عمران خان کی 9 مئی مقدمات میں ضمانت کا فیصلہ ، فریقین سپریم کورٹ طلب

سپریم کورٹ نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق 8 مقدمات میں بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں، اور لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے فریقین کو تحریری حکم نامے کے لیے دوپہر ایک بجے چیمبر میں طلب کیا۔

سماعت سے قبل تین رکنی بینچ میں تبدیلی کی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جگہ جسٹس حسن اظہر رضوی کو شامل کیا گیا۔ بینچ نے آج دوبارہ سماعت کی، جو گزشتہ روز پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی کی طبیعت ناسازی کے باعث ملتوی کر دی گئی تھی۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے پراسیکیوٹر سے دو سوالات کیے:

  1. کیا ضمانت کیس میں عدالت حتمی فائنڈنگ دے سکتی ہے؟

  2. سپریم کورٹ نے ماضی میں سازش کے الزامات پر ضمانت دی، کیا یہی اصول یہاں لاگو ہوگا؟

پراسیکیوٹر نے مؤقف اپنایا کہ ضمانت کی سماعت میں دی جانے والی عدالتی آبزرویشنز عبوری ہوتی ہیں اور ٹرائل پر اثرانداز نہیں ہوتیں۔ انہوں نے 1996ء، 1998ء، 2014ء اور 2022ء کے فیصلوں کا حوالہ دیا جن میں یہی اصول اپنایا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت مقدمے کے میرٹس پر بات نہیں کرے گی، یہ فیصلہ ٹرائل کورٹ کا دائرہ کار ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس اور دیگر جج صاحبان نے اعجاز چوہدری سمیت دیگر سازش کے مقدمات کا حوالہ دیا جن میں ضمانتیں دی گئیں۔ پراسیکیوٹر نے مؤقف اپنایا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کا کیس مختلف ہے اور ان کے خلاف الیکٹرانک شواہد اور گواہوں کے بیانات موجود ہیں۔

چیف جسٹس نے پراسیکیوٹر سے دریافت کیا کہ عمران خان کے خلاف کون سے ثبوت موجود ہیں؟ جس پر بتایا گیا کہ تین گواہوں کے بیانات، وائس میچنگ، فوٹو گرامیٹک اور واٹس ایپ میسیجز شامل ہیں۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت کی اجازت کے باوجود ملزم نے جیل میں تین اہم ٹیسٹ (پولی گرافک وغیرہ) کے لیے تعاون نہیں کیا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ اگر واقعے کے بعد ملزم دو ماہ تک ضمانت پر رہا تو پولیس کے پاس تفتیش کے لیے کافی وقت تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹرائل کورٹ 4 ماہ میں فیصلہ کرنے کی پابند ہے، شواہد کا جائزہ وہی لے گی۔

عدالت نے سماعت کے بعد عمران خان کی ضمانت منظور کر لی اور تحریری فیصلہ جاری کرنے کے لیے سماعت ایک بجے چیمبر میں مقرر کی۔

Back to top button