کیا تحریک انصاف کا سیاسی نظریہ اپنی موت آپ مرچکا؟

سینئر صحافی اور کالم نگار عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ماضی سے کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور ہو چکی ہے ، اب آنکھ کے تاروں کو بھی بولنے کی ’مشروط اجازت‘ ہی ہو گی ۔نو مئی کے بعد حالات یکسر تبدیل ہوچکے ، اب فرخ حبیب جیسا تحریک انصاف کا جیالا ’روپوشی یا گرفتاری‘ کے بعد عمران خان کے خلاف چارج شیٹ لیے کھڑا ہے ان جیسے کارکن جب پارٹی لاتعلقی کا اظہار کریں تو سمجھ لیں کہ نظریہ اپنی موت آپ مر گیا ہے۔ اپنی ایک تحریر میں عاصمہ شیرازی لکھتی ہیں کہ ہم مشروط زندگیاں جینا سیکھ گئے ہیں یا زندگی ہی شرط بن چکی ہے کہ جو چاہے اسے جیت لے۔ کم از کم سیاست کے میدان میں مشروط کامیابیاں سیاسی جماعتوں کی ضرورت بن چکی ہیں۔ کبھی مصلحت کبھی مفاد اور کبھی سمجھوتہ، مزاحمت فقط خود سے اور مفاہمت اپنے مفادات سے کرنا پڑ رہی ہے ۔۔۔ کیا بدلا ہے؟ کیا بدلے گا؟ کون بدلے گا؟ شکوہ کس سے کریں زمانہ شناس سیاست دانوں سے یا موقع شناس رہنماؤں سے؟ اسٹیبلشمنٹ تو گویا ایسی نیوٹرل ہوئی کہ اب مزید اعتدال کی ضرورت نہیں رہی۔ اٹل اسٹیبلشمنٹ نے رسوائی کے بدترین ادوار میں کبھی بے نظیر بھٹو جیسی رہنما اور پیپلز پارٹی جیسی جمہوریت پسند جماعت سے این آر او لیا تو کبھی ن لیگ سے مفاہمت طے کی۔ تاہم ن لیگ کی ’اسٹیبلشمنٹ آشنائی‘ معتبر رہی اور وہ ستانوے کے بعد 2013 میں بھی بھاری اکثریت کے الزامات سے مستفیض ہوئی۔ دھاندلی کے الزامات تب بھی لگے اور واضح اکثریت کی خواہش بھی تکمیل کو پہنچی۔ عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ 2018 کے انتخابات تو بند آنکھوں سے بھی نظر آ رہے تھے ۔ اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کی اس قدر کھلی حمایت میں سامنے آئی کہ کوئی پردہ نہ رہا۔ کبھی ن لیگ کی ایک وکٹ گری کبھی دوسری۔۔۔ جنوبی محاذ کی تو سرائیکی بیلٹ کی ساری قیادت تحریک انصاف کی جھولی میں آ گری۔ گلے میں لٹکنے والا ایک جھنڈا اور اُس کے پیچھے نظر نہ آنے والا ڈنڈا بلآخر سیاسی وکٹوں کا نشان بن گیا اور یوں انتخابات سے قبل سیاسی وفاداریوں کی صورت انتخابی دھاندلیوں کا آغاز ہوا۔ بات یہاں تک رہتی تو درست تھا۔ عدلیہ کے محاذ پر بھی ایک طرف صداقت اور امانت کی اسناد تو دوسری جانب نااہلیت کی تلوار چلائی جاتی رہی۔ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے قہر کا نشانہ بنے جبکہ تحریک انصاف فائدہ اُٹھاتی رہی۔ن لیگ کے سیاسی مخالفین کو گرفتار کیا جاتا رہا اور تحریک انصاف کے لیے رستہ ہموار ہوا۔سادہ اکثریت کی مانگی تانگے کی حکومت تو تشکیل پائی مگر یہ دوستی بھی دوام نہ پا سکی۔تحریک انصاف مقتدرہ کے گلے ایسی پڑی کے کبھی بھلائی نہ جا سکے گی۔ عاصمہ شیرازی بتاتی ہیں کہ نو مئی کے بعد کے حالات یکسر تبدیل ہوئے۔ مقتدرہ غیر سیاسی سے سیاسی ہوئی، سمجھ نہیں آتا کہ قصوروار کون ہے؟ تحریک انصاف کہ جس نے سیاست میں تشدد کو داخل کیا اور غیرسیاسی اور غیر دانشمندانہ فیصلوں سے اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط کیا یا طاقتور مقتدرہ کا غیر سیاسی ہونا محض آنکھ کا دھوکا تھا؟ اب بہر حال اسٹیبلشمنٹ ماضی سے کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور ہے کہ اب آنکھ کے تاروں کو بھی بولنے کی ’مشروط اجازت‘ ہی ہو گی۔ نواز شریف واپس آ رہے ہیں، خوب دھوم ہے کہ لندن سے ریڈ کارپٹ رخصتی کے بعد اب واپسی بھی شاندار ہو گی۔ ایک اور سٹیج سج چکا ہے، تحریک انصاف کی وکٹیں دھڑا دھڑ گر رہی ہیں اور استحکام پارٹی کا "سیاسی بفر زون” تیار ہے۔ آخر میں عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ فرخ حبیب جیسا تحریک انصاف کا جیالا ’روپوشی یا گرفتاری‘ کے بعد عمران خان کے خلاف چارج شیٹ لیے کھڑا ہے۔ فرخ حبیب کو زمانہ طالبعلمی سے تحریک انصاف سے جُڑے دیکھا اور جس طرح انہوں نے سیاست میں جدوجہد اور نظریاتی وابستگی کو اوڑھنا بچھونا بنایا اس کی مثال کم ملتی ہے۔ ایسے کارکن جب لاتعلقی کا اظہار کریں تو سمجھ لیں کہ نظریہ اپنی موت آپ مر گیا ہے۔ بدلا کچھ بھی نہیں . کل ایک جیل میں تھا، آج دوسرا۔ بس بدلا ہے تو اسٹیبلشمنٹ کی عینک کا نمبر۔۔۔ باقی سب وہی ہے۔ کل تحریک انصاف کو امید تھی، آج ن لیگ اُمید سے ہے۔ باقی

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر فراڈ،2ہزارشناختی کارڈ بلیک لسٹ

انقلاب زندہ باد۔

Back to top button