24 نومبر کا احتجاجی منصوبہ کسی بھی وقت منسوخ ہونے کا امکان

عمران خان کی تیسری اہلیہ بشری بی بی کے سعودی عرب مخالف بیان کے بعد تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ اب 24 نومبر کا احتجاج ناکام ہونے کا امکان اور بھی بڑھ گیا یے لہذا اسے منسوخ کر دینا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ کسی بھی وقت متوقع ہے۔

پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے 22 نومبر کی رات اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاجی مارچ کی اجازت نہ ملنے کے بعد کی صورتحال پر غور کرنے کے علاوہ بشریٰ بی بی کے پیدا کردہ تنازعے پر بھی غور کیا۔ اس اجلاس میں شامل پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں کے مطابق، سیاسی کمیٹی کے ارکان کی اکثریت عدالتی فیصلے کی روشنی میں 24 نومبر کے احتجاج کو منسوخ کرنے کے حق میں تھی۔ ان کا موقف تھا کہ حکومت سے بات چیت کو اگے بڑھاتے ہوئے باعزت طریقے سے احتجاج کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دینا چاہیے۔ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ یہ احتجاج کی کال واپس لینے اور حکومت سے بات چیت میں آگے بڑھنے کی تجاویز عمران خان کو پیش کی جائیں تاکہ وہ اس پر حتمی فیصلہ کر سکیں۔

بتایا جاتا ہے کہ سیاسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے احتجاجی مارچ کے معاملے پر بات چیت کیلئے پشاور میں پارٹی رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا۔ پی ٹی آئی رہنما اور علی امین گنڈا پور کے مشیر بیرسٹر سیف نے رابطہ کرنے پر کہا کہ اگرچہ وہ سیاسی کمیٹی کے رکن نہیں، لیکن عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کیلئے پارٹی میں بات چیت ہو رہی ہے۔ بشریٰ بی بی کے سعودی عرب سے متعلق ویڈیو بیان سے پیدا ہونے والے سنگین تنازع پر پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی کمیٹی کے بیشتر ارکان خوش نہیں تھے اور انہوں نے اس کی مخالفت کی۔ تاہم وہ بشریٰ بی بی کے بیان کو کھل کر مسترد کرنے کا فیصلہ نہ کر سکے۔ تاہم اس بات پر اتفاق تھا کہ بشری کے بیان نے تحریک انصاف کے لیے صورتحال مزید مشکل کر دی ہے جس کا اثر 24 نومبر کے احتجاج کی کال پر بھی پڑے گا۔

اس حوالے سے سینیئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ پی ٹی ائی کے کