کیا تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان صلح ھو چکی؟

آنے والے انتخابات کے متعلق اپنے ووٹرز میں پائی جانے والی نا امیدی ختم کرنے کے لئے تحریک انصاف آج کل ایک نئی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس یہ جھوٹا تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے  معاملات کافی حد تک طے ہو گئے ہیں۔ برف پگھل گئی ہے۔ اس لیے تحریک انصاف اور چیئرمین پی ٹی آئی کے لیے دوبارہ اقتدار میں آنے کے راستے ہموار ہو گئے ہیں۔ کچھ اکاؤنٹس نے تو ایسی خبریں بھی دی ہیں کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور چیئرمین پی ٹی آئی کی خفیہ ملاقات بھی ہو گئی ہے. سینئر صحافی مزمل سہروردی اپنے ایک کالم میں بتاتے ہیں کہ ملک میں انتخابات کا ماحول بن نہیں رہا۔ ایک دن ابہام ختم ہوتا ہے دوسرے دن ایک نیا ابہام پیدا ہو جاتا ہے۔ اب نئی مردم شماری کے ابہام نے انتخابات کے بنتے ماحول کو پھر خراب کر دیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ عام آدمی کو یقین نہیں آرہا کہ انتخابات ہونگے کہ نہیں تاہم  انتخابات کروانے کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں ہے۔ آمریت میں آمروں کو بھی انتخابات کروانے پڑتے ہیں۔ اس لیے انتخابات کروائے بغیر ملک چل نہیں سکتا۔ انتخابات ایک دو ماہ آگے پیچھے تو ہو سکتے ہیں لیکن وہ بھی مشکل ہے۔ لیکن دو سال کے لیے انتخابات کو نہ کروانا ممکن نہیں۔    ایسے میں تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کی جھوٹی مہم کے بارے معلوم ہوا کہ یہ  بیانیہ کیوں بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بغیر کسی حکمت کے کوئی کام نہیں .  تحریک انصاف اور چیئرمین پی ٹی آئی کو یہ احساس ہے کہ ان کے ووٹر اور پارٹی میں نا امیدی بہت زور پکڑ گئی ہے۔ ایک احساس پیدا ہو گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی اور تحریک انصاف ہار گئی ہے۔ لوگ چھوڑ گئے ہیں۔ پارٹی کمزور ہو گئی ہیں۔ عام ووٹر یہ بھی سمجھ رہا ہے کہ اسٹبلشمنٹ سے مکمل لڑائی کے بعد اب چیئرمین پی ٹی آئی اور تحریک انصاف کا دوبارہ کوئی چانس نہیں ہے۔ کچھ بھی کر لیں دوبارہ اقتدار میں نہیں آسکتے۔ ووٹر  چیئرمین پی ٹی آئی کی غلطیوں کی بات کر رہا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی ساری سیاسی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔ ووٹر خود کو بند گلی میں سمجھ رہا ہے۔                                                                                                                                                                          مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ ووٹر  کے خیال میں چیئرمین پی ٹی آئی نے خود کو اور تحریک انصاف کو بند گلی میں پھنسا لیا ہے۔ جہاں سے باہر نکلنے کا ابھی کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس صورتحال نے ایک ناامیدی کا ماحول بنا دیا ہے۔ لوگ بد دل ہو گئے ہیں۔ لوگ گھر بیٹھ گئے ہیں۔ لوگوں کے اندر تحریک انصاف اور چیئرمین پی ٹی آئی کے لیے جو جوش و خروش تھا وہ ختم ہو گیا ہے . یہ بات قابل فہم ہے کہ اس صورتحال میں کم از کم پچاس فیصد ووٹر ووٹ ٖڈالنے ہی نہیں جائے گا۔ لوگ کہیں گے ہمارے ووٹ ڈالنے سے کیا ہو جائے گا۔ جب ہارنا ہی ہے تو ووٹ ڈالنے کا کیا فائدہ۔ ووٹر الیکشن والے دن گھر بیٹھا رہے گا۔ ٹی وی دیکھتا رہے گا۔ لیکن بیلٹ تک نہیں جائے گا۔ یہ نہیں ہو گا کہ وہ نا امید ہو کر ن لیگ یا کسی اور کو ووٹ ڈال دے گا۔ لیکن یہ ضرور ہوگا کہ وہ ووٹ دے گا ہی نہیں۔ وہ گھر بیٹھ جائے گا۔ ایسا انتخابات میں ہوتا ہے جب آپ کو یقین ہو جائے کہ آپ کا امیدوار جیت نہیں رہا تو آپ ووٹ ڈالنے ہی نہیں جاتے۔ اسی طرح جب آپ کو یقین ہو کہ آپ کی جماعت ہار رہی ہے تو آپ گھر بیٹھ جاتے ہیں۔ اسی طرح آدھا الیکشن امیدوار پر منحصر  بھی ہوتا ہے۔ تحریک انصاف میں سے مضبوط اور جیتنے والے امیدوار چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ اس کا بھی نقصان ہے۔ اب میدان میں کمزور امیدوار ہونگے۔انتخابی مہم کمزور ہوگی۔ ایسے میں اگر پارٹی کا ووٹر بھی نہیں نکلا تو بستر گول ہو جائے گا۔ کمزور امیدوار کا نقصان پہلے ہی ہے۔ اس لیے اب تو تحریک انصاف کا سارا دارومدار پارٹی ووٹ پر ہی ہے۔ ایک خطرہ بن گیا ہے کہ اگر ووٹر نہ نکلا تو جیسے 1997میں پیپلزپارٹی کا ووٹر نہیں نکلا تو پکی سیٹیں بھی ہاتھ سے نکل گئی تھیں۔ اس لیے خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ مزمل سہروردی کے مطابق اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے تحریک انصاف کا سوشل میڈیا ونگ اپنے ووٹر کو امید دلانے کے لیے ایک ماحول بنا رہا ہے کہ اسٹبلشمنٹ اور بالخصوص پاک فوج سے بات چیت شروع ہو گئی ہے۔ ایسی خبریں بھی جان بوجھ کر پھیلائی جا رہی ہیں کہ ملاقات ہو گئی ہے تاکہ ووٹر امید میں آجائے، انتخابات کا ماحول بن جائے۔ انھیں اندازہ ہے کہ ان خبروں کی کوئی تردید نہیں ہوگی۔ اس لیے ایسی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ لیکن  یہ حکمت عملی لمبے عرصے تک نہیں چل سکتی۔ کیونکہ اس کا کوئی بیک اپ پلان نہیں ہے۔ جب چیئرمین پی ٹی آئی نا اہل ہو جائیں گے تو پھر کیا ہوگا۔ یہ سارا ماحول خود ہی ختم ہو جائے گا۔ لیکن اگر چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالتوں سے کوئی ریلیف مل گیا اور وہ اپنی نااہلی بچانے میں کامیاب ہو گئے تو اس مہم کا بہت فائدہ ہوگا۔ کہا جائے گا بات طے ہو گئی ہے اس لیے نا اہلی نہیں ہوئی۔ بات چیت کی وجہ سے معاملات طے ہو گئے ہیں۔ اس لیے یہ مہم بنائی گئی ہے۔ اسی مہم میں یہ ماحول بھی بنایا جا رہا ہے کہ اسٹبلشمنٹ نے پی ڈی ایم اور ن لیگ کی چھٹی کروانے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ اسٹبلشمنٹ پی ڈی ایم سے ناراض ہو گئی ہے۔ ن لیگ سے ناراض ہے۔ اس لیے اب ان کو دوبارہ نہ لانے کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ اس لڑائی کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ نے دوبارہ تحریک انصاف اور چیئرمین پی ٹی آئی سے صلح کر لی ہے۔ دیکھا جائے تو یہ ایک اچھی حکمت عملی ہے۔ اس کا کوئی نقصان نہیں۔ ووٹر نا امید تو پہلے ہی ہے۔ اس لیے اگر نا اہلی ہو گئی تو کہا جائے گا کہ بات چیت ٹوٹ گئی۔اور اگر نہ ہوئی تواس مہم کو زیادہ زور

آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل مخالفت کا شکار کیوں؟

سے چلایا جائے گا۔

Back to top button