آپریشن خلافت نامی ایک ناکام فوجی بغاوت کی کہانی

1995 میں وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے دور حکومت کے دوران مذہبی رجحان رکھنے والے فوجی افسران کی آپریشن خلافت نامی ایک بغاوت کی سازش پکڑی گئی تھی جسکے تحت فوج کی اعلیٰ قیادت، وزیر اعظم اور انکے شوہر آصف علی زرداری کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

اس سازش کا انکشاف تب ہوا جب 26 ستمبر 1995 کو فاٹا سے آنے والی ایک فوجی گاڑی کو محکمہ کسٹمز اینڈ ایکسائز انٹیلیجنس کی کوہاٹ چیک پوسٹ پر روکا گیا۔ گاری کی تلاشی کے دوران بھاری اسلحہ بشمول کلاشنکوفیں اور راکٹ لانچراز برآمد ہوئے۔

گاڑی میں موجود قاری سیف اللہ اختر نے چیک پوسٹ کے عملے پر رعب جمانے کر نکلنے کی کوشش کی اور ناکامی کے بعد مدد کے لیے بریگیڈئیر مستنصر باللہ کو فون کر دیا جس نے اسلحہ خریدنے کے لئے پیسے دیے تھے۔ لیکن اس دوران چیک پوسٹ کے عملے نے ملٹری انٹیلیجنس والوں کو اِس معاملے سے آگاہ کر دیا تھا لہذا بات بڑھ گئی جسکے بعد آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے معامکے کی تحقیقات کا حکم دیا تو سازش سامنے آگئی۔

تحقیقات کے مطابق 36 سینئیر فوجی افسران اور 20 سویلینز بغاوت کی سازس کا حصہ تھے اور یہ سب لوگ ٹیکسلا سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت کے رکن، مفتی صوفی اقبال کے مرید تھے۔صوفی صاحب اکثر 10 کور ہیڈ کوارٹر میں درس بھی دیا کرتے تھے۔

اس سازش کے اصل منصوبہ ساز میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی کا تعلق بھی تبلیغی جماعت سے تھا اور وہ افغانستان کے علاوہ بھارت میں پاکستانی خفیہ اداروں کی جانب سے اپنی خدمات بھی پیش کر چکے تھے۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ کور کمانڈروں کی کانفرنس کے دوران GHQ پر حملہ کر کے کانفرنس کے شرکاء کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے اور ملک میں شریعت کے نفاذ کا اعلان کر دیا جائے۔ اس کارروائی کے بعد قوم سے خطاب والی تقریر بھی تیار کی جا چکی تھی جس کے مطابق ملک کو ‘پاکستانی سنی مملکت’ قرار دیا جانا تھا جہاں ‘مکمل اسلامی نظام’ نافذ کیا جانا تھا۔

اس تقریر میں موسیقی، فلموں، اسقاط حمل کی ادویات، سودی کاروبار اور عورتوں کی تصاویر پر پابندی عائد کرنے کا حکم بھی موجود تھا۔ اس منصوبے میں حرکت الجہاد الاسلامی کا سربراہ قاری سیف اللہ اختر بھی بطور ایک مرکزی کردار شامل تھا، جس نے گاڑی سے برآمد ہونے والا اسلحہ فاٹا سے خریدا تھا اور جس کی جماعت کے ارکان نے کور کمانڈرز کی کانفرنس پر حملہ کرنا تھا۔

بعدازاں قاری سیف اللہ اختر کراچی میں اکتوبر 2007 میں بے نظیر بھٹو پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی م صوبہ سازی کے الزام میں دوبارہ گرفتار ہوا۔ تاہم 1999 میں جنرل مشرف کی حکومت آتے ہی سب سے پہلے کیے گئے اقدامات میں ایک میجر جنرل ظہیرالاسلام کو رہا کرنا بھی تھا۔

قاری سیف اللہ اختر کو ‘مقتدر حلقوں’ نے وعدہ معاف گواہ کے طور پر استعمال کیا اور وہ افغانستان میں ملا محمد عمر کا مشیر مقرر ہوا۔ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد قاری سیف اللہ اختر سعودی عرب فرار ہو گیا لیکن 2003 میں راولپنڈی میں مشرف پر ہونے والے قاتلانہ حملوں میں اس کا نام آگیا جس کے بعد 2004 میں دبئی کی حکومت نے اسے گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کر دیا۔ تاہم 2007 میں بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی سے پہلے اسے دوبارہ رہا کردیا گیا۔ بے نظیر بھٹو پر قاتلانہ حملے کے بعد قاری سیف اللہ اختر پہلے گرفتار ہوا اور پھر رہائی پانے کر افغانستان چلا گیا جہاں وہ امریکی افواج کے خلاف لڑتا ہوا مارا گیا۔

