کیا VPNکے ذریعے سوشل میڈیا تک رسائی ممکن ہے؟

سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کے درمیان موبائل انٹرنیٹ سروس بند جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بلاک ہیں تاہم بیشتر پاکستانیوں نے اس کا حل وی پی این کے ذریعے نکال لیا ہے۔ملک بھر میں جاری سوشل میڈیا بلیک آؤٹ کے دوران کئی انٹرنیٹ صارفین ایک دوسرے سے وی پی این کے حوالے سے سوالات پوچھتے نظر آتے ہیں۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان اس وقت 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پرنیب کی حراست میں ہیں،عمران خان کی گرفتاری کے دو گھنٹے بعد ہی ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے اور احتجاج شروع ہوگئے تھے، جس وجہ سے مقامی انتظامیہ نے متعدد شہروں میں دفعہ 144 نافذ کی تھی۔ اسی دوران وزارت داخلہ کی ہدایت پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے موبائل براڈ بینڈ سروسز، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی بلاک کر دیا تھا، پی ٹی اے کاکہنا تھا کہ انٹرنیٹ بندش غیر معینہ مدت کے لیے ہے۔

 تاہم شہریوں نے اس کا بھی حل نکال لیا، بیشتر لوگوں نے وی پی این کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کرنا شروع کیا۔خیال رہے کہ وی پی این کے معنی ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس ہے جسے انسٹال کرکے آپ سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال کرسکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ اس کے لیے آپ کے موبائل میں انٹرنیٹ سروس موجود ہو۔ جس طرح لوک کہانیوں میں ایک سلیمانی ٹوپی کا ذکر ملتا ہے جسے پہن کر آپ دوسروں کی نظر سے غائب ہو جاتے ہیں، اسی طرح وی پی این یا ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک ایک طرح کی سلیمانی ٹوپی ہے جو انٹرنیٹ صارفین کی لوکیشن کو چھپا دیتی ہے اور حکام کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ کس جگہ سے انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ صارفین وی پی این کی مدد سے ایک ملک میں بیٹھ کر اپنے آپ کو کسی اور ملک میں موجود ظاہر کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ پاکستان میں ہیں، لیکن وی پی این کی مدد سے خود کو برطانیہ، بیلجیئم یا کینیڈا، غرض کسی بھی ملک میں ظاہر کر سکتے ہیں۔ایسا ہونے سے وہ اپنے ملک میں موجود کسی بھی قسم کی پابندی کو بائی پاس کر سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر پاکستان میں اس وقت ٹوئٹر اور فیس بک پر سرکاری سطح پر پابندی عائد ہے لیکن جب کوئی صارف وی پی این کے ذریعے ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کرے تو وہ اس پابندی کو بائی پاس کر سکتا ہے۔پاکستان میں وی پی این کے استعمال کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے سروس کو رجسٹر کروانا ضروری ہے اور غیر رجسٹرڈ وی پی این کو استعمال کرنا خلاف قانون ہے۔عالمی سطح پر کئی کمپنیاں وی پی این سہولت مہیا کرتی ہیں جو صارفین مفت یا فیس ادا کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب شہریوں اور کاروباری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موبائل ڈیٹا سروسز کو فوری طور پر بحال کیا جائے جس کی بندش سے معمولات زندگی متاثر ہورہے ہیں اور معاشی لحاظ سے شہریوں کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش سے لاکھوں شہری متاثر ہو رہے ہیں جو روزگار سے لے کر بلز کی ادائیگی اور گروسری خریدنے تک ہر چیز کے لیے انٹرنیٹ پر انحصار کرتے ہیں۔  انٹرنیٹ کی بندش نے پاکستان میں موجود اُن بزنس اسٹارٹ اپس پر منفی اثر ڈالا ہے جنہوں نے 2022 اور 2023 کے دوران 70 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کو راغب کیا اور ملک بھر میں انٹرپرینیورشپ، روزگار کے مواقع اور ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، بندش سے متاثرہ افراد میں سیکڑوں ہزاروں فری لانسرز اور ڈیجیٹل کریئٹرز بھی شامل ہیں۔

انٹرنیٹ کی بندش سے عام لوگوں کے علاوہ سینکڑوں کمپنیاں بھی متاثر ہوئی ہیں، بائیکیا، کریم اور اِن ڈرائیو جیسی کمپنیوں نے بھاری نقصان اٹھایا ہے کیونکہ ان کے صارفین بشمول ڈرائیور اور مسافر دونوں کوموبائل ڈیٹا کی لازمی ضرورت ہوتی ہے۔انٹرنیٹ سروسز کی یہ بندش فوڈ پانڈا اور چیتے جیسی آن لائن فوڈ ڈیلیوری سروسز کو بھی متاثر کررہی ہے، ان کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے والے سیکڑوں ریسٹورنٹس کے علاوہ تقریباً 6 ہزار گھریلو باورچیوں کو بھی اس بندش کا نقصان پہنچا ہے۔ ’جیز کیش‘ اور ’ایزی پیسہ‘ جیسے ڈیجیٹل والیٹس نے تصدیق کی ہے کہ انٹرنیٹ سروسز معطل ہونے کے بعد معمول کی لین دین/ادائیگیوں کی تعداد میں ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے، دکاندار/ایجنٹس اِن ڈیجیٹل والیٹ سروسز کا استعمال مِنی بینکوں کے طور پر کرتے ہیں اور اس کے لیے عموماً موبائل ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین نے حکومت سے فوری انٹرنیٹ سروسز بحال کرنے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

Back to top button