غیر ملکی بزنس مین پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریزاں کیوں؟

پاکستان کی معیشت کو درپیش چلینجز جاری ہیں اایسے میں جہاں ملک میں براہ راست سرمایہ کاری میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے وہیں بیرون ممالک سے پاکستان بھیجی جانے والی رقوم میں گزشتہ سال کے مقابلے میں گیارہ مہینوں میں 3.7 بلین ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔دوسری طرف بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف مائل کرنے کیلئے حکومت نے سپیشل انوسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے قیام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت فوج سمیت سرکاری ادارے بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرکے کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پرتوجہ دیں گے۔ حکومت نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ وہ آئندہ مہینوں میں کئی بلین ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری کو ممکن بنائے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے امریکہ کی بڑی برینڈ کمپنیاں پاکستان کے روایتی شعبوں میں منافع بخش کاروبار کر رہی ہیں جبکہ حالیہ سالوں میں پاکستانی نژاد ماہرین نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید شعبوں میں بھی کامیاب سرمایہ کاری کی ہے۔کاروباری شخصیات کا کہنا ہے کہ پاکستانی امریکی، اپنےوطن کی ترقی میں حصہ لینے کے خواہاں ہیں ۔ لیکن وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا پاکستان سیاسی عدم استحکام اور جمہوری اداروں کے فعال کردار میں فقدان کے وقت ایسے اقدامات اٹھانے کو تیار ہے جو سرمایہ کاری کو آسان بنا سکیں؟

امریکہ اور پاکستان میں ریئل اسٹیٹ ڈیویلپمنٹ، دواسازی، ہاسپیٹیلیٹی، اسٹیل، توانائی اور دوسرے شعبوں میں کاروبار کرنے والے سرمایہ کار مصدق چغتائی کہتے ہیں کہ پاکستان کو دور رس اور اہم فیصلےکرنا ہوں گے تاکہ اس بات سے قطع نظر کہ پاکستان میں کون سی حکومت برسر اقتدار ہے ملک ، بین الااقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک موزوں اور پرکشش منزل بن جائے۔اس سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ یہ بات بہت اہم ہے کہ ملک میں چند خاندانوں یا گروپوں کی اجارہ داری نہ ہو اور ہر کاروبار کو پھلنے پھولنے کے یکساں مواقع میسر ہوں ۔ مزید یہ کہ پاکستان کو دیکھنا ہوگا کہ اس کے ہم پلہ پوٹینشل رکھنے والے بنگلادیش، ویت نام، پرتگال اور میکسیکو جیسے ملکوں نے آخر کن پالیسیوں پر عمل کیا کہ وہ بزنس کے مراکز بن گئے۔”سب سے پہلے تو یہ کہ پاکستان میں بزنس کے لیے توانائی سستے نرخ پر دستیاب ہونی چاہیے تاکہ سرمایہ کار بین الااقوامی مسابقت میں پیچھے نہ رہیں اور اشیا کی پیداوار اور مینوفیچکرنگ کی لاگت کم ے کم رہے۔ علاوہ ازیں ،پاکستان کو خام مال کی درآمد پر تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز ختم کرنا ہوں گی۔”مصدق چغتائی کی نظر میں ایک اور اہم پہلو مشینری کی درآمد ی ڈیوٹی کو ختم کرنا ہے کیونکہ اس سے ملک میں بنائی گئی اشیا کی قیمتیں بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کر سکیں گی۔”پاکستان کی معیشت کی بحالی کا دارومدار ملک میں چھوٹے، درمیانے اور بڑے درجے کی مینوفیکچرنگ پر ہے لہذا ملک میں جدید مشینری کا استعمال ایک بڑی ترجیح ہونی چاہیے اور دوسال سے زیادہ پرانی مشینری کی در آمد پر پابندی ہونی چاہیے۔”

واشنگٹن ایریا میں مقیم کاروباری شخصیت محمد نسیم الدین کہتے ہیں کہ پاکستان کو موجودہ حالات میں سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرنے کے لیے تین بڑے کام کرنا ہوں گے۔”ایک تو پاکستان کو ایک اکنامک ڈپلومیسی کی مہم چلانا ہوگی۔ اس کو چلانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پاکستانی سفارت خانوں کے ذریعہ دنیا کے بڑے ممالک میں تسلسل کے ساتھ بزنس کمیونیٹی سے روابط قائم کئے جائیں تاکہ سرمایہ کاروں کو ملک کے قدرتی وسائل کے پوٹینشل، اس کے محل وقوع اور بڑی آبادی کی مارکیٹ کے بارے میں بتایا جاسکے۔”

اس کے علاوہ نسیم الدین کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ،پاکستانی امریکی کاروباری لوگوں کی، پاکستان میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے واسطے بہت اہم ہے۔”سرمایہ کار سب سے پہلے امن و ا مان اور استحکام پر توجہ دیتا ہے۔ اب شیل جیسی بڑی کمپنی کا پاکستان میں آپریشنز ختم کرنا ایک بڑا دھچکا ہے۔پاکستان کو پہلے جنوبی ایشیا میں اور پھر دنیا بھر میں بزنس کے لیے ایک پر کشش ملک بنانے

پرویز الٰہی کی واپسی میں بیٹا بڑی رکاوٹ ہے

کے لیے بہت سے ضروری اقدامات اٹھانے ہوں گے۔”

Back to top button