نون لیگ نے مانسہرہ سے انتخابی مہم کے آغاز کا فیصلہ کیوں کیا؟

پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کی گہماگہمی شروع ہو چکی ہے۔ ملک کی بڑی اور اس وقت اقتدار کے لیے پسندیدہ سمجھی جانے والی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کا اپنی مرکزی سیاسی مہم کا آغاز 22 جنوری کو مانسہرہ سے شروع کرنے کے قوی امکانات ہیں۔
ن لیگ جس کو پنجاب اور بالخصوص جی ٹی روڈ کی سیاسی پارٹی سمجھا جاتا ہے، وہ 2013 کے بعد اب 2024 میں بھی مانسہرہ سے انتخابی مہم کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ ن لیگ کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے آئندہ عام انتخابات کے لیے این اے 15 مانسہرہ سے کاغذات نامزدگی بھی جمع کروا رکھے ہیں۔یہی نہیں نواز شریف اس سے قبل بھی 2 مرتبہ ہزارہ ڈویژن سے الیکشن لڑ چکے ہیں جبکہ ضلع مانسہرہ کے اسی حلقے سے ن لیگ 8 میں سے 6 بار فاتح رہ چکی ہے۔
لیگی حلقوں کے مطابق مانسہرہ نواز شریف کا دوسرا گھر ہے۔ 90 کی دہائی سے لے کر آج تک یہاں کے عوام مسلم لیگ ن کو ووٹ اور سپورٹ کر رہے ہیں۔ نواز شریف کو علاقے سے ملنے والی بے پناہ محبت انہیں یہاں سے انتخابات لڑنے کے لیے مجبور کرتی ہے۔‘ مزیدبرآں ن لیگ کے قائد نواز شریف کی صاحبزادی اور پارٹی کی سینیئر نائب صدر مریم نواز کو مانسہرہ کی بہو کہا جاتا ہے کیونکہ اُن کے شوہر کیپٹن صفدر کا تعلق ضلع مانسہرہ سے ہی ہے۔
’مانسہرہ میں جلسہ کرنا مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کا ایک اہم حصہ سمجھا جاریا ہے لہٰذا تاخیر کی بجائے انتخابی مہم کا آغاز ہی مانسہرہ جلسے کے انعقاد سے کر رہے ہیں۔‘
دوسری جانب سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ ’سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مخصوص علاقوں سے باہر نکل کر دوسری جگہوں پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرتی ہیں تا کہ اُنہیں صرف ایک علاقے کی جماعت نہ سمجھا جائے۔‘مسلم لیگ ن چونکہ پنجاب کی سیاسی جماعت تصور کی جاتی رہی ہے، اس لیے یہ اُن کی ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے کہ وہ 2013 کے بعد اس بار بھی انتخابی مہم ایک دوسرے صوبے یعنی مانسہرہ سے شروع کر رہی ہے۔‘
سہیل وڑائچ نے مزید کہا کہ ’مانسہرہ پر ن لیگ کے اعتماد کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ کیپٹن صفدر کا آبائی علاقہ ہے۔ کیپٹن صفدر ماضی میں بھی اپنے خاندان کے سیاسی اثرورسوخ کے سبب یہاں سے انتخاب جیت چکے ہیں۔‘سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ ’ن لیگ پنجاب کی حد تک ایک مضبوط سیاسی جماعت ہے اور صوبہ خیبرپختونخوا یا کسی اور صوبے میں نواز شریف کا آئندہ انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہو گا۔‘
دوسری جانب مبصرین کے مطابق’ماضی کا اطمینان بخش ریکارڈ اور مقامی سیاسی شخصیات کی مضبوط پوزیشن نواز شریف کی مانسہرہ پر اعتماد کی وجہ ہے۔‘ سیاسی اعتبار سے مانسہرہ مسلم لیگ ن کا گڑھ رہا ہے۔ 1993 اور 1997 کے انتخابات میں این اے 14 جو اس وقت تورغر اور مانسہرہ کا ایک ہی قومی اسمبلی کا حلقہ تھا سے مسلم لیگ ن فاتح رہی تھی۔ 2013 میں بھی این اے 14 اور این اے 15 دونوں حلقوں سے مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کی۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’بلدیاتی انتخابات 2022 میں صوبہ خیبر پختونخوا میں واحد ضلع مانسہرہ تھا جہاں کی تین تحصیلوں کے چیئرمین مسلم لیگ ن سے تھے حالانکہ صوبے میں حکومت تحریک انصاف کی تھی۔ اسی طرح 2018 کے عام انتخابات میں بھی صوبہ بھر میں واحد ضلع مانسہرہ تھا جہاں سے مسلم لیگ صوبائی اسمبلی کی تین اور قومی اسمبلی کی ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔‘
تجزیہ کاروں کے مطابق نواز شریف اس مرتبہ این اے 15 سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اسی حلقے سے 2013 میں نواز شریف کے داماد کیپٹن ر صفدر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ 2018 میں کیپٹن صفدر کے جیل میں ہونے کی وجہ سے ان کے بھائی سجاد اعوان ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ یہ نشست دس سال سے مسلم لیگ ن کے پاس ہے۔
مبصرین کے مطابق ’2013 میں نواز شریف نے ٹھاکرہ سٹیڈیم میں تاریخی جلسہ کیا تھا۔ اس مرتبہ بھی توقع کی جارہی ہے کہ مانسہرہ میں ن لیگ کا بڑا جلسہ ہو گا جو اُن کی انتخابی مہم کو کامیاب بنانے میں مددگار ثابت ہو گا۔‘
