الیکشن سے پہلے ن لیگ کے لئے پری پول دھاندلی کا تاثر کیوں ؟

مختلف سیاسی جماعتوں نے پری پول دھاندلی کا واویلا مچانا شروع کر دیا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کا اصرار ہے کہ تمام جماعتوں کو ‘لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا کیے جانے کی بجائے پاکستان مسلم لیگ نون کے حق میں فضا بنائی جا رہی ہے۔

فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک کے بانی اور سابق عہدیدار سرور باری کے مطابق اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن میں حصہ لینے کے یکساں مواقع میسر نہیں ہیں۔ ان کے بقول تحریک انصاف کے افراد مقدمات اور پولیس کے چھاپوں کی زد میں ہیں جبکہ اس کے رہنما یا تو چھپے ہوئے ہیں یا پھر جیلوں میں ہیں اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کو عدالتوں سے ضمانت ملنے کے باوجود رہائی نہیں مل رہی۔سرور باری بتاتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے کی جانے والی انتخابی حلقہ بندیوں کے خلاف سیاسی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے تحفظات نے بھی آئندہ الیکشن کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔یہ تاثر عام ہے کہ ان انتخابی حلقہ بندیوں سے ایک بڑی اور طاقتور حلقوں کی پسندیدہ جماعت نون لیگ کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ سرور باری کے بقول قانون کے مطابق حلقہ بندیاں ایک ضلع کی حدود سے ملحقہ دوسرے ضلع کی حدود سے منسلک ہو سکتی ہیں لیکن اس مرتبہ ایسے حلقے بھی بنا دیے گئے ہیں، جو دو صوبوں کی حدود پر مشتمل ہیں۔ جو قانونی طور پر درست نہیں ہے۔‘‘سرور باری کے مطابق پاکستان میں انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے تقریبا 163 طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان میں پری پول دھاندلی کے اکاون، پولنگ والے دن دھاندلی کے پچھتر اور پوسٹ پولنگ دھاندلی والے گیارہ طریقے شامل ہیں۔

دوسری جانب مبصرین کے مطابق الیکشن سے پہلے بڑا ووٹ بنک رکھنے والی برادریوں اور گروہوں کے لیڈروں کو انتظامیہ کی طرف سے بلا کر سیاسی وابستگی بدلنے کے لیے دباؤ ڈالنا اور میڈیا کے یکطرفہ استعمال سے کسی پارٹی کی متوقع جیت کا تاثر بنا دینا بھی قبل از انتخاب دھاندلی ہے۔ آج کل پاکستان کی کئی سیاسی جماعتیں انتخابی دھاندلی کے حوالے سے ایسے کئی خدشات کا اظہار کر رہی ہیں۔

دوسری طرف پنجاب میں وزیر اعلی کے مشیر اور الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد احمد کے مطابق حلقہ بندیوں بر چودہ سو اعتراضات کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ گزشتہ الیکشن سے پہلے یہ تعداد دو ہزار سے بھی زیادہ تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن ان اعتراضات کو دیکھ کر فیصلہ کر دے گا، جس کو پھر بھی اطمینان نہ ہو وہ ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہ دینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ صرف ان لوگوں کو روکا جا رہا ہے، جو نو مئی کے واقعات میں ملوث تھے جبکہ باقی سب کو سیاست میں حصہ لینے اور سیاسی سرگرمیاں کرنے کی اجازت ہے۔

تاہم آمدہ الیکشن کے حوالے سے سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انتخابی دھاندلی کو کیسے روکا جائے؟اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دھاندلی روکنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ الیکشن کمیشن، سیاسی جماعتیں، عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی الیکشن کے امور کی کڑی نگرانی کریں۔ عوام کو الیکشن کے امور کے بارے میں درست آگاہی فراہم کی جائے اور الیکشن کے عملے کو صحیح طریقے سے تربیت دی جائےاور پولنگ کے عملے کو متعلقہ حلقے میں کسی امیدوار سے فیور لینے سے باز رکھا جائے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر میڈیا ریاستی کنٹرول سے اپنے آپ کو آزاد کر لے، لوگ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے نکلیں اور پولنگ ایجنٹس پوری طرح تربیت یافتہ ہوں تو پھر پولنگ والے دن دھاندلی کے امکانات بہت کم ہو جاتے ہیں۔ ان کے خیال میں اگر سیاسی جماعتیں خود ہی شفاف الیکشن پر قائل ہو جائیں تو پھر کسی دوسرے کے لیے دھاندلی ممکن نہیں رہے گی تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں جس بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوتی رہی ہے۔ اب ڈیجیٹل میڈیا

افغانستان عالمی دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ کیسے بن گیا؟

کی موجودگی میں اتنے بڑے پیمانے پر دھاندلی ممکن نہیں ہے۔

Related Articles

Back to top button