اب ہم آپ کو سینئر صحافی اعزاز سید کی زبانی آپریسن خلافت نامی فوجی بغاوت کے اس منصوبے کی تفصیلی کہانی سناتے ہیں۔ اعزاز سید بی بی سی کے لئے لکھی گئی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بتاتے ہیں کہ آرمی چیف جنرل عبد الوحید کاکڑ نے 30 ستمبر 1995 کو جی ایچ کیو راولپنڈی میں معمول کا کور کمانڈرز اجلاس طلب کر رکھا تھا اور منصوبہ یہ تھا کہ آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ اور کور کمانڈرز کانفرنس کے لیے آئے جرنیلوں کو ان کی رہائش کے لیے دیے گئے کمروں سے گرفتار کیا جائے گا۔

جس کے بعد راتوں رات میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی کو نیا آرمی چیف تعینات کر کے صدر مملکت فاروق احمد خان لغاری، وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کو گرفتار کر کے حکومت کا تختہ الٹنا اور پھر جنرل ظہیر الاسلام کا قوم سے خطاب کروانا تھا۔

اس مجوزہ خطاب کو عدالتی کارروائی کا حصہ بنایا گیا جس سے پتا چلتا ہے کہ اس مقصد کے لیے فوجی جوانوں کے بجائے مقبوضہ کشمیر اور افغانستان میں جہاد لڑنے والے مجاہدین کو استعمال کیا جانا تھا جس کی ساری ذمہ داری قاری سیف اللہ اختر کو سونپی گئی تھی۔

لیکن 30 ستمبر 1995 کی بغاوت کے لیے لائے جانے والے اسلحے اور قاری سیف اللہ اختر کی کوہاٹ میں گرفتاری کے بعد سارا معاملہ چوپٹ ہوتا نظر آ رہا تھا۔ چنانچہ بغاوت میں شریک مستنصر باللہ اور کرنل لیاقت علی راجہ راولپنڈی کی ایک مسجد میں میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی سے ملے۔

کرنل لیاقت علی راجہ کے عدالت میں دیے گئے بیان کے مطابق ’اس ملاقات میں جنرل عباسی نے کہا کہ 30 ستمبر ابھی بہت دور ہے ہمیں اپنا مقصد پورا کرنے کے لیے کور کمانڈرز کانفرنس سے پہلے ہی کسی دوسرے منصوبے کی منصوبہ بندی کر لینی چاہیے۔ میں نے انھیں بتایا کہ اگر ہم کور کمانڈرز کو گالف گراؤنڈ میں بے بس کر دیتے ہیں تب آپ کے خیال میں کیسا رہے گا۔ اس پر جنرل عباسی نے میری کمر تھپتھپاتے ہوئے کہا کہ نوجوان تم بہت بہادر ہو۔‘اسکے بعد سب اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔

تاہم سب کو فکر تھی کہ فوج کی حراست میں قاری سیف اللہ اختر کہیں سازش کا بھانڈا نہ پھوڑ دے۔ لیکن قاری ایک تجربہ کار شخص تھا اور ایسی صورتحال سے نمٹنے کے طریقوں سے آگاہ تھا، اس نے گرفتاری کے بعد فوجی حکام سے پوچھ گچھ کے دوران اپنی زبان بند رکھی اور یہی ظاہر کیا کہ وہ یہ اسلحہ کشمیری مجاہدین کی مدد کے لیے لا رہا تھا۔ تب جہاد کشمیر حلال تھا۔ اس دوران اسلحے سمیت برآمد ہونے والی کار کے مالک کرنل لیاقت علی راجہ اور بریگیڈئیر مستنصر باللہ سے پوچھ گچھ بھی ہوئی مگر کسی کو اصل منصوبے کی بھنک تک نہ پڑی۔

بتایا جاتا ہے کہ بریگیڈئیر مستنصرباللہ نے اپنے کچھ کاغذات مفتی سعید نامی شخص کو دیے اور ہدایت کی کہ انھیں جلا کر ضائع کر دیا جائے۔ بعدازاں فوجی حکام نے مفتی سعید سے اس تقریر کی نقل بھی برآمد کی تھی جو ملک کا اقتدار سنبھالنے کے بعد میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی نے کرنا تھی۔ مفتی سعید ان فوجی افسران کے ساتھ وہ واحد شخص تھے جو ہر معاملے سے آگاہ تھے۔

