تحریک انصاف کا سرکاری وسائل پر ریاست مخالف پراپیگنڈا بے نقاب

عمران خان کی سوشل میڈیا مقبولیت اور ریاست مخالف پراپیگنڈے کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے عہد اقتدار میں سرکاری سوشل میڈیا ٹیمز کے ذریعے ریاست مخالف پراپیگنڈا کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ جس کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے سرکاری وسائل کے بل بوتے پر پی ٹی آئی قیادت کی جعلی تشہیر اور ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا کیا گیا۔پی  ٹی آئی حکومت نے ٹیکس کا پیسہ  اپنے پروپیگنڈے کے لئے جھونک دیا،سرکاری وسائل کے بل بوتے پہ پی ٹی آئی قیادت کی جعلی تشہیر اور ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا کیا گیا اور  مخالفین کی کردار کشی اور ہرزہ سرائی کے لیے سوشل میڈیا ٹیموں کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے نوجوانوں کو بھرتی کیا اور ان کو اخلاقیات اور شرافت کے اصولوں کے خلاف استعمال کیا، عوام کے پیسوں پر ریاست مخالف مواد پھیلایا گیا۔ان اکاؤنٹس نے 9 مئی واقعات میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور عوام کو اشتعال دلانے، تشدد پر بھڑکانے اور ممکنہ طور پر فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا اور عوام اور اداروں میں نفرت پھیلا کر دراڑیں ڈالنے کی کوششیں کیں۔حقائق سامنے آنے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا جعلی امیج گھڑنے کا منصوبہ بے نقاب ہوگیا۔

 سرکاری وسائل کے بل پرپی ٹی آئی قیادت کا جعلی امیج گھڑنے اور ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب ہوگیا ۔سرکاری وسائل پرپی ٹی آئی قیادت کی جعلی تشہیر اور اداروں کے خلاف پروپیگنڈا سامنے آگیا ، مخالفین کی کردار کشی اور ہرزہ سرائی کیلئے سوشل میڈیا ٹیموں کا بے دریغ استعمال کیا گیا جبکہ سرکاری پیسوں سے ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے کی مکروہ حرکت کی گئی ۔سالانہ ترقیاتی پروگرام کی آڑ میں سوشل میڈیا ٹیموں کو پی ٹی آئی کے مذموم بیانیے کو پھیلانے کا ٹاسک دیا گیا،  جعلی سوشل میڈیا ٹیموں کو شخصیت پرستی اور جھوٹ کے پرچار کیلئے استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو پی ٹی آئی کے سیاسی مقاصد کو آگے بڑھانے اور غلط معلومات کیلئے استعمال کیا گیا۔

پی ٹی آئی دور میں معاشرے میں نفرت انگیز بیانیے سے عدم استحکام کو فروغ دیا گیا، سالانہ ترقیاتی پروگرام کی آڑ میں سوشل میڈیا ٹیموں کو مذموم بیانیے کا ٹاسک ملا، پروپیگنڈا اکاؤنٹس کے فالورز سرکاری وسائل سے بڑھائے گئے جبکہ مجموعی طور پر اس پراجیکٹ کی لاگت 870 ملین یعنی 87 کروڑ روپے رکھی گئی تھی۔

پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا ٹیمز کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے پر 25 سے 40 ہزار روپے تنخواہ دی گئی اور سوشل میڈیا ٹیموں پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے۔

ریاست مخالف پروپیگنڈے میں شامل 800 اکاؤنٹس کی تحقیق کی گئی تو چشم کشا حقائق سامنے آئے جن کے مطابق ان ملازمین میں سے 72.5 فیصد اکاؤنٹس کا 2021 سے پہلے پی ٹی آئی کی طرف کوئی سیاسی جھکاؤ ہی نہیں تھا، جون 2022 کے بعد 86 فیصد اکاؤنٹس نے اپنا سیاسی جھکاؤ تبدیل کر لیا اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پی ٹی آئی کا بیانیہ پوسٹ کرنا شروع کر دیا ۔اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پی ٹی آئی کا کبھی کوئی نظریہ تھا ہی نہیں ، یہ ایک سازش تھی جو قومی خزانے سے پیسے دے کر کروائی جا رہی تھی ۔جعلی سوشل میڈیا ٹیموں کی بھرتی کا عمل غیر قانونی اور فراڈ پر مبنی تھا۔

اس حوالے سے فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ قوم نے دیکھا جس کو راہبر چنا وہ رہزن بن کرخزانے کا بے دریغ  استعمال کرتا رہا، کے پی میں سوشل میڈیا سینٹر بناکر پی ٹی آئی چیئرمین نے  ترقیاتی فنڈ کو استعمال کیا، ایک شخص کی خودپسندی کی ترویج کے لیے 870 ملین روپے خرچ کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ 30سے 40 ہزار تنخواہ پر نوجوانوں کو پراپیگنڈا کرنے کے لیے ملازمت دی گئی، 800 سے زائد جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے ملک کا تشخص تباہ کرنے کی کوشش کی گئی، سرکاری وسائل سے پی ٹی آئی کا جھوٹا بیانیہ پھیلایا گیا اور ریاستی اداروں کو سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس سے نشانہ بنایا گیا۔

فردوس عاشق کا کہنا تھا کہ قوم کا پیسہ قوم کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، نوجوانوں کے ذہنوں کو بارود سے بھرا گیا، سوشل میڈیا کے ذریعے ٹاپ ٹرینڈ میں رہنا پی ٹی آئی چیئرمین کا مشغلہ تھا،  انٹیلی جنس ایجنسیز اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کے لیے نوجوانوں کے سوشل میڈیا کا استعمال کیا گیا، جس سے ہمارا وقار دنیا بھر میں مجروح ہوا۔

Back to top button