انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی لاڈلی پارٹی اصل میں کون ہوگی؟

اس وقت تمام بڑی سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ سے دوستی اور لاڈلا بننے کی خواہش مند ہیں۔ سب ہی اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے اقتدار کا دروازہ کھولنے کے لیے تیار ہیں۔
اب لگ رہا ہے کہ مسلم لیگ نون نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کو اپنی مستقل پالیسی بنا لیا ہے. تحریک انصاف تک یہ چاہتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا ملک کی سیاست میں بھر پور کردار ہو لیکن یہ کردار ان کی حمایت میں ہونا چاہیےہے.ملک میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ آیندہ انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی لاڈلی پارٹی کون سی ہے؟ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی مزمل سہروری نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ ملک میں انتخابی ماحول بنتا جا رہا ہے۔ انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے جو تھوڑا سا ابہام موجود ہے وہ بھی چند دن میں دور ہو جائے گا۔ تاریخ بھی سامنے آجائے گی اور شیڈول بھی سامنے آجائے گا۔ یوں ملک میں انتخابی سرگرمیاں آہستہ آہستہ تیز ہوتی جائیں گی۔ سیاسی جماعتوں نے انتخابی بگل سن کر انتخابی دنگل کا آٓغاز کر دیا ہے۔ جیسے جیسے انتخابی ماحول بن رہا ہے ملک میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ھے کہ اصل میں اسٹیبلشمنٹ کا لاڈلا کون ہے اور اس کا مخالف کون ھے؟ سب جماعتیں ایک دوسرے پر لاڈلا ہونے کا الزام لگا رہی ہیں. کل کے دشمن آج کے دوست اور آج کے دوست کل کے دشمن بنتے نظر آرہے ہیں۔ کون مستقل لاڈلا ہے‘ کون مستقل دشمن ہے‘کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہی۔
مزمل سہروری کے مطابق اس وقت تمام بڑی سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ سے دوستی اور لاڈلا بننے کی خواہش مند ہیں۔اسٹیبلشمنٹ سے دوستی پر ایک قومی اتفاق رائے نظر آرہا ہے۔ سب ہی اسٹیبلشمنٹ سے دوستی اور اس کے ذریعے اقتدار کا دروازہ کھولنے کے لیے تیار ہیں کوئی ایسی جماعت نہیں جو کہہ رہی ہو کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سے اقتدار ملے گا تو نہیں لیں گے۔ سب ہی تعاون اور مدد کے طلبگار نظر آرہے ہیں ۔ نو مئی کے بعد یہ تاثر بہت مضبوط ہے کہ تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ مخالف جماعت ہے۔ لیکن یہ تاثر درست نہیں۔ تحریک انصاف کو پہلے دن سے گلہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کی مدد کیوں نہیں کر رہی۔ ان کو گلہ ہے کہ جب ان کو اقتدار سے نکالا جارہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ نے ان کے اقتدار کو بچایا کیوں نہیں۔ انھیں اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے پر اعتراض ہے۔انھیں اعتراض ہے کہ ان کی پہلے جیسی مدد کیوں نہیں کی جا رہی۔ انھیں گلہ ہے کہ ان کے بار بار درخواستیں دینے کے باجود ان سے ملاقات کیوں نہیں کی جا رہی۔ ان کو اسٹیبلشمنٹ سے گلہ ہے کہ وہ ان کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ان کی مدد کیوں نہیں کر رہی۔ تحریک انصاف ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے خلاف نہیں وہ تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا ملک کی سیاست میں بھر پور کردار ہو لیکن یہ کردار ان کی حمایت میں ہونا چاہیے۔ اگر ان کی حمایت میں نہیں تو غلط ہے۔ اس معیار پر کیا ہم تحریک انصاف کو اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاسی جماعت کہہ سکتے ہیں؟ جواب نہیں میں ھے ۔ وہ حمایت کے طلبگار ہیں اور نہ ملنے پر ناراض ہیں۔
مزمل سہروری کہتے ہیں کہ آپ پیپلزپارٹی کو دیکھ لیں۔ آجکل پیپلزپارٹی بہت شور مچا رہی ہے کہ انھیں لیول پلیئنگ فیلڈ حاصل نہیں ہے۔ لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ کس سے لیول پلیئنگ فیلڈ مانگ رہے ہیں۔
مزمل سہروری کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے لئے انتخاب لڑنے میں کیا رکاوٹ ہے۔ وہ جلسے کرنے میں آزاد ہیں۔ میڈیا پر آنے پر کوئی پابندی نہیں۔ انتخابی مہم چلانے پر کوئی پابندی نہیں۔ پھر لیول پلیئنگ فیلڈ میں کیا حاصل نہیں۔ ایک رائے یہ بھی بن رہی ہے کہ نواز شریف کی واپسی سے پیپلزپارٹی ناراض ہے۔ حالانکہ یہ ناراضگی سے سمجھ سے بالاتر ہے۔ پی ڈی ایم کے اجلاسوں میں آصف زرداری مطالبہ کرتے تھے کہ اگر سیاست کرنی ہے تو نواز شریف واپس آئیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ چند ماہ قبل پیپلزپارٹی کو یہ احساس تھا کہ تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈیڈ لاک اور نواز شریف اور اسٹبشلمنٹ کے درمیان بند دروازوں کی وجہ سے وہ واحد چوائس ہیں۔ لیکن نواز شریف کی واپسی کے بعد پیپلزپارٹی کو احساس ہو گیا ہے کہ ان کی واحد چوائس کی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔ اس لیے بات سمجھنے کی یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اسٹیبلشمنٹ مخالف جماعت نہیں ہے۔ ان کو گلہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ان کے بجائے ن لیگ کی طرف منہ کر لیا ہے۔ ان کو لاڈلا نہیں بنایا جا رہا ہے۔ انھیں گلہ ہے کہ نواز شریف کو واپسی پر گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔ کیا کوئی پیپلزپارٹی سے پوچھ سکتا ہے کہ اگر نواز شریف کو ایئر پورٹ پر گرفتار کر لیا جاتا تو کیا ان کو لیول پلیئنگ فیلڈ مل جاتی ۔ نواز شریف کی گرفتاری سے پیپلزپارٹی کو تو نہیں تحریک انصاف کو تو فائدہ ہو سکتا تھا۔ ان کا بھی گلہ ہے کہ اقتدار کے حصول کے لیے اسٹیبلشمنٹ ان کی اس طرح مدد نہیں کر رہی جیسے 2018میں تحریک انصاف کی کی گئی تھی۔ اس لیے یہاں بھی معاملہ کوئی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا نہیں ہے بلکہ پہلے درجے کا لاڈلا بننے کا ہے۔
مزمل سہروری کہتے ہیں کہ نون لیگ ایک واضح پالیسی کے ساتھ عوام کے سامنے موجود ہے۔ وہ مفاہمت کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اور اب لگ رہا ہے کہ انھوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کو اپنی مستقل پالیسی بنا لیا ہے۔ وہ باقی جماعتوں کے مقابلے میں پالیسی کے اعتبار سے واضح ہیں۔ نواز شریف کی واپسی نے ن لیگ میں جان ڈالی ہے اور ان کی اسٹیبلشمنٹ سے پکی دوستی کے تاثر کو بھی مضبوط کیا ہے۔ اس لیے ن لیگ بھی اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی حمایت میں ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن بھی اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ ہیں۔ وہ بھی کوئی اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاست کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔وہ تو لیول پلیئنگ فیلڈ کی بھی کوئی بات نہیں کر رہے۔ وہ تو اسٹیبلشمنٹ سے راضی لگ رہے ہیں۔ اسی طرح اے این پی بھی خوش نظرا ٓرہی ہے۔ ایم کیو ایم کو بھی کوئی خاص گلہ نظر نہیں آرہا۔ یہ تینوں جماعتیں سمجھ رہی ہیں کہ انھیں 2018 سے بہتر حالات میسر ہیں۔ 2018میں تو ان کا راستہ زبردستی روکا گیا تھا۔ اب اگر ان کی سہولت کاری نہیں بھی کی جا رہی تو کم از کم راستہ تو نہیں روکا جا رہا۔ اس لیے یہ تینوں جماعتیں بھی اسٹیبلشمنٹ کے حق میں ہی نظرآ رہی ہیں۔
مزمل سہروری کے مطابق سندھ میں جی ڈی اے بھی ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کے حق میں رہی ہے۔ آج بھی حق میں ہے۔ بلوچستان میں باپ پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے حق میں ہے۔ وہ اب بھی وہاں کی بڑی جماعت ہے۔ سردار مینگل ناراض نظرآرہے ہیں۔ لیکن یہ ناراضگی ویسے ہی ہے جیسی پیپلزپارٹی کی ہے۔ اس میں کوئی محاذ آرائی نہیں ہے۔ اس لیے کہا جاسکتا ھے کہ اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت پر ایک قومی اتفاق رائے موجود ہے۔ 2024 کے انتخابات میں سب سے بڑی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت میں ہی انتخابات لڑ رہی ہیں۔ یہی حقیقت ہے۔

Back to top button