سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ یوتھیا کیوں کہلایا؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کے 3 رکنی بینچ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں الیکشن التوا کیس میں ایسا فیصلہ سنایا ہے جو بعض ماہرین قانون کے مطابق ان کے لیے حیران کن ہے ناقدین کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم یہ تین رکنی بینچ ماضی میں بھی تحریک انصاف کے حق اور ن لیگ کے خلاف فیصلے دیتا رہا یے۔اسی وجہ سے اس بینچ کی تشکیل کو ہی ن لیگ نے مسترد کر دیا تھا اور مسلم لیگ نے کے قائد میاں نواز شریف نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ جب انھیں بینچ ہی قبول نہیں تو وہ اس کا فیصلہ کیسے قبول کرینگے۔خیال رہے کہ الیکشن التوا کے معاملے پر پہلے 9 رکنی بینچ بنایا گیا تھا جو پہلے 7 رکنی ہوا اور پھر سکڑتے سکڑتے 3 رکنی تک پہنچ گیا جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔
3 رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم دیا اور ساتھ ہی انتخابات کا سارا شیڈول بھی بنا کر دے دیا۔اس کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ تمام جماعتیں اس بات پر زور دیتی رہیں کہ سماعت کے لیے فل کورٹ یا لارجر بینچ بنایا جائے لیکن استدعا مسترد ہو گئی اور فیصلہ اسی 3 رکنی بینچ نے سنایا۔سابق اٹارنی جنرل شاہ خاور نے اس فیصلے سے قبل اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان میں تقسیم بہت واضح ہو چکی ہے اور کسی بھی فیصلے سے یہ تقسیم مزید گہری ہوگی۔
گزشتہ کچھ عرصے میں سپریم کورٹ کے مذکورہ 3 ججوں کے بارے میں عمرانڈو ہو کر ایک خاص طرف جھکاؤ کا تاثر خاصا بڑھ گیا ہے اور پیر کے روز الیکشن کمیشن آف پاکستان کے وکیل عرفان قادر نے اس 3 رکنی بینچ کے عوامی تاثر پر بات کی اور بعد ازاں 4 اپریل کو سپریم کورٹ کے باہر کچھ وکلا نے ایسے نعرے لگائے اور کچھ ایسے بینر بھی اٹھا رکھے تھے جن میں سپریم کورٹ کے ایک تحریک انصاف کی طرف جھکا ؤکے بارے میں اشارے کیے گئے تھے۔اب دیکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے اس 3 رکنی بینچ نے اس کے علاوہ اور کیا ایسے فیصلے کیے ہیں جن سے ایک ایسا تاثر قائم ہو گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے عمران خان کے عشق میں گرفتار بعض مخصوص جج تحریک انصاف کے حق میں اور مسلم لیگ ن کے خلاف فیصلے دیتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے معاملے میں جب سپریم کورٹ کے سامنے ایک صدارتی ریفرنس آیا تو سپریم کورٹ کے 5 میں سے 3 ارکان نے گزشتہ سال 17 مئی کو ایک ایسا فیصلہ دیا جسے بینچ میں شامل دوسرے جج صاحبان اور وکلا نے آئین کو از سر نو لکھے جانے کے مترادف قرار دیا۔اس مقدمے میں عدالت کے سامنے بنیادی قضیہ یہ تھا کہ آیا پاکستان تحریک انصاف کے وہ اراکین اسمبلی جنہوں نے پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے موقع پر پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹ ڈالے کیا ان کے ووٹ شمار کیے جائیں گے یا نہیں ؟اور کیا وہ بدستور ممبرانِ اسمبلی رہیں گے ؟تو اس پر سپریم کورٹ کے اس 3 رکنی بینچ نے وہ فیصلہ دیا کہ جس سے مذکورہ ممبران اسمبلی نہ صرف نااہل ہوگئے بلکہ ان کے ووٹ بھی شمار نہیں کیے گئے۔
سپریم کورٹ کے اسی 3 رکنی بینچ نے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی اس رولنگ کو خلاف قانون قرار دیا تھا جس کے تحت پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے بطور پارٹی صدران کی ہدایت کے خلاف دیے گئے ووٹ مسترد کیے گئے تھے۔اس عدالتی حکم نامے کے بعد حمزہ شہباز کی جگہ پاکستان تحریک انصاف کے اتحادی چوہدری پرویز الٰہی وزیراعلٰی منتخب ہو گئے تھے۔ اس معاملے میں بھی سپریم کورٹ سے لارجر بینچ بنانے کی اپیل کی گئی تھی لیکن لارجر بینچ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اسی 3 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا تھا۔
نیب قانون میں ترمیم کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی درخواست بھی یہی 3 رکنی بینچ سن رہا ہے اور اس مقدمے کی 9 فروری کو ہوئی سماعت میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا تھا کہ ملک کے سارے مسائل کا حل عام انتخابات ہیں۔اگر بات کی جائے جسٹس اعجاز الاحسن کی تو یہ اس وقت سپریم کورٹ کے ججز کی سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر ہیں اور ماضی میں نوازشریف کے خلاف پانامہ کیس میں نگران جج کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔
