پنجاب پولیس کی سیاسی بنیادوں پر دو دھڑوں میں تقسیم

پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت کے خاتمے کے بعد برسر اقتدار آنے والے وزیر اعلیٰ پرویزالٰہی کی جانب سے دو سو سے زائد سینئر پولیس افسران کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پنجاب پولیس اب دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے اور ایک دھڑا نون لیگ کے خلاف سیاسی بنیادوں پر انتقامی کارروائیاں کرنے سے انکاری ہو گیا ہے۔ وزیراعلٰی پرویز الٰہی نے اقتدار سنبھالتے ہی دعویٰ کیا تھا کہ 25 مئی کو پی ٹی آئی کا لانگ مارچ روکنے والے پولیس افسران اور احکامات دینے والی ن لیگی قیادت کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ بعد ازاں پنجاب پولیس کے 200 سے زائد افسران کے تبادلے کیے گئے اور انکے خلاف انکوائریاں شروع کر کے ایکشن کا آغاز کر دیا گیا جس سے پولیس کا مورال گر گیا۔ اسکے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف بھی مقدمات اور پکڑ دھکڑ کا آغاز کیا گیا۔

اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق نیو وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالٰہی کی جانب سے پولیس افسران کے خلاف کی گئی انتقامی کارروائیوں نے پولیس کو دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ پنجاب کے وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر نے پولیس افسران اور لیگی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے ٹاسک ایک پانچ رکنی کمیٹی کے سپرد کیا تھا جس میں تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد اور میاں اسلم سمیت تین پولیس کے اعلٰی افسران رکھے گئے تھے۔ لیکن ناگزیر وجوہات کی بنا پر ابھی تک ن لیگ کے خلاف اس پیمانے پر کارروائیاں دیکھنے کو نہیں ملیں جن کی پی ٹی آئی کے کارکنان توقع کر رہے تھے۔ ابھی تک صرف دو ممبران پنجاب اسمبلی نذیر چوہان اور طاہر مغل کو ہی گرفتار کیا گیا ہے لیکن وہ بھی ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں نون لیگ کی قیادت کے خلاف بڑے پیمانے پر انتقامی کارروائیاں اس لیے نہیں ہو پائیں کہ بیشتر پولیس افسران سیاسی انتقام کا حصہ بننے کو تیار نہیں۔

چین لکی آبنائے تائیوان میں امریکی جنگی بحری جہازوں پر گہری نظر

اردو نیوز کے مطابق لاہور پولیس کے ایک اعلٰی عہدے پر فائز پولیس افسر نے بتایا کہ ’انویسٹی گیشن ونگ کے دو افسران ایس ایس پی انویسٹی گیشن عمران کشور اور ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار کو یہ ٹاسک دیا گیا تھا کہ ان تمام مقدمات کی فہرست نکالیں جن میں لیگی کارکنوں کو نامزد کیا گیا تھا اور جن جن مقدمات میں وہ اشتہاری ہیں اور ضمانتیں نہیں لیں ان میں انہیں گرفتار کیا جائے۔‘جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کون سے مقدمات ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ لاہور کے چار تھانوں سول لائنز، ریس کورس، پرانی انار کلی اور لٹن روڈ میں لیگی رہنماؤں اور کارکنوں پر احتجاج اور دیگر الزامات پر ایک درجن سے زائد مقدمات درج ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مقدمہ نیب آفس پر حملے کا تھانہ چوہنگ میں درج کیا گیا تھا جس میں مریم نواز بھی نامزد ہیں اور وہ اشتہاری ہیں انہوں نے اس میں ضمانت بھی نہیں کروائی اور اس مقدمے میں دہشتگردی کی دفعہ شامل ہے۔دونوں پولیس افسران نے اعلٰی حکام کو صاف بتا دیا ہے کہ وہ کسی سیاسی مہم کا حصہ نہیں بنیں گے۔

چنانچہ اب ان افسران کے تبادلے کرنے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ وزیر داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر نے کہا کہ ’پولیس ایک ڈسپلنڈ ادارہ ہے کوئی بھی افسر اگر اپنے آئینی اور قانونی فرائض انجام نہیں دے گا تو وہ ٹیم کا حصہ بھی نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ 25 مئی کو جو کچھ ہوا وہ ساری دنیا نے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں پر ظلم کے جو پہاڑ توڑے گئے ان کا حساب ہر صورت لیا جائے گا۔

لاہور پولیس کے اعلٰی افسر نے بتایا کہ ’معاملہ محض ن لیگ کا نہیں۔ فورس کے اندر اصل تذبذب اس بات کا ہے کہ موجودہ حکومت ان پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی خواہاں ہے جو 25 مئی کو اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔‘’افسران کا چناؤ سیاسی بنیادوں پر‘پولیس کے اعلٰی افسر کے مطابق پولیس کا محکمہ اس وقت ایک طرح کی سیاسی کشمکش میں گھِر چکا ہے۔’پی ٹی آئی والے افسران کی تعیناتی میں یہ بات مد نظر رکھتے ہیں کہ وہ ن لیگ کے دور میں کہاں تعینات تھے۔ ن لیگ نے بھی ان افسران کا تعین کیا جو پی ٹی آئی دور میں مرکز نگاہ نہیں تھے۔ اس واضح تقسیم سے صورتحال بگڑ رہی ہے۔‘سابق آئی جی پنجاب خالد خواجہ نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ روش اور تاثر کسی صورت درست نہیں ہے۔’پولیس صرف اور صرف آئین اور قانون کے تحت چلتی ہے۔ پولیس کا سیاسی استعمال ادارے کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ اگر ایسا ہے تو پولیس میں تمام افسران سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ آئین و قانون اور حکومت وقت کی دی ہوئی آئینی اور قانونی ہدایات پر چلتے ہیں۔‘

Back to top button