ابصار عالم پر گولی چلانے والے کا چہرہ بھی دھندلا نکلا

کیپیٹل پولیس اسلام آباد نے پچھلے برس سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کاروں کی سی سی ٹی وی فوٹیج ہونے کے باوجود انکی شناخت نہ ہو سکنے کا موقف اب سینئر صحافی ابصار عالم پر قاتلانہ حملے کے معاملے میں بھی دہرا دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز میں حملہ آور کا چہرہ دھندلا نکلا ہے۔
20 اپریل کو اسلام آباد میں ابصار عالم پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کرنے والی اسلام آباد پولیس نے اب یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اسے گولیاں مارنے والے حملہ آور کی شناخت سے متعلق تاحال کوئی شواہد مل نہیں پائے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر ایف الیون کی گلیوں میں گھروں پر لگے چند نجی کیمروں کی فوٹیجز حاصل کی گئی تھںں، تاہم ان ویڈیوز سے ابصار پر حملہ کرنے والے کی شناخت ممکن نہیں ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان فوٹیج میں حملہ آور تو نظر آ رہا ہے لیکن اس کا چہرہ صاف نظر نہیں آتا جس سے اسکی شناخت ممکن نہیں ہو پائی۔ اس معاملے پر ناقدین کا ہے کہ جب ریاست کسی صحافی کو نشان عبرت بنانے کے لیے اس پر حملہ کرواتی ہے تو پھر ملزم کی شناخت کیسے ممکن ہو پائے گی۔ یاد رہے کے پچھلے برس اسلام آباد سے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کے بعد بھی پولیس نے کئی سی سی ٹی وی ویڈیوز حاصل کی تھیں لیکن بعد ازاں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ ان کے ذریعے حملہ آور کی شناخت نہیں ہو پائی۔ چنانچہ اس کیس کو بھی حامد میر پر ہونے والے اپریل 2014 کے قاتلانہ حملے کی طرح سرد خانے کی نذر کر دیا گیا۔ اب یہی فارمولہ ابصار عالم پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزم کے معاملے میں بھی اپنایا گیا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ جب پولیس ایسے حملے میں ملوث عناصر کا سراغ نہ لگا پائے تو سمجھ جائیے کہ اس میں ریاست ملوث ہے۔
واضح رہے کہ ابصار عالم پر ایک نامعلوم شخص نے سیکٹر ایف الیون میں ان کی رہائش گاہ کے قریب پارک میں واک کرتے ہوئے گولی چلائی تھی، جو ان کے پیٹ میں لگی، جس کے بعد انہیں ہسپتال پہنچایا گیا، جہاں آپریشن کے بعد اب ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
20 اپریل کو رات گئے اسلام آباد کے شالیمار تھانے میں واقعے کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جس میں نامعلوم ملزم پر اقدام قتل کی دفعات 324 تعزیرات پاکستان لگائی گئیں۔ ابصار عالم نے اپنے بیان میں پولیس کو بتایا کہ انہوں نے سیکٹر ایف الیون میں واقع اپنے گھر کے قریبی فیملی پارک میں واک کے دوران ایک 27، 28 سالہ نوجوان کو موجود پایا، جس کے پاس سے وہ تین مرتبہ گزرے، اس دوران وہ اپنے ہاتھوں سے مسلسل اپنا چہرہ چھپانے کی کوشش کرتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ چوتھی بار نوجوان کے قریب پہنچے تو اس نے اپنا چہرہ چھپاتے ہوئے آتشیں اسلحے سے ان پر فائر کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابتدا میں انہوں نے صرف گولی چلنے کی آواز سنی، جب کہ زخمی ہونے کا احساس انہیں چند لمحات کے بعد ہوا، جس پر انہوں نے حملہ آور کا پیچھا کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ ابصار نے مزید کہا کہ گولی کی آواز سن کر وہاں کچھ لوگ اکٹھے ہو گئے جو انہیں ہسپتال لے گئے۔ شالیمار تھانے کے اے ایس آئی آصف رضا نے کیس کے حوالے سے بتایا کہ اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں اور پولیس جائے وقوعہ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم ابھی تک ان کیمروں کی مدد سے حملہ آور کی شناخت نہیں ہو پائی۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں واردات کے مقام پر کوئی سرکاری کیمرہ نہیں لگا ہوا تھا اس لیے پولیس کو مختلف گھروں پر لگے نجی سی سی ٹی وی کیمروں پر ہی انحصار کرنا ہو گا۔ یاد رہے کہ اپریل 2014 میں جب سینئر صحافی حامد میر پر کراچی ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہوئے قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا تو وہاں موجود درجنوں کیمروں میں سے صرف وہی کیمرہ خراب نکلا جو جائے واردات پر لگا ہوا تھا۔ لہذا تب بھی گولی مارنے والے کی شناخت نہیں ہو پائی تھی حالانکہ گولی مروانے والے کے نام سے ہر کوئی واقف تھی۔ اس واقع میں تب کے آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کا نام آیا تھا جبکہ ابصار عالم پر حملے کے بعد بھی ایک ایجنسی چیف کا نام لیا جا رہا ہے۔
صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ جن ریاستی اداروں نے پاکستانی میڈیا کو اپنے آہنی شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، انہوں نے ہی ابصار عالم کو تختہ مشق بناتے ہوئے جان سے مارنے کی کوشش کی ہے۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ ابصار عالم پر قاتلانہ حملے کے پیچھے اسی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے، جس نے 2014 میں اپریل ہی کے مہینے میں حامد میر پر کراچی میں جان لیوا حملہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ خود پر 20 اپریل کے قاتلانہ حملے سے دو روز پہلے ابصار عالم نے ایک ٹویٹ میں فیض آباد دھرنا کیس میں اپنی بطور چیئرمین پیمرا جنرل فیض حمید کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے مندرجات شیئر کئے تھے۔ ابصار عالم نے حملے میں زخمی ہونے کے فوری بعد ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ جن لوگوں نے مجھ پر حملہ کروایا ہے میں انہیں پیغام دینا چاہتا ہوں کہ میں حوصلہ نہیں ہاروں گا اور نہ ہی میں ان چیزوں سے ڈرنے والا ہوں۔
ابصار عالم گذشتہ 27 برس سے صحافت کے شعبے سے منسلک ہیں اور تحریک انصاف حکومت اور اس کی پالیسیوں کے بڑے ناقدین میں سے ایک تصور کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں اپنے ٹویٹس میں اسٹیبلشمنٹ کو بھی سیاست میں مداخلت پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے 18 اپریل کو اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں لکھا کہ نومبر 2018 میں جب میں چیئرمین پیمرا تھا، تو چینل 92 کو نیشنل ایکشن پلان کی خلاف ورزی میں لائیو سیکورٹی آپریشن دکھانے پر بند کر دیا تھا۔ اس پر جنرل فیض نے مُجھے فون کر کے کہا کہ یا تو چینل 92 کو کھول دیں یا باقی سب چینلز بھی بند کر دیں۔ میں نے کہا دونوں کام نہیں ہو سکتے، کُچھ ہی دیر بعد وفاقی حکومت نے اپنے اختیار کے تحت تمام چینلز بند کرنے کا حُکم نامہ بھیج دیا۔ابصار نے لکھا کہ کیا کوئی پوچھے گا جنرل فیض سے کہ وہ کونسے مفاد تھا جو آگ لگانے اور بھڑکانے والے چینل 92 کو اس وقت کھلوانا چاہتے تھے؟ انہوں نے لکھا کہ اب آپکو سمجھ آیا کہ چینلز اور اینکرز کیسے چلتے اور بند ہوتے ہیں؟ ابصار کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے تب سے ہی انہیں اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت یے کہ پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں میڈیا کو غلام بنانے کہ ایجنڈے پر تندہی سے عمل کیا گیا ہے۔ عالمی اداروں کی رپورٹس بھی بتاتی ہیں کہ کپتان سرکار کے برسراقتدار آنے کے بعد سے غیر اعلانیہ سنسر شپ کا شکار پاکستانی میڈیا آزادی اظہار رائے کے حوالے سے شدید ریاستی جبر کا شکار ہے اور آزادی اظہار کی صورتحال بدترین ہو چکی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button