آئی ایم ایف سے معاہدے نے کاریں اور بھی مہنگی کر دیں

کپتان حکومت نے آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالرز کا قرضہ لینے کی خاطر جو شرائط تسلیم کی تھیں ان کے نتیجے میں

پاکستان میں چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے

۔
وفاقی حکومت نے موجودہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے 1000 سی سی تک کاروں پر ٹیکس کی مد میں کچھ چھوٹ دے کر ان کی قیمتوں کو کچھ نیچے لائی تھی۔

تاہم اب حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے کے لیے پہش کیے گے منی بجٹ میں جہاں بہت سارے شعبوں میں ٹیکس کی چھوٹ ختم کی گئی ہے وہیں کاروں پر دی گئی ٹیکس مراعات کو بھی واپس لے لیا گیا ہے جس سے ملک میں گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

پاکستان میں گاڑیوں کے شعبے سے وابستہ افراد اور ماہرین حکومت کی پالیسی میں تسلسل کی کمی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ صرف چھ ماہ میں اگر حکومت کی جانب سے دی جانے والی ٹیکس مراعات کو واپس لینا تھا تو اسے یہ اقدام بجٹ میں نہیں لینا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق گاڑیوں خاص کر کم پاور کی گاڑیوں کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے اس کا اثر آنے والے چند مہینوں میں نظر آئے گا کیونکہ ملک میں مڈل کلاس طبقے کی قوت خرید پہلے ہی کم ہو رہی ہے اور گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے چھوٹی گاڑی ان کے لیے خریدنا مسئلہ ہو گا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ معطل شدہ پروگرام کی بحالی کے لیے کچھ شرائط پر رضامندی اختیار کی گئی تاکہ بین الاقوامی ادارے کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی قسط کی جاری ہو سکے۔ ان شرائط کے تحت حکومت کو اس مالی سال میں 350 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ کر کے ٹیکس وصولی کو بڑھانا ہے۔ منی بجٹ میں جن ٹیکس چھوٹ کو ختم کیا گیا ہے ان میں گاڑیوں پر دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ بھی شامل ہے۔

آٹو سیکٹر کے ماہرین نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے بجٹ میں 1000 سی سی کار تک فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو زیرو کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب منی بجٹ میں اسے دوبارہ نافذ کر دیا گیا جسکے بعد اب 1000 سی سی کار تک پر 2.5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی دوبارہ لگا دی گئی ہے۔

وفاقی بجٹ میں 1001 سے 1300 سی سی کار پر ڈیوٹی ڈھائی فیصد تھی جو اب بھی برقرار ہے۔ 1301 سے 2000 سی سی کار پر وفاقی بجٹ میں ڈیوٹی کم کر کے ڈھائی فیصد کر دی گئی تھی جسے منی بجٹ میں دوبارہ پانچ فیصد کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح 2000 سی سی سے اوپر کی کاروں پر ڈیوٹی کم کر کے وفاقی بجٹ میں پانچ فیصد کر دی گئی تھی جسے منی بجٹ میں اب دس فیصد کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح سیلز ٹیکس کی شرح جسے وفاقی بجٹ میں کم گیا تھا اس کو بھی دوبارہ منی بجٹ میں بڑھا دیا گیا ہے۔ 850 سی سی سے نیچے کار پر سیلز ٹیکس کی شرح تو 12.5 فیصد برقرار رکھی گئی ہے تاہم اس سے اوپر کی گاڑیوں کی شرح سیلز ٹیکس کو 17 فیصد کر دیا گیا ہے۔

پاکستان میں منی بجٹ کی منظوری کے بعد اگر گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کو دیکھا جائے تو مخلتف رینج کی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ مختلف ہے۔ اوسط اضافہ 80000 سے 90000 روپے بنتا ہے۔ 850 سی سی تک گاڑیوں کی قیمتوں میں 40000 روپے تک اضافہ ہوا ہے اور 1000 سی سی تک گاڑیوں کی قیمتوں میں 150000 کا اضافہ کر دیا گیا ہے اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے اس اضافے کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔

The agreement with the IMF made cars even more expensive video

Back to top button