ملک خدا کا، آماجگاہ کس کی؟

تحریر: حفیظ اللہ نیازی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
ہر ملک مِلک ماست کہ مِلک خدائے ماست ۔ 29 جولائی، علی الصبح ایران نے اُردن پر 6 میزائل داغے ، پوری دنیا چونک اُٹھی ۔ واشنگٹن میں امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی ملاقات کے 4گھنٹے کے اندر 6میزائل داغنے کی سنسنی خیز ایرانی جسارت کسی طور اتفاق نہیں بلکہ اعلیٰ پائے کی حکمت عملی تھی ۔ امریکی نیوز ایجنسی AXIOS کےمطابق اکیلے کمرے میں صدر ٹرمپ اور انکی ٹیم کا نیتن یاہو کو آڑے ہاتھوں لینا بنتا تھا کہ 11 فروری 2026کو وائٹ ہاؤس سچویشن روم میٹنگ میں نیتن یاہو نے ایران کو فتح کرنے کے سہانے خواب دکھائے تھے ۔

آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کےجنازے میں 3کروڑ لوگوں کی شرکت نے امریکی پالیسی سازوں کو لرزہ براندام کر رکھا ہے ۔ ایران نے خطہ ارضی کی بڑی طاقت امریکی بالادستی کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے ۔ امریکہ آج ایک ایسی جنگ میں پھنسا ہے جو جاری رہی تو بربادی نوشتہ دیواراور ختم کرتے ہیں تو خانہ خرابی گلے کا ہار ۔ امریکہ اسرائیل اپنے ترکش کے تمام تیر ایران کیخلاف استعمال کر چکے تو سرنڈر ڈاکومنٹس پر دستخط کرنے پڑے ۔ ہر ہنر آزمایا معاشی دباؤ اور بحری ناکہ بندی (Blockade) اور بالآخر مفاہمتی یاداشت ، تینوں مدوں میں ذلت آمیز ہزیمت اٹھائی ۔ حالیہ ایرانی میزائلوں کے جواب میں اگرچہ امریکہ نے بمباری شروع کر رکھی ہے ، تعین کرنا مشکل ہے کہ بمباری چند دن رہنی ہے یا ہولناک جنگ کا آغاز ہوا چاہتا ہے ۔ کوئی اتفاق نہیں ، تازہ خبر کہ چین نے ایران کو جدید میزائلوں سے لیس کر دیا ہے ۔ بات حتمی کہ امریکہ اسرائیل جنگ جتنی مرضی بڑھائیں ، اسرائیل کی بربادی کا نوحہ ہی لکھا جانا ہے ۔ اگرچہ اگلے 48 گھنٹے میں ہولناک جنگ کا طبل بجنے کو ، ایران خطےکی سب سے بڑی طاقت بن کر اُبھر چکا ہے ۔

اپنی نبیڑ تو ، آج جبکہ ریاست پاکستان کی نظریاتی بنیاد کی فوقیت دفن ہو چکی ہے ۔ بدقسمت مملکت ! مستحکم سیاسی نظام کی عیاشی کی کبھی متحمل نہ ہو پائی ۔ 75 سال سے بدنصیب مملکت مقتدرہ ، سیاستدان ، بیوروکریسی ، ادارے کسی کی پہلی ترجیح نہیں رہے ۔ فیصلہ کرنیوالے وہ لوگ جو شاید اس دنیا سے رخصت ہونے کے قریب ، 70 فیصد نوجوان آبادی کے فیصلے کر رہے ہیں،جس نسل کو 40 / 50 یا 60 سال اس مملکت کو استعمال کرنا ہے وہ آج کےبوڑھے لوگوں کےفیصلوں کی محتاج رہے گی ۔ فیصلہ ساز وطنی مفاد سے پہلے ذاتی مفاد کو ترجیح دے چکے ہیں ۔ ملک ایک ایسے دوراہے پر، جہاں کسی کو حتمی طور پر معلوم نہیں کہ اگلے پانچ یا دس برس بعد کس نوعیت کا نظام رائج ہوگا ۔ 7 دہائیاں بیتنے کو ، ہر نئی حکومت کیساتھ سوال جڑا کہ یہ حکومت کتنا عرصہ چلے گی ؟ دوسرا سوال !بالفرض محال سکہ رائج الوقت نظام زمیں بوس ہوا تو اگلا نظام کیا ہوگا ؟ گزشتہ 75 برس سے قوم اِن 2 اذیت ناک سوالوں کے گرداب میں پھنسی ہے۔ آزادی کے محض چند سال بعد مملکت خداداد اپنی نظریاتی بالادستی کھو چکی تھی ۔ یعنی کہ قوم بغیر نظریہ ، بیانیہ ایک بے روح ریاست بن کر رہ گئی ۔ ایسے میں غیر مستحکم سیاسی نظام کیساتھ ریاست کے مستقبل ، سمت کا تعین کیونکر ممکن تھا ۔ بدقسمتی کہ غیرپائیدار حکومت اور سیاسی عدم استحکام نے مملکت کو گھائل کر رکھا ہے ۔

