کیا سپریم کورٹ بلے کی خاطر آئین و قانون کا قتل کر دیتی؟

سینئر صحافی اور کالم نگار مزمل سہروری نے کہا ھے کہ قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ اگر کوئی جماعت فراڈ انٹرا پارٹی الیکشن بھی کروائے ، تب بھی اسے ملکی انتخابات میں حصہ لینے کا صرف اس لیے موقع دے دینا چاہیے تاکہ ملک میں لیول پلئنگ فیلڈ خراب نہ ہو ۔ آئین و قانون کی محافظ سپریم کورٹ ’’ لیول پلئنگ فیلڈ‘‘ کے فلسفے اور تصور کو سامنے رکھ کر فیصلہ نہیں کر سکتی ، لیول پلئنگ کی خاطر آئین و قانون کا قتل کہیں بھی جائز نہیں ہے۔
اپنے ایک کالم میں مزمل سہروری لکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے فراڈ انٹرا پارٹی الیکشن ثابت ہوجانے پر تحریک انصاف سے عام انتخابات میں بلے کا نشان لے لیا ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے متفقہ فیصلہ دیا ہے کہ تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن درست نہیں تھے اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن کا فیصلہ درست تھا، اس ضمن میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم کر دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں تحریک انصاف کا کوئی امیدوار نہیں ہے، ان کے تمام امیدوار آزاد تصور ہوںگے۔ اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے انھیں مختلف انتخابی نشانات بھی الاٹ کر دیے ہیں۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ تحریک انصاف کے امیدوار بے شک عمران خان اور تحریک انصاف کے نام پر ہی جیت کر آئیں لیکن آزاد ہی تصور ہوں گے۔ اب یہ ان امیدواروں پر منحصر ہے کہ اگر وہ پارلیمان پہنچتے ہیں تو وہ عمران خان اور تحریک انصاف کے وفادار رہتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ چاہیں تو وفادار رہ سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ نہ چاہیں تو ان پر کوئی آئینی اورقانونی دباؤ نہیں ہے، تحریک انصاف انھیں ڈنڈے سے اپنے ڈسپلن میں نہیں رکھ سکے گی۔
مزمل سہروری کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ایک رائے یہ ہے کہ اس سے انتخابات میں لیول پلئنگ فیلڈ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ سپریم کورٹ کو یہ خیال کرنا چاہیے تھا کہ ان کے اس فیصلے سے ایک سیاسی جماعت انتخابات سے آئوٹ ہو جائے گی ، عام انتخابات متنازع ہوجائیں گے ، سیاست میں عدم توزان پیدا ہو جائے گا۔ سپریم کورٹ کو اس فیصلے کے سیاسی محرکات کو بھی سامنے رکھنا چاہیے تھا۔ اگر انٹرا پارٹی انتخابات درست نہیں بھی ہوئے تھے، تب بھی پی ٹی آئی کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہونی چاہیے تھی۔ یہ رائے دی جا رہی ہے کہ بہت ظلم ہو گیا ہے،ایک سیاسی جماعت کا قتل ہو گیا ہے۔ پہلے ہی اس کا لیڈر نا اہل ہوگیا ہے، اب اس کی جماعت کو بھی الیکشن سے باہر کر دیا گیا ہے۔تاہم یہ سب خدشات اور دلائل قانون اور آئین کے دائرے میں نہیں ہیں، کسی سیاسی جماعت کو لیول پلئنگ فیلڈ دینا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کا کام اپنے سامنے آنے والے مقدمات میں قانون اور آئین کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور تمام ججز نے آئین و قانون کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہوا ہے۔ انھوں نے لیول پلئنگ فیلڈ فراہم کرنے کا حلف نہیں اٹھایا ہوا ہے۔ پاکستان کا قانون اور آئین صرف انتخابات کو سامنے رکھ کر کسی فرد یا سیاسی جماعت کو کسی بھی قسم کی قانونی رعایت دینے کا حقدار نہیں ٹھہراتا۔ قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ اگر انتخابات قریب ہوں تو سیاسی جماعت کوئی بھی غیر قانونی کام کرے ،تب بھی اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا۔
مزمل سہروری کا کہنا ہے کہ نظریہ ضرورت کے مطابق کیے گئے فیصلے چاہے حالات کے مطابق کتنے ہی جائز کیوں نہ ہوں ۔ لیکن وہ آئین وقانون کے مطابق نہیں ہوتے۔ اس لیے نظریہ ضرورت کو دفن کرنے کی بات کی گئی۔ یہ کہا گیا کہ حالات کچھ بھی کہہ رہے ہوں، عدالت کے فیصلے معروضی حالات کو دیکھ کر نہیں، آئین قانون کے مطابق کیے جائیں گے۔
آج بھی جو لوگ سپریم کورٹ کو لیول پلئنگ فیلڈ اور دیگر دلائل سے تحریک انصاف کے ساتھ نرمی کا مشورہ دے رہے ہیں، دراصل وہ سپریم کورٹ کو آئین وقانون کے مطابق نہیں بلکہ نظریہ ضرورت کے تحت فیصلہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں، جو درست نہیں۔
تحریک انصاف کی لیگل ٹیم پر بھی بہت اعتراض کیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کی تیاری نہیں تھی، ان کے دلائل کمزور تھے، وہ بنچ کے سوالات کے تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔ یہ بھی کہاجا رہا ہے کہ بنچ کے سامنے ان کی نالائقی کھل کر سامنے آگئی۔ مگر یہ باتیں درست نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک کمزور کیس کو اس سے زیادہ لڑا ہی نہیں جا سکتا تھا، پی ٹی آئی کے وکلا نے جو کچھ ہوسکتا تھا، وہ کیا۔ انٹرا پارٹی الیکشن فراڈ تھے، ان کا فراڈ ہونا سب کے سامنے عیاں تھا، لہٰذا ان کا کیسے دفاع کیا جا سکتا تھا۔ بنچ کے جن سوالات کے جواب نہیں دیے جا سکے، ان کے جواب تھے ہی نہیں ۔ بہر حال جج لائق ہیں، یہ بات پوری قوم کو سمجھ آگئی ہے۔
مزمل سہروری کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو بلے کا نشان نہیں ملا ، اس میں کسی اور کا نہیں، صرف عمران خان اور تحریک انصاف کا اپنا قصور ہے۔اگر شفاف انٹرا پارٹی انتخابات کرا لیے جاتے تو کیا ہوجاتا۔ پندرہ منٹ میں الیکشن کرانے کی کیا ضرورت تھی، دو سال تک الیکشن نہ کرانے کا کیا فائدہ ہوا۔
اگر بروقت انٹرا پارٹی الیکشن کرا لیے جاتے تو آج یہ مشکل نہ ہوتی۔ کھیل کو آخری دن تک تحریک انصاف اور عمران خان خود لے کرگئے ہیں۔کسی کو اس کا ذمے دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ عدالت کو ذمے دار قرار دینے کے بجائے عمران

نوازشریف اور شہباز شریف کی کاغذات کی منظوری چیلنج

خان کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے۔

Back to top button