کیا الیکشن میں تحریک انصاف مائنس ہونے والی ہے؟

سینئر لکھاری و سابق سفیر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ موجودہ قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے میں دو ماہ سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے جس کے بعد پی ڈی ایم اتحاد اقتدار چھوڑنے کا پابند ہوگا اور اس کی جگہ نگراں حکومتیں لے لیں گی، جو انتخابات کے انعقاد کے لیے ضروری ہیں۔ لیکن انتخابات کے حوالے سے اب بھی غیریقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ وزرا کی جانب سے مبہم موقف اختیار کرنے کی وجہ سے قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ آیا انتخابات وقت پر ہوں گے یا نہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ملیحہ لودھی کا مزید کہنا ہے کہ حال ہی میں ہونے والی ڈیجیٹل مردم شماری نے بے یقینی میں اضافہ کیا ہے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق حلقہ بندیاں نہ ہونے کی وجہ سے انتخابات کی تاریخ اکتوبر سے آگے بڑھ سکتی ہے
ملیحہ لودھی کے مطابق ملک میں بے یقینی صرف معیشت تک محدود نہیں۔ اس نے انتخابی میدان کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ اب اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انتخاب لڑنے کی اجازت کس کو ہوگی اور کس کو نہیں، اور کیا پی ٹی آئی چیئرمین کو ان کے خلاف کسی ایک قانونی مقدمے میں نااہل قرار دے دیا جائے گا۔سینیئر وزرا الزام لگارہے ہیں کہ 9 مئی کے تشدد کی اجازت پارٹی اور اس کی ہائی کمان نے دی تھی۔ ایسے میں پی ٹی آئی کی قسمت بھی غیر واضح ہے۔ اس بات سے قطع نظرکہ انتخابی عمل کی ساکھ کے لیے اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے، مائنس پی ٹی آئی انتخابات کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔
ملیحہ لودھی کا مزید کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے زیادہ تر دوسری سطح کی قیادت پر مشتمل ایک نئی پارٹی، استحکامِ پاکستان کو ایسے نتائج کی راہ ہموار کرنے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ ووٹرز کو دو روایتی جماعتوں سے ہٹ کر انتخاب کی پیشکش کی جاسکے اور مقابلے کو کافی حد تک حقیقی بنانے کی کوشش کی جاسکے۔ لیکن کیا یہ پارٹی واقعی مقابلہ کرپائے گی؟ یہ فیصلہ ووٹرز کریں گے۔
ملیحہ لودھی کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ اس بات کا کلیدی اشارہ ہوگا کہ ووٹر کس حد تک انتخابی عمل کو آزاد اور منصفانہ سمجھتے ہیں۔ اگرچہ انتخابات کے راستے میں بہت سے نامعلوم عناصر ہیں، لیکن یہ یقین کے ساتھ کیا کہا جاسکتا ہے کہ کم ٹرن آؤٹ کے بعد جیتنے والی حکومت کے مینڈیٹ پر سوالیہ نشان ضرور اٹھیں گے۔اگر ووٹرز ٹرن آؤٹ کم ہوا تو جو لوگ کم ٹرن آؤٹ پر اقلیتی ووٹ کے ذریعے عوامی عہدہ حاصل کریں گے، ان کا عوامی نمائندگی کا مینڈیٹ بھی کمزور ہوگا۔ اس سے ان کی جیت کی ساکھ پر شکوک پیدا ہوں گے اور یہ ان کی قانونی حیثیت کو بھی کمزور کرے گا۔عوامی عدم اعتماد کے اس ماحول میں ایک کمزور مینڈیٹ حاصل کرنا، جس میں رائے دہندگان کی اکثریت ووٹ ڈالنے سے گریز کرسکتی ہے، اس سے نہ تو حقیقی اختیارات حاصل ہوں گے اور نہ ہی یہ کمزور جمہوریت کو بااختیار بنائے گی۔
ملیحہ لودھی کا مزید کہنا ہے کہ ووٹرز ٹرن آؤٹ کے علاوہ ایک اور منظرنامے کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے کہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار پی ٹی آئی کو مائنس عمران خان کے فارمولے کے تحت انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پنجاب میں انتخابی معرکہ منفرد شکل اختیار کرلے گا جہاں قومی اسمبلی کی نشستیں 4 جماعتوں مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی، استحکامِ پاکستان پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی میں تقسیم ہوجائیں گی حالانکہ صوبے میں مؤخر الذکر کی حمایت کافی عرصے سے کم ہو چکی ہے۔ ایسے میں کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے مجموعی اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ ایسے میں کمزور مینڈیٹ والی اتحادی حکومت کا معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے درکار جرات مندانہ فیصلہ کن اقدامات
غیر ملکی بزنس مین پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریزاں کیوں؟
کرنے ناممکن ہو گا۔
