TTPحکومت پاکستان کو دھمکیاں کیوں دینے لگی؟

ٹی ٹی پی والوں سے سوال کرتی ہوں کہ تم سنہ 2007 سے ہمارے لیے لڑ رہے ہو کیا اپنے باپ پر حملہ برداشت کرو گے۔۔۔‘
یہ بیان لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ امِ حسان کی جانب سے گذشتہ روز سامنے آیا جس میں وہ اپنے شوہر پر سی ٹی ڈی کے مبینہ حملے کی تفصیلات بتا رہی ہیں اور تحریکِ طالبان پاکستان کو سی ٹی ڈی سے بدلہ لینے کا کہہ رہی ہیں۔
جس کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کے ساتھ بدسلوکی کی صورت میں خطرناک نتائج کی دھمکی دے دی ہے۔
اسلام آباد کی لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز ایک بار پھر میڈیا پر خبروں میں ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں پولیس نے ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت ایک مقدمہ درج کیا ہے جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی نے دھمکی دی ہے کہ اگر مولانا عبدالعزیز کے ساتھ بدسلوکی ختم نہ کی گئی، تو اس پر ردعمل سامنے آئے گا۔
کالعدم جماعت الاحرار، جو اب ٹی ٹی پی کا حصہ ہے، نے بھی اس طرح کی کارروائیوں پر حکومت کو خبردار کیا ہے۔ بدھ اکیس جون کے روز لال مسجد کے واٹس ایپ گروپوں میں یہ خبر شیئر کی گئی تھی کہ پولیس نے مولانا عبدالعزیز کو لال مسجد سے نکلتے ہوئے گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی۔ کچھ ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ اس دوران مولانا عبدالعزیز سے بدسلوکی بھی کی گئی اور وہ معمولی زخمی بھی ہو گئے تھے۔
پاکستان اور افغانستان میں شدت پسندی پر نظر رکھنے والے غیر سرکاری ادارے خراسان ڈائری کے ڈائریکٹر نیوز احسان اللہ ٹیپو محسود کا کہنا ہے کہ اس طرح کی دھمکیوں کو حکومت کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے۔انہوں نے بتایا، ”مولانا عبدالعزیز ٹی پی پی، القاعدہ بر صغیر، لشکر جھنگوی اور دوسرے جہادی حلقوں میں عزت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کی شدت پسندانہ کارروائیوں میں بھی لال مسجد کے آپریشن کے بعد بہت زیادہ تیزی آ گئی تھی اور ماضی میں فاٹا کہلانے والے پاکستانی قبائلی علاقوں میں بھی لال مسجد کے نام سے کئی مساجد بنائی گئی تھیں۔ تو، مولانا عبدالعزیز اور ٹی ٹی پی کا تعلق بہت قریبی نوعیت کا ہے۔‘‘
احسان اللہ ٹیپو محسود کے مطابق حال ہی میں ٹی ٹی پی نے اپنا جو ‘شیڈو گورنر‘ پنجاب کے لیے مقرر کیا، وہ بھی ماضی میں لال مسجد سے وابستہ رہا ہے۔ ”تو تمام سنی جہادی تنظیموں کے لیے مولانا عبدالعزیز، جامعہ حفصہ اور لال مسجد ایک طریقے سے نام نہاد ریڈ لائن ہی ہیں۔ لہٰذا یہ دھمکی انتہائی خطرناک ہے۔‘‘
اسلام آباد میں مقیم تجزبہ نگار سلمان مسعود کے خیال میں ٹی ٹی پی قومی سطح پر بڑے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سلمان مسعود نے بتایا، ”لال مسجد ماضی میں شدت پسندوں کا مرکز رہی ہے اور آج بھی اسلام آباد کی سلامتی کے لیے وہ ایک بڑا سکیورٹی رسک ہے۔ حکام کی طرف سے اس سکیورٹی رسک کو ختم نہ کرنا باعث تشویش ہے۔‘‘سلمان مسعود کے مطابق افغانستان میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ٹی ٹی پی کو ایک بار پھر طاقت مل رہی ہے۔ انہوں نے بتایا، ”سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی دوبارہ اپنی گروہ بندی کر رہی ہے اور وہ ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی لوگوں کو بھرتی کر رہی ہے۔‘‘
تجزیہ نگار ڈاکٹر سید عالم محسود کے مطابق ٹی ٹی پی مولانا عبدالعزیز کو اپنا پیشوا مانتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ، ”ان سب گروپوں کے آپس میں تعلقات ہوتے ہیں۔ سارے انتہا پسند اندر سے ایک ہی ہیں۔ بد قسمتی سے یہ سارے دہشت گرد گروہ ریاست کی پراکسی طاقتیں ہیں۔ اسی لیے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔‘‘
تاہم پاکستان اور افغانستان میں شدت پسند تنظیموں پر نظر رکھنے والے ایک اور تجزیہ نگار سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کی پوزیشن 2007 والی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا، ” ٹی ٹی پی حکومت کی کمزوری کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور لال مسجد میں حالیہ دنوں میں ہونے والے واقعات کو بھی وہ اسی طرح اچھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹی ٹی پی اب اتنی مضبوط نہیں، جتنی وہ دو ہزار سات میں تھی۔‘‘
پشاور سے تعلق رکھنے والی سابق رکن قومی اسمبلی بشریٰ گوہر کا کہنا ہے کہ اس طرح کی دھمکیاں باعث تشویش ہیں۔ انہوں نے بتایا، ”یہ سوال اٹھایا جانا چاہیے کہ کون لوگ ان کو دوبارہ خیبر پختونخوا میں لے کر آئے، تاکہ ایک نئی پراکسی وار شروع کی جا سکے۔ جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے خلاف کیا ایکشن ہوا؟ کیا حکومت کے پاس اتنی سیاسی قوت ہے کہ وہ دہشت گردوں کی فنڈنگ اورعسکریت پسندی کی فیکٹریاں بند کر سکے۔‘
واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے تو تاحال اس حوالے سے کوئی ٹھوس کارروائی سامنے نہیں آئی لیکن جمعرات کو تحریکِ طالبان پاکستان کے عمر میڈیا کی جانب سے جاری ایک بیان میں واقعے کی مذمت کی گئی اور مولانا عبدالعزیز کے خاندان کو ’تنہا نہ چھوڑنے‘ کی یقین دہانی کروائی گئی۔ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری اعلامیے میں سنہ 2007 کے لال مسجد آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس مرتبہ بھی ’کارروائی کے نتیجے میں خاموش نہیں رہا جائے گا اور شدید انتقام لیا جائے گا۔‘
خیال رہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں سنہ 2007 میں لال مسجد میں فوجی آپریشن کے دوران مبینہ طور پر ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں لال مسجد کی سابق انتظامیہ کے بقول خواتین بھی شامل تھیں تاہم ضلعی انتظامیہ اس دعوے کی تردید کرتی رہی ہے۔مولانا عبدالعزیر اس آپریشن میں برقعہ اوڑھ کر فرار ہوتے ہوئے پکڑے گئے تھے جبکہ
کیا اب بھی IMFپروگرام کی بحالی ممکن ہے؟
ان کی والدہ اور بھائی اس آپریشن میں ہلاک ہو گئے تھے۔
