KPK کابینہ کی تشکیل پرسہیل آفریدی اورعمران کےاختلافات

بانی پی ٹی آئی عمران خان اور نومنتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے مابین اختلافات شروع ہو گئے۔ جہاں ایک طرف عمران خان کی ہدایات کے باوجود سہیل آفریدی نے بیرسٹر سیف کو خیبرپختونخوا کی نئی کابینہ میں شامل کرنے سے انکار کر دیا وہیں دوسری جانب پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے کابینہ میں غیر منتخب چہیتے افراد کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے صرف منختب نمائندوں کو شامل کرنے کا مطالبہ کردیا ہے پارٹی اختلافات کے بعد خیبرپختونخوا میں کابینہ کی تشکیل کا عمل مزید تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کے سابق ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف پی ٹی آئی کے اندر شدید مخالفت کے باوجود بھی علی امین گنڈاپور کابینہ کا حصہ رہے تھے، تاہم سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد ایک بار پھر ان کے خلاف محاذ کھل گیا ہے تاکہ وہ کسی طرح نئی کابینہ کا حصہ نہ بن سکیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق سہیل آفریدی نے بھی اپنا وزن بیرسٹر سیف کے مخالف دھڑے کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق نو منتخب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو کابینہ کی تشکیل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جہاں گنڈاپور گروپ اور آفریدی گروپ کابینہ سازی کے حوالے سے میدان میں ہیں وہیں پارٹی کے مرکزی رہنما اپنے پسندیدہ ارکان کو کابینہ میں شامل کرانے جبکہ بعض مخصوص چہروں کو کابینہ سے باہر رکھنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ ان میں گنڈاپور حکومت کے ترجمان اور سابق صدر پرویز مشرف کے قریبی ساتھی بیرسٹر سیف سرفہرست ہیں، اسی طرح سابق مشیرِ خزانہ مزمل اسلم کے حوالے سے بھی بعض رہنماؤں کو تحفظات ہیں۔ تاہم سہیل آفریدی کے قریبی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ تاحال نو منتخب وزیر اعلیٰ نے اپنی کابینہ تشکیل نہیں دی سہیل آفریدی کابینہ کا حتمی فیصلہ عمران خان سے ملاقات کے بعد ہی کرینگے ان کا مزید کہنا تھا کہ سہیل آفریدی نے کابینہ کی ابتدائی فہرست تیار کر لی ہے، جسے وہ عمران خان سے منظوری کے لیے پیش کریں گے۔ ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کی تشکیل کردہ فہرست میں بیرسٹر سیف کا نام شامل نہیں ہے۔ اگرچہ سہیل آفریدی نے مجوزہ کابینہ میں زیادہ تر پرانے چہرے برقرار رکھے ہیں تاہم چند نوجوان اور دیرینہ کارکنان کو بھی کابینہ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ علی امین کابینہ کے بعض ارکان کے بارے میں سہیل آفریدی کا خیال ہے کہ انہیں کابینہ میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے، اسی لئے بیرسٹر سیف کا نام ابتدائی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ سہیل آفریدی کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پہلے دن سے ہی بیرسٹر سیف کی کابینہ میں شمولیت کے مخالف رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی کابینہ میں بیرسٹر سیف شامل نہ ہوں، لیکن اس ضمن میں حتمی فیصلہ عمران خان کریں گے۔ ذرائع کے مطابق مزمل اسلم کی کابینہ میں شمولیت سے متعلق عمران خان نے ہدایت دے رکھی ہے،تاہم بیرسٹر سیف کے بارے میں کوئی واضح ہدایت نہیں ملی۔ اس لئے ان کا نام ڈراپ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی بیرسٹر سیف کےسخت مخالفت ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بیرسٹر سیف کی شمولیت سے یہ تاثر جاتا ہے کہ حکومت مقتدر حلقوں کے زیرِ اثر ہے، بہرحال اگر عمران خان نے بیرسٹر سیف کے حق میں فیصلہ کیا تو سہیل آفریدی کو کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا۔‘سہیل آفریدی کابینہ میں بیرسٹر سیف کی شمولیت پر حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہوا، تاہم پارٹی کے اندر اس حوالے سے شدید تحفظات موجود ہیں۔ تاہم سیف علی خان کے قریبی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ عمران خان بیرسٹر سیف کو کابینہ میں شامل کرنے کے حق میں ہیں اور انہوں نے سہیل آفریدی کو اس حوالے سے پیغام بھی پہنچا دیا ہے۔عمران خان چاہتے ہیں کہ بیرسٹر سیف کو نئی کابینہ میں محکمہ اطلاعات کے ساتھ داخلہ اور قبائلی امور کا قلمدان بھی دیا جائے تاکہ افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کی نگرانی بھی ممکن ہو سکے۔ تاہم سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقات تک بیرسٹر سیف کا نام کابینہ میں شامل کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے

خیال رہے کہ بیرسٹر سیف کا پورا نام محمد علی سیف ہے اور ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے ہے، بیرسٹر سیف نے سیاست کا آغاز سابق آرمی چیف اور فوجی حکمران پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں کیا، اور ان کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل بھی رہے، وہ جنرل مشرف کے ترجمان بھی رہ چکے ہیں، جس کی وجہ سے مخالفین انہیں مقتدر حلقوں کا ترجمان قرار دیتے ہیں۔ بیرسٹر سیف 2007 میں نگراں حکومت کے دوران سیاحت اور یوتھ افیئرز کے وزیر بھی رہے ہیں، پرویز مشرف کی سیاسی جماعت کی کشتی ڈوبنے لگی تو بیرسٹر سیف نے متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور 2015 میں ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر سینیٹر بھی منتخب ہوئے تھے، وہ مارچ 2021 تک سینیٹر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم سے راہیں جدا کرنے کے بعد بیرسٹر سیف نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ محمود خان کے مشیرِ اطلاعات کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں اور صوبائی حکومت کے ترجمان رہے، 9 مئی کے واقعات کے بعد وہ کچھ عرصہ خاموش رہے۔ 2024 کے عام انتخابات کے بعد جب خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت دوبارہ قائم ہوئی تو وہ دوبارہ منظرِ عام پر آئے اور ایک بار پھر ترجمان کا عہدہ سنبھال لیا تھا اور اب وہ سہیل آفریدی کی کابینہ میں شامل ہونے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں تاہم نومنتخب وزیر اعلیٰ انھیں گود میں لینے سے انکاری ہیں۔

 

Back to top button