تحریک انصاف اور تحریک طالبان نے میانوالی ائیر بیس پر ہی حملہ کیوں کیا؟

سینئر صحافی اور کالم نگار شکیل انجم نے کہا ھے کہ 4 نومبر کو تحریک طالبان اور 9 مئ کو تحریک انصاف کی جانب سے "یکساں اور مخصوص مقاصد کے تحت” میانوالی ائر بیس پر دہشت گردانہ حملے کئے گئے، ایک نے سیاسی کارکنوں کا روپ دھارا اور دوسرے گروہ نے دہشتگرد تنظیم کی شکل میں اسے اپنا ہدف بنایا۔ دونوں کا مقصد پاکستان کی سلامتی کے اداروں کی صلاحیتوں کو چیلنج کرکے پاکستان دشمنوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ اس ملک کے سکیورٹی ادارے اپنی اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنے کے قابل نہیں لیکن پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی دونوں کو منہ کی کھانا پڑی ھے۔ اپنے ایک کالم میں شکیل انجم کہتے ہیں کہ 4 نومبر کے دہشت گردوں اور ان کے سہولتکاروں کو معلوم ہوگیا کہ وہ غلط تھے اور انہیں پیشہ ور فوج کا سامنا کرنا پڑا اور نو حملہ آوروں میں کوئی بچ نہیں جاسکا جبکہ 9مئی کے دہشتگرد کیونکہ اپنی سیاسی پارٹی کی چھتری کے نیچے حملہ آور ہوئے تھے جس کی بنیاد پر سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نرم رویہ اختیار کیا اور فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا جس کا مطلب اس دہشتگرد گروہ نے غلط لیا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں اپنا بیانیہ تبدیل کر دیا اور 9مئی کے واقعے میں شریک دہشت گروں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے مظلوم سیاسی جماعت کے طور پر دوبارہ میدان سیاست میں اپنی لائینیں سیدھی کرنے لگے۔ اپنے دور اقتدار میں سیاسی قیدیوں کو نشان عبرت بنانے اور اپنے سیاسی مخالفین کو "رندہ پھیر کر سیدھا کرنے” والی تحریک انصاف اب اپنے اس لیڈر کے لئے جیل میں محلوں جیسی مراعات اور آسائشیں مانگ رہی ہے جس نے اپنے دور میں سیاسی مخالفین کے سیلوں سے شدید گرمی کے موسم میں بھی پنکھے اتروا دئیے، وہی گروہ تحریک انصاف کے لئے لیول پلینگ فیلڈ کا مطالبہ کر رہا ہے جو خود اخلاقی اور آئینی اقدار کو روندتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں آیا تھا۔
شکیل انجم کا کہنا ھے کہ ریاست کے خلاف پی ٹی آئی کی جانب سے کی جانے والی دہشتگردی پر ماضی کے نظام عدل کا ایک مخصوص سیاسی پارٹی کے حق میں جانبدارانہ اور آئین مخالف کردار تھا جس نے ملک کی ریاستی رٹ اور آئینی وقار کو نقصان پہنچایا ۔ خود ساختہ اور من پسند فیصلوں کے ذریعے قانون سازی کا آئینی کےاختیارات پارلیمنٹ سے ایوان عدل میں منتقل کردیئے گئے۔جو رفتہ رفتہ بحال ہو کراپنے اپنے ایوانوں میں واپسی کے راستے پر ہیں۔ 9 مئی کی دہشتگردی میں ملوث تحریک انصاف کے کارکنوں نے میانوالی ائر بیس پر حملہ کیا لیکن انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا , وہ ائر بیس کی حدود میں داخل ہونے میں ناکام ہوئے تاہم انہوں نے ریاست کی سلامتی کے ادارے کے خلاف نفرت کا اظہار قریبی چوک میں نصب جنگی جہاز کو آگ لگا کر کیا ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وقتی درگزر سے کام لیا اور کسی جانی نقصان سے بچنے کے لئے ردعمل کا اظہار نہیں کیا جبکہ 4نومبر کو اسی ائر بیس پر دہشتگردی کرنے والوں کے خلاف پیشہ ورانہ طور پر حملہ ناکام بناتے ہوئے امریکی اسلحہ سے لیس تمام دہشتگردوں کو ہلاک کردیا-
شکیل انجم کا کہنا ھے کہ تحریک طالبان کے مقابلے میں تحریک انصاف کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے موثر ردعمل ظاہر کرنے میں تاخیر کے نتیجے میں ریاست کے خلاف دہشتگردی کے نظریہ پر یقین رکھنے والے گروہ کی حوصلہ افزا ئی ہوئی۔ انہوں نے ماضی کے عدل کے ایوانوں کی سہولت کاری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کومظلوم ظاہر کرکے عدالتوں سے رجوع کرنا شروع کردیا اور اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف دہشتگردی کے جرائم کو درست عوامی ردعمل قرار دلانے میں کسی حد کامیاب ھونے کے بعد ریاست کے خلاف اپنا مشن مکمل کرنے کے لئے دوبارہ قومی دھارے میں واپس آنے کے لئے تیار ہیں- عمران خان کی منفی سیاست پر تنقید کرنے والے تجزیہ کار دہشت گردی کی حالیہ لہر کا ذمہ دار عمران خان کو قرار دے رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی ماضی کی حکومت کے دوران عمران خان کے حکم پر 42 ہزار دہشت گرد جن میں 7ہزار باقاعدہ تربیت یافتہ دہشت گرد شامل تھے، کو جیلوں سے نکال کر پاکستان کے مختلف عالاقوں میں آباد کیا گیا ، ان لوگوں کو امن و امان برباد کرنے کے علاوہ 9 مئی کی بغاوت میں ریاستی اداروں کے خلاف استعمال کیا گیا لیکن نظام عدل کی نظرمیں عمران خان نے کوئی گناہ نہیں کیا جبکہ ذوالفقار علی بھٹو اور میاں نوازشریف ناکردہ
گناہوں پر سزاوار ٹھہرے
