دیو آنند کی زندگی میں لاہور نے کیسے اہم کردار ادا کیا؟

 

بالی ووڈ میں کئی نامور اداکار ڈائیلاگز کی چکا چوند میں اداکارائوں کی محبت میں گرفتار ہوئے، ایسے ایک فنکار دیو آنند بھی تھے جن کو 1958 میں اپنی پہلی ہی فلم ’’کالا پانی‘‘ میں اداکارہ مدھو بالا سے محبت ہوگئی۔دیوآنند فلم کے سیٹ پر مدھوبالا کے دیوانے ہوگئے جس کا ذکر انہوں نے اپنی خودنوشت سوانح عمری ’رومانسنگ ود لائف‘ میں بھی کیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ مجھے کالا پانی اگر یاد ہے تو اس کی بڑی وجہ فلم کی ہیروئن مدھو بالا ہیں، وہ فلموں کی سحرانگیز دنیا کی سب سے خوبصورت ہیروئنز میں سے ایک تھیں،بچوں کی سی معصومیت اور ان کا مشہورِ زمانہ ہنسنے کا انداز ان کی شخصیت کے اہم ترین پہلوؤں میں شامل تھے اور وہ اپنی ’ہاں‘ کے ساتھ ہنس دیتیں۔ وہ ہمیشہ ہی دھیرے دھیرے ہنستی رہتیں۔و آنند اپنے معاصر اداکاروں راج کپور اور دلیپ کمار کی نسبت خواتین کے معاملے میں زیادہ مقبول رہے۔ وہ دل پھینک طبیعت کے مالک تھے اور ان کے افیئرز کے بھی بہت چرچے رہے، دیو آنند کی پہلی محبت بھی کسی فلمی سکرپٹ سے کم نہ تھی، اس میں محبت تھی، رومانس تھا، نفرت تھی اور ایک دُکھی کر دینے والا اختتام تھا۔یہ 1940 کے اواخر کی بات ہے جب اُبھرتے ہوئے فلم سٹار دیوآنند کی ثریا سے ملاقات ہوئی جو پہلے ہی ایک گلوکارہ اور اداکارہ کے طور پر شہرت حاصل کر چکی تھیں۔دیو آنند اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’میں اور ثریا دونوں اس وقت محبت کے جذبے میں ڈوب گئے جب ہم نے پہلی فلم میں ایک ساتھ کام کیا۔دیوآنند اور ثریا دونوں ہی شادی کر کے ایک نئی زندگی کی شروعات کرنا چاہتے تھے مگر ثریا کے گھر والوں کو یہ منظور نہ تھا، دیوآنند اور ثریا کے راستے تو جدا ہو گئے، وہ مگر کبھی ایک دوسرے کو بھلا نہ سکے، دیوآنند اپنی زندگی میں آگے بڑھ گئے اور انہوں نے اداکارہ کلپنا کارتک سے شادی کر لی۔ ثریا نے کچھ ہی برسوں بعد کیریئر چھوڑ دیا جبکہ ساری زندگی شادی نہیں کی، ثریا کی جنم بھومی بھی لاہور ہی تھی یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دیو جی کی زندگی میں لاہور نے اہم کردار ادا کیا۔دیو جی کا ایک اور اعزاز یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ہم عصروں کی نسبت زیادہ طویل کیریئر گزارا۔ ان کی اس رنگین زندگی کے باوجود ان کی شخصیت میں پنہاں پنجابی اور لاہور نہیں نکل سکا۔وہ ایک صدی قبل 26 ستمبر کو لاہور سے پچاس میل کے لگ بھگ فاصلے پر ضلع گرداس پور کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک کامیاب وکیل تھے چناںچہ ان کی پرورش بھی گرداس پور میں ہی ہوئی۔لاہور سے ان کے رومان کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور آئے اور انہوں نے گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔وہ سنہ 1943 میں لاہور سے ممبئی چلے گئے کیوںکہ ان کے بڑے بھائی معروف ہدایت کار، پروڈیوسر اور سکرین پلے رائٹر چیتن آنند پہلے ہی ممبئی جا چکے تھے جن کی فلم ’نیچا نگر‘ نے بالی ووڈ کی عالمی سطح پر پہچان کروائی، دیو آنند کی دیگر نمایاں فلموں میں ضدی، بازی، جال، آرام، نرالہ، سزا اور ٹیکسی ڈرائیور سمیت بہت سی فلمیں ہیں جو 1965 سے قبل لاہور کے سینماؤں میں ریلیز بھی ہوئیں اور کامیاب بھی رہیں۔دیو آنند کی آخری فلم ’چارج شیٹ‘ تھی جس کی ہدایات بھی انہوں نے خود دی تھیں اور اداکاری بھی کی تھی، دیو جی کی اداکاری کا اپنا ایک مخصوص انداز تھا جو ان کے ہم عصروں سے مختلف ہونے کے علاوہ منفرد بھی تھا۔ ان کا یہ بے ساختہ پن ہی ان کی کامیابی کی وجہ ٹھہرا، دیو آنند نے اپنے فلمی کیریئر میں چار فلم فیئر ایوارڈز جیتے جن میں سے دو بہترین اداکار کی کیٹیگری میں دیئے گئے۔ انڈیا نے 2001 میں ان کو پدما بھوشن کے ایوارڈ سے نوازا جبکہ اگلے ہی برس ان کو انڈین سینما کا سب سے بڑا اعزاز پھالکے صاحب ایوارڈ دیا گیا اور یہ بھی یاد رہے کہ وہ تین دہائیوں تک انڈیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے اداکاروں کی فہرست میں شامل رہے تھے۔یہ دسمبر کی ایک سرد شام تھی۔ دیو آنند لندن کے دی واشنگٹن مے فیئر ہسپتال میں زیرِعلاج تھے کہ ان کو ہارٹ اٹیک ہوا جو جان لیوا ثابت ہوا اور یہ عظیم فنکار 88 برس کی عمر میں چل بسا۔ ان کی موت سے دو ماہ قبل ہی ان کی فلم چارج شیٹ ریلیز ہوئی تھی۔

Back to top button