عمران خان کی قیادت میں حکومت مضبوط ہوئی ہے

اس دوران کرنل لیاقت راجہ کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور 25 اور 26 ستمبر 1995 کو وہ ٹوٹ گیا۔ اس نے فوجی حکام کو ’آپریشن خلافت‘ کا مکمل منصوبہ اور تمام افراد کے نام بتا دیے۔ یوں فوجی حکام نے 100 فوجی افسران کو فوری گرفتار کر کے ان سے تفتیش شروع کر دی۔

سینئر صحافی اعزاز سید کے مطابق 28 اور 29 ستمبر کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے والے بریگیڈئیر خورشید کے سامنے بریگیڈئیر مستنصر باللہ کو پیش کیا گیا اور ان سے مخاطب ہو کر بتایا گیا ’آپریشن خلافت ختم ہو گیا۔‘
فوجی حکام کی تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایک موقع پر بریگیڈئیر مستنصر باللہ تب کے کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹینینٹ جنرل غلام محمد ملک کے بھی بڑے پرستار تھے۔

غلام محمد ملک چونکہ مذہبی ذھن رکھنے والے شخص تھے اس لیے مستنصر باللہ نے ایک موقع پر یہ پلان بھی کیا تھا کہ آرمی چیف کی ملک میں عدم موجودگی کے دوران ان سے درخواست کی جائے کہ وہ اقتدار پر قبضہ کر لیں مگر یہ نہ ہو سکا۔

بریگیڈئیر مستنصر باللہ ان سے خصوصی شناسائی بھی رکھتے تھے اور دعویٰ کرتے تھے کہ مذکورہ افسر کو ان کے آپریشن کی تفصیلات کا علم ہے۔ تاہم جب اس وقت ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ میجر جنرل علی قلی خان کو کور کمانڈر راولپنڈی کے بارے میں علم ہوا تو وہ انھیں گرفتار کرنے کے لیے نکل گے۔

تاہم کور کمانڈر کو اس سے پہلے ہی اطلاع ہو گئی کہ ملٹری انٹیلیجنس کو سب پتہ چل چکا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے کور کمانڈر لیفٹینینٹ جنرل ملک علی قلی کے ہاتھوں گرفتاری سے قبل خود ہی وزیراعظم بے نظیربھٹو کے پاس چلے گئے اور انھیں ساری کارروائی کے بارے میں آگاہ کر دیا۔

فوج کی طرف سے کارروائی کے نتیجے میں میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی، بریگیڈئیر مستنصر باللہ، دو کرنل اور38 دیگر افراد کو فیلڈ کورٹ مارشل کی کارروائی میں سزائیں سنا دی گئیں۔ قاری سیف اللہ اختر، مفتی سعید اور دیگر نے بھی قید کاٹی تاہم سویلین ہونے کے باعث فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی سے بچ گئے۔

میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی 2002 میں رہا ہوئے اور 2009 میں وفات پا گئے۔ مستنصر باللہ نے رہائی کے بعد 2008 میں ’آپریشن خلافت‘ اور ’جمہوریت کفر، خلافت فرض ہے‘ کے عنوان سے کتابیں بھی لکھیں جو اب مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔

اعزاز سید بتاتے ہیں کہ 5 اپریل 2015 کو انہوں نے لاہور میں بریگیڈئیر ریٹائرڈ مستنصر باللہ سے ملاقات کی۔ وہ رہائی کے بعد تنہا کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے۔ انھوں نے اپنے دستخط سے مجھے ایک کتاب بھی پیش کی۔ وہ اپنے بیتے کل پر تفصیل سے بات کرنے سے گریزاں تھے۔

مفتی سعید اسلام آباد کے نواح میں مری کے راستے میں اپنا ایک مدرسہ قائم کیے ہوئے ہیں اور وہ بھی اس موضوع پر بات کرنے سے گریزاں ہیں۔ یہ وہی مفتی سعید ہیں جنھوں نے برسوں بعد تحریک انصاف کے سربراہ اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان کا پہلے ریحام خان سے اور پھر ان کی طلاق کے بعد بشریٰ بی بی سے نکاح پڑھوایا۔ قاری سیف اللہ اختر رہائی کے بعد پاکستان، افغانستان اور دبئی میں رہے۔

دبئی سے گرفتاری کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ پاکستانی جیل میں گزارا اور پھر رہا کردیے گے۔ پھر وہ افغانستان چلے گئے جہاں ان کی ایک امریکی ڈرون حملے میں موت ہو گئی۔

Related Articles

Back to top button