پراجیکٹ عمران نے پاکستان کو کیسے برباد کیا؟

پراجیکٹ عمران خان لانچ کرنے والے نے ملکی مفادات کو وہ نقصان پہنچایا ہے جس کا آنے والے کئی سالوں تک ازالہ ممکن نظر نہیں آتا۔ تاہم اپنے اک حالیہ خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ کوئی مجھے بتا دے کہ مجھے مائنس کر کے پاکستان کا کیا فائدہ ہو گا؟ تو میں پیچھے ہٹ جاتا ہوں۔ خان صاحب جان لیں کہ اگر آپ سیاست میں نہ ہوتے تو پاکستان کا کیا فائدہ ہوتا اور پاکستان کس کس نقصان سے بچ سکتا تھا۔

خان صاحب اگر آپ نہ ہوتے تو 2011 میں جمہوریت کے خلاف تحریک انصاف کے مردہ گھوڑے میں جان ڈال کر کنگز پارٹی وجود میں نہ آئی ہوتی اور اسٹیبلشمنٹ کو جمہوریت کے خلاف شب خون مارنے کے لیے آپ کا کندھا میسر نہ آتا۔

اگر آپ نہ ہوتے تو سی پیک اور پاکستان کی ترقی کے خلاف 2014 کا 126 دن کا دھرنا نہ ہوا ہوتا۔ خان صاحب اگر آپ نہ ہوتے تو 2014 میں پاکستان کی ترقی کے دشمنوں کو پاکستان میں انتشار کے لیے ایک پاکستانی چہرہ میسر نہ آتا۔

خان صاحب اگر آپ نہ ہوتے تو 2018 میں پاکستان میں جمہوریت کی بساط نہ لپیٹی جاتی۔ اگر آپ نہ ہوتے تو 2018 کا الیکشن چوری نہ ہوا ہوتا۔ اگر آپ نہ ہوتے تو وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹیز میں تبدیل کرنے کا دلکش وعدہ کون کرتا؟ 90 دن میں کرپشن ختم کرنے کے لارے کون لگاتا؟ 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کے سبز باغ کون دکھاتا؟ ریاست مدینہ اور سادگی کے دعوؤں کے باوجود وزیر اعظم ہاؤس کا خرچہ ہر سال لگ بھگ ایک ارب روپے کون کرتا؟

خان صاحب اگر آپ نہ ہوتے تو تمام طرح کی سیاسی، صحافتی اور عدالتی آلائشوں کو اپنے ساتھ کون ملاتا؟ اگر آپ نہ ہوتے تو کون ہمیشہ نیوٹرل امپائر کی جدوجہد کا راگ الاپ کر امپائر کو اپنے ساتھ ملا کے کھیلتا؟ اگر آپ نہ ہوتے تو دنیا کو کیسے پتا چلتا کہ امپائر کے ساتھ ہوتے ہوئے، ایک پیج کے ہوتے ہوئے کیسے 4 سال تک کچھ بھی ڈلیور نہیں ہو سکتا؟ کون بتاتا کہ رائٹ بتا کر کیسے لیفٹ نکلنا ہے؟ کون بتاتا کہ کرپشن کے خلاف بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود 28 ہزار ارب روپے سے زائد کی کرپشن کیسے کرنی ہے؟

خان صاحب اگر آپ نہ ہوتے تو یہ کون بتاتا کہ کس طرح صرف 4 سال میں دو کروڑ لوگوں کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیلا جا سکتا ہے؟ کیسے پاکستان کی اوسط فی کس سالانہ آمدن 1800 ڈالر سے کم کر کے 1100 ڈالر تک لائی جا سکتی ہے؟ کیسے پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ ٹھپ کر کے پاکستان کی معیشت کو صرف ایک ہی جھٹکے میں 66 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا جا سکتا ہے؟ اگر آپ نہ ہوتے تو سی پیک کے معاہدے کی ساری تفصیلات عالمی مالیاتی ادارے تک کون پہنچاتا؟ آپ کے علاوہ یہ مہارت کس کے پاس تھی کہ ساڑھے 21 ہزار ارب روپے قرضہ لینے کے باوجود عوامی فلاح کا ایک بھی منصوبہ شروع نہ ہو سکے؟

اگر آپ نہ ہوتے تو پاکستان کرپشن میں مزید 23 درجے ترقی نہ کر سکتا اور 117 ویں سے 140 ویں نمبر تک کیسے پہنچتا؟ اگر آپ نہ ہوتے تو کیسے پاکستان کا جمہوری نظام نامکمل آمریت اور ہائبرڈ نظام میں تبدیل ہوتا؟ اور کیسے پاکستان جمہوری نظام والے ملکوں میں 105 ویں نمبر پر پہنچتا؟ کیسے فریجائل سٹیٹ انڈکس پاکستان کو فیلڈ سٹیٹ کے قریب ترین شمار کرتا؟

خان صاحب اگر آپ نہ ہوتے تو قومی ترقی کی شرح 6 فی صد سے کم ہو کر منفی 0.4 فی صد تک کیسے گرتی؟ کس طرح مزید 70 لاکھ لوگ بے روزگار ہوتے؟ اگر آپ نہ ہوتے تو پھر سانحہ کشمیر کیسے رونما ہوتا اور کیسے ہندوستان کشمیر پر اپنا تسلط جماتا؟ اگر آپ نہ ہوتے تو پاکستان مکمل طور پر عالمی تنہائی کا شکار کیسے ہوتا؟

اگر آپ نہ ہوتے تو کیسے مہنگائی کی شرح میں 22 فی صد تک کا ہوشربا اضافہ ہوتا؟ ڈالر 100 روپے سے 300 روپے تک کیسے پہنچتا؟ آٹا 32 روپے سے 140 روپے اور پٹرول 100 روپے سے 300 روپے فی لٹر تک کیسے پہنچتا؟ کیسے 22 کروڑ عوام کے وسائل کو 4 سال تک صرف اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے میں جھونکا جاتا؟ کیسے بجلی، ادویات، پٹرولیم اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوتا اور بار بار ہوتا؟ کیسے کورونا امداد فنڈ کے 350 ارب بدعنوانی کی نذر ہوتے؟

اگر آپ نہ ہوتے تو دنیا کیسے جانتی کہ اداروں کو مضبوط کرنے کا نعرہ لگا کر 4 سال تک قومی اداروں کو صرف اور صرف اپنے ذاتی مقاصد کے لئے کیسے استعمال کرنا ہے؟ کیسے شوکت خانم ہسپتال جیسے قومی ادارے کو ملنے والے عطیات کو پاکستان تحریک انصاف کے لیے استعمال کرنا ہے؟ کیسے فارن فنڈنگ وصول کر کے اس سے پاکستان میں ریاست کے مفادات کے خلاف سرمایہ کاری کرنی ہے؟ اگر آپ نہ ہوتے تو بلین ٹری سونامی کے منصوبے میں اربوں کی کرپشن کیسے ممکن ہوتی؟ اور اس کے پیچھے پوشیدہ کارفرما دستِ کرشمہ ساز کو سرکاری تحفظ کون دیتا؟

اگر آپ نہ ہوتے تو کیسے ایک ہزار ارب روپے سے زائد کی چینی، آٹا اور گندم کی کرپشن ہوتی؟ آپ نہ ہوتے تو ایل این جی گیس کی مہنگی درآمد اور ایل این جی ٹرمینلز کی تعمیر میں تاخیر سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان کون پہنچاتا؟ کون آئی ایم ایف کے سامنے ایک ارب ڈالر کے لیے ناک سے لکیریں کھینچتا؟ آپ نہ ہوتے تو کون عالمی مالیاتی ادارے کے اشاروں پر بجلی، گیس، پیٹرول، چینی، آٹے اور ادویات کی قیمتیں بار بار بڑھاتا اور غریب عوام پر عرصہ حیات تنگ کر کے ان کی بد دعائیں کماتا؟

خان صاحب اگر آپ نہ ہوتے تو کیسے آپ کی جماعت راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں اربوں روپے کی دہاڑی لگا سکتی تھی؟ کیسے مالم جبہ اور پشاور بی آر ٹی کے منصوبوں میں ڈیڑھ سو ارب روپے کی کرپشن ہوتی؟ کیسے 7 ارب ڈالر کا ایم ایل ون منصوبہ فائلوں میں ہی دم توڑ جاتا؟ اور خان صاحب اگر آپ نہ ہوتے تو کیسے کسی میں جرآت پیدا ہوتی کہ وہ عسکری املاک تنصیبات پر دھاوا بولے اور جناح ہاؤس کو جلا ڈالے اور پھر

بھڑکیں مارنے والے انقلابیوں کی’ بولتی‘ کیسے بند ہوئی؟

پوری ہٹ دھرمی سے دعوی کرتا پھرے کہ میں اپنی فوج کے ساتھ ہوں۔

Related Articles

Back to top button