ہتک عزت کے قانون پر صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلزقائمہ کمیٹی میں طلب

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات نے پنجاب کے ہتک عزت کے قانون پر اسلام آباد سمیت تمام صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو طلب کرلیا ہے۔
قائمہ کمیٹی نے ترامیم کے ساتھ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کے لئے کمیشن کے قیام کے ترمیمی بل کی منظوری دے دی،کمیٹی نے صحافی کی تعریف پر متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی تجاویز پیر تک طلب کرلیں،صحافیوں کے مقدمات سے متعلق خصوصی عدالتوں کے قیام کی شق پر غور ،آئندہ اجلاس میں حتمی ڈرافٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کردی،وزارت قانون و انصاف کی نئی خصوصی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کردی۔
قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات کا اجلاس سینیٹر علی ظفر کی زیر صدارت ہوا جس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی جانب سے متعارف کردہ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کی حفاظت سے متعلق ترمیمی بل زیر غور آئے کمیٹی میں صحافی کی تعریف کا ایجنڈا بھی زیر غور آیا
۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ مقدمات کی تحقیقات میں کوتاہی کرنے والے افسر کو دو سے تین سال قید اور ایک سے تین لاکھ جرمانہ ہوگا فنانس کے مقدمات کے لئے بینکنگ کورٹس بنائے گئے صحافیوں کے مقدمات کے لئے خصوصی پراسیکیوٹر کی تعیناتی کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بل میں سے تحقیقات کے دوران کوتاہی پر سزا کی شق واپس لے لی۔ پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ تحقیقات میں کوتاہی پر کسی پولیس افسر کو سزا نہیں دیا جاسکتی
۔سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ شق کرمنل قوانین کے بر خلاف ہے خصوصی عدالتوں کی بجائے عام سیشن کورٹ میں چلیں تو بہتر ہے۔
اجلاس میں سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ یہ شق بہت سے قانون میں موجود ہے لوگ اپنے گھر میں وکیل اس لئے بناتے ہیں تاکہ مقدمہ نہ ہو۔
وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ تحقیقات میں کوتاہی کے حوالے سے الگ قوانین موجود ہیں قتل کے مقدمے میں تحقیقات میں کوتاہی پر بھی کوئی قانون شق نہیں ہے۔
اینکر پرسن محمد مالک نے کہا کہ ہم ایک بے ایمان افسر کی بات کر رہے ہیں ، افسران کو تحفظ کیوں دیا جائے؟ اگر ہم کسی ایجنسی کے خلاف شکایت کرتے ہیں تو کیا مقدمہ اسی ایجنسی کو ریفر کیا جائے گا؟ پالیسی معاملات پر ہدایات سے کمیشن کی خودمختاری ختم ہو جائے گی۔ پنجاب میں منظور ہونے والے نئے قانون کے تحت ہتک عزت کے مقدمے کی تحقیقات سے قبل 30 لاکھ جمع کرانے ہوں گے ۔نیا کمیشن اسے تیس لاکھ جمع کرانے کا کہے گا کسی بھی بیٹ رپورٹر یا صحافی کے لئے یہ نا ممکن ہے کمیشن کے سربراہ ایڈہاک بنیادوں پر تعینات ہوں گے یہ قانون ٹرائل سے قبل ہی ملزم کو مجرم ثابت کرتا ہے اصل ٹرائل سے قبل ایسا ٹرائل دنیا میں کہیں نہیں ہوتا اگر کوئی مجرم ثابت ہوتا ہے تو پورا ادارہ بند کیا جائے گاغلط خبر دینے سے صحافی کی اپنی ساکھ برباد ہوتی ہے۔ اس پر وزارت قانون و انصاف کے حکام نے کہا کہ نجی بل ہے اس معاملے پر وزارت خزانہ کی رائے ضروری ہے ترمیمی بل سے عالمی فنڈنگ کی اجازت کی شق ختم کر دی گئی۔
مشیروں اور معاونین خصوصی سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ بھی طلب
کمیٹی میں سینیٹر زرقاء تیمور کا متعارف کردہ معلومات تک رسائی کے لئے ترمیمی بل زیر غور آیا ۔سینیٹر زرقا تیمور کا کہنا تھا کہ وزارت کے کسی ذمہ دار کے ساتھ مل کر تجاویز مرتب کروں گا۔
