٹو، شہباز شریف، اور مولانا فضل الرحمن نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر سے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے منٹس بارے وضاحت کرنے کا کہا ہے جس میں فوجی قیادت موجود تھی۔ وجہ یہ ہے کہ اسی کمیٹی اجلاس کی بنیاد پر عمران خان نے دعوی کیا ہے کہ کمیٹی میں موجود تمام لوگوں نے غیر ملکی سازش کی توثیق کی تھی۔

تاہم دوسری جانب یہ بھی سچ ہے کہ نیشنل سیکورٹی کونسل کے گزشتہ ہفتے ہونے والے اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں بیرونی سازش، تحریک عدم اعتماد یا حزب اختلاف کے کسی سازش میں ملوث ہونے کا ذکر نہیں تھا۔ لیکن بیرون ملک سے بھیجے گئے مراسلے کی زبان کو غیر سفارتی قرار دیا گیا تھا اور ملکی معاملات میں مداخلت پر معاملہ ان کے پاکستان میں امریکی سفیر اور واشنگٹن میں اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اپوزیشن ذرائع کا دعوی ہے کہ آف دی ریکارڈ فوجی قیادت انکے موقف سے متفق ہے لیکن کھل کر سامنے آنے سے گریزاں ہے چنانچہ انہیں سامنے آکر وہی موقف دہرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اپوزیشن ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آف دی ریکارڈ فوجی قیادت نے ان کو بتایا کہ نیشنل سیکورٹی کونسل کے سامنے صرف پاکستانی سفیر اسد مجید خان کا لکھا ہوا مراسلہ رکھا گیا جو کہ معمول کا مراسلہ تھا جس میں امریکی عہدیدار ڈونلڈ لو کے ساتھ ملاقات کی روداد لکھی گئی تھی۔ اپوزیشن کو بتایا گیا کہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے سامنے پاکستان کے خلاف کسی امریکی سازش کے کوئی شواہد پیش نہیں کئے گئے۔ اپوزیشن کو یہ بھی بتایا گیا کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے کسی اپوزیشن رہنما کے خلاف غداری کے الزام کی کوئی توثیق نہیں کی اور یہ کہ کمیٹی اجلاس کے منٹس میں ایسی کوئی بات موجود نہیں۔ اپوزیشن ذرائع کے مطابق فوجی قیادت نے اس موقف سے بھی اتفاق کیا کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے حساس معاملات پر سیاست ملکی مفاد میں نہیں۔

شہباز شریف نے 5 اپریل کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان کے پاس اپوزیشن کی آئین شکنی کے ثبوت موجود ہیں تو انہیں فوری سامنے لایا جائے تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ اس سے پہلے بلاول بھٹو نے ترجمان پاک فوج سے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس بارے وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ایک جذباتی خطاب میں ترجمان پاک فوج سے کہا ہے کہ وہ وضاحت کریں کہ کیا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں قومی اسمبلی کے 197 اراکین کو بیرونی سازش کا حصہ قرار دے کر غدار قرار دیا گیا تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اپنی بغاوت کو جواز دینے کے لیے بیرونی سازش کا واویلا کررہے ہیں۔

دفتر خارجہ اور وزارت دفاع بھی اس معاملے میں وضاحت کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا دفتر خارجہ اور وزارت دفاع 7 سے 27 مارچ کے درمیان بیرونی سازش کے حوالے سے سرکاری مراسلات کو سامنے لاسکتے ہیں؟ یقینا اس سطح کی سازش کو بجائے سفارتی مراسلے کے ہماری اپنی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ذریعے بے نقاب ہونا چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ عمران کی انا پاکستان سے زیادہ اہم نہیں ہے لہذا فوجی قیادت اس معاملے پر لب کشائی کرے۔

سابق صدر آصف زرداری نے بھی کہا ہے کہ ’مبینہ دھمکی آمیز خط کے بارے میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے ممبران یہ کہہ چکے ہیں کہ بیرونی سازش کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے کہا کہ ‎عمران کمیٹی کے عسکری ممبران کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ سازش بارے میرے موقف سے مطمئن ہوگئے تھے لہٰذا سکیورٹی کمیٹی کے عسکری ممبران وضاحت کریں اور اپنی پوزیشن کلئیر کریں۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ اب یہ معاملہ عمران یا متحدہ اپوزیشن کا نہیں بلکہ ملک کا ہے لہٰذا اس طرح کے حساس نوعیت کے معاملات میں تاخیر بھی ملک کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔‘

چیف جسٹس نے 31مارچ اجلاس کے منٹس طلب کرلیے

اسی دوران جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عمران ببانگ دہل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہونے والے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ اپوزیشن کے خلاف بیرونی سازش بارے میرے موقف سے مطمئن ہوگئے تھے۔
لہٰذا اب اسٹیبلشمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرے۔ دوسری جانب اپوزیشن ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ آج کسی وقت فوجی ترجمان کی جانب سے ان کے مطالبے پر کوئی رد عمل آ سکتا ہے۔

Opposition demands release of US troops Urdu news | video

Related Articles

Back to top button