مہنگائی کے طوفان میں ہر کوئی بقا کی جنگ میں مصروف

معروف اداکارہ حاجرہ یامین نے بتایا کہ مہنگائی کے خلاف احتجاج نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج کل ہر کوئی اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہے، کسی کے پاس احتجاج، مظاہروں کیلئے وقت نہیں ہے۔حاجرہ یامین حال ہی میں گپ شپ ٹاک شو میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے شوبز سمیت ملکی حالات پر کھل کر بات کی اور بتایا کہ مہنگائی کی وجہ سے کس ملک کے حالات بدتر ہو چکے ہیں، اداکارہ کے مطابق کچھ دن قبل وہ ڈرامے کی شوٹنگ سے رات کو دیر سے واپس آ رہی تھیں کہ انہیں سڑکیں سنسان نظر آئیں، پتہ چلا کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے خالی سڑکیں دیکھ کر انہیں محسوس ہوا کہ جلد ہی وہاں پر کچھ نامناسب واقعہ ہوجائے گا، حاجرہ یامین کے مطابق پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے لوگوں کے چہروں پر خوف مایوسی اور بے بسی چھا گئی اور انہیں دیکھ کر ایسا لگا کہ ابھی کچھ نہ کچھ غلط ہو جائے گا۔اداکارہ نے کہا کہ آنے والے سب حکمران اس وقت کے حالات کو تسلیم کرنے کے بجائے انکار کردیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ایسے خراب حالات بھی نہیں ہیں، مہنگائی بڑھنے کی وجہ سے روڈوں پر ایک خوف کا احساس چھایا ہوا ہے، ہر وقت ہر کسی کو لگتا ہے کہ کچھ نہ کچھ غلط ہوجائے گا، لوگ کہتے ہیں کہ عوام صرف ایک دن احتجاج کے طور پر پیٹرول خریدنا بند کرے تو سب کو پتا چل جائے گا لیکن در حقیقت ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔حاجرہ یامین نے دلیل دی کہ اس وقت ہر ایک کو صرف اپنی فکر ہے، اس لیے ایسی صورت حال میں گروپ بندی یا احتجاج نہیں کیا جا سکتا، اس وقت سے سب زیادہ مشکل وقت نئی نسل کے لیے ہے، کیونکہ ان کے لیے بہترین تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ختم ہو رہے ہیں، سرمایہ کاری بیرون ممالک منتقل ہو رہی ہے اور ہماری کرنسی کی قدر اس طرح گر رہی ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے بچوں کو بیرون ملک بھی نہیں پڑھا پا رہا۔اداکارہ نے ملک کے ٹیکس نظام پر بھی بات کی اور کہا کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والے شخص سے جرمانے کے طور پر 27 فیصد ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جبکہ ایسے افراد کو معلومات اور تعلیم دینے کی ضرورت ہے کہ ٹیکس فائلر بننا کیوں ضروری ہے۔حاجرہ یامین کے مطابق پاکستانی قوم تاحال غلامانہ ذہنیت اور سوچ سے آزاد نہیں ہوئی، مہنگائی اور بڑھتی قیمتیں سب کو متاثر کر رہی ہیں، ہر کوئی اپنی بقا کی جنگ لڑتا دکھائی دیتا ہے، کوئی بھی گروپ کی شکل میں احتجاج کے لیے نکلنے کو تیار نہیں۔

Back to top button