پاکستان بطور نظریاتی ملک ، ایک ایسی سرزمین جہاں عوام نے اپنی مرضی کےمطابق حکومت کرنی تھی اور مشترکہ اقدار نے پروان چڑھنا تھا تو یقینی طور پر قوم ’’ بنیان مّرصوص‘‘ بنتی۔ عظیم قائد کی قبر کی مٹی ابھی خشک نہ ہو پائی تھی کہ اشرافیہ نے گٹھ جوڑ سے ملک ہتھیا لیا ۔ سازشیوں نے موقع غنیمت جانا ، ریاستی نظام کو پامال اور مفلوج کیا ، کمزور ریاستی ڈھانچہ ترنوالہ بنا رہا ۔ نظریے کی بالادستی تتر بتر ہوئی ، غاصبوں نے نظام کی ماہیت ہی بدل دی ۔ نظریے کی بالادستی ، نظریہ ضرورت کی بھینٹ چڑھ گئی ۔ دوسرا سانحہ حقیقی سیاسی نظام کی عدم موجودگی کا شاخسانہ ہی کہ کاغذوں میں جمہوریت قائم ، انتخابات بدرجہ اتم موجود ، پارلیمنٹ کروفر سے فنکشنل ، کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس جاری ، اظہارِ رائے کی آزادی درج مگر عملاً سب مذاق ، عدم استحکام کی موجودگی میں کوئی سیاسی نظام مقدر نہ بن پایا ۔ مملکت ایک قدم آگے بڑھا نہیں پاتی کہ دو قدم پیچھے پھسل جاتی ہے ۔ سیاسی حکومتیں اپنے اختیارات OUT-SOURCE کرکے خود کو ہلکا اور باعزت محسوس کرنے لگیں ۔

میرپور ڈویژن کے پُرامن انتخابات کی امابعد صورتحال نے قیامت برپا کر رکھی ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری صاحب نے کشمیر حکومت اپنے ہاتھ سے نکلتی دیکھی تو دن دہاڑے حساس مقام مظفرآباد سے ریاست کو للکار دیا ۔ آزاد کشمیر میں پہلے ہی ایک کالعدم تنظیم دردِسر بن چکی ہے ۔ مجھے نہیں لگتا کہ تلخی کے اس ماحول میں اگلے دونوں مراحل کا انتخاب کیسے ممکن ہوگا ؟ اگر بلاول صاحب اس کمزوری پر اپنی سیاست استوار کر رہے ہیں تویہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت عمل ہے ۔

وطنی سیاست دلچسپ ، سیاسی کھیل کے اصول ہر انتخاب کے بعد بدل دیے جاتے ہیں ۔ اقتدار آئین کےمطابق منتقل نہیں ہوتا بلکہ متنازع اور انجینئرڈ کا نشان چسپاں رہتا ہے ۔ RTS جیسے اسکینڈلز ، فارم 47 جیسے تنازعات ، پس پردہ سودے بازی ، دباؤ اور خفیہ مفاہمتوں نے سیاسی ارتعاش پیدا کر رکھا ہے ۔ سیاسی اختلافات پارلیمنٹ کے اندر حل نہیں ہوتے بلکہ بند کمروں میں طاقت اور جبر کے ذریعے نمٹائے جاتے ہیں ۔ حقیقی سیاسی نظام کا تسلسل ہوتا تو جوابدہی اور قومی اتفاقِ رائے پیدا ہو پاتا ، بدنصیب وطن کے نظام کو عشروں سے مقتدرہ اور اشرافیہ کی باہمی سودے بازی اور مفاہمتی گٹھ جوڑ نے اندر سے کھوکھلا کررکھا ہے ۔ عوام کا نظام پر اعتماد تقریباً ختم ہو چکا ہے ۔ زمانہ قدیم سے ووٹ کی حرمت بار بار پامال کی جارہی ہے ، اکثریت انتخابی عمل سے بدظن ، وطنی سیاست میں دلچسپی کھو بیٹھی ہے ۔ عوام کے جم غفیرکا خیال کہ انتخابات سے حقیقی تبدیلی کیا آنی ہے ، بے ڈھنگا نظام مزید مستحکم ہو جاتا ہے ۔

پائیدار ریاستیں دو ستونوں پر کھڑی ہوتی ہیں : ایک نظریہ جو قوم کو متحد رکھے ، دوسرا ایسی ایگزیکٹو جو آئین کے تابع مؤثر انداز میں آئین کےمطابق کام کرنے کی اہل ہو ۔ مملکت آج دونوں ستونوں سے محروم ہے ۔ نظریے کی بالادستی کے بجائے طاقت کی بالادستی ترجیح بن چکی ہے ۔ آئین کی حکمرانی کے بجائے دھونس دھاندلی میں دہائیاں بیت چکی ہیں ۔ نظریہ پر قائم ریاست کو ہم کارپوریشن کی طرح چلا رہے ہیں ۔ کشمیر کے حالات نے طبیعت مکدر کر رکھی ہے ۔ کس کے آگے گڑ گڑائیں کہ کشمیر بلاول بھٹو زرداری کے حوالے کر دیں مبادا اقتدار کی ہوس کہیں پھر سے 16 دسمبر 1971 کا دن نہ چڑھا دے۔ اس سے پہلے بھی تو 6 نہروں کا معاملہ ، NFC ایوارڈز ، مزید صوبے بنانا اور GB حکومت ، 28ویں ترمیم پر بلاول بھٹو صاحب نے جارحانہ انداز اپنا کر رعب اور دبدبے سے ریاست کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔

کاش پاکستان اپنے نظریاتی مقصد کو دوبارہ زندہ کر پاتا، ایک حقیقی ، آزاد اور آئینی سیاسی نظام کو کام کرنے کا موقع ملتا توملک آگے بڑھتا ، ساتویں آسمان کو چھوتا۔ پچھلے 2سال کی غیرمعمولی حیرت انگیز کامیابیوں کو 25 کروڑ لوگ انجوائے کرتے ناکہ آج مملکت میں اجنبی بنتے ۔ ہے کوئی اللّٰہ کا بندہ جو پاکستان کیلئے قربانی دے ؟ اپنی انا کو مجروح کرے ؟ خدشہ ہے دیر ہو چکی ہے کہ گیدڑ اپنے غاروں سے نکل آئے ہیں۔

 

Back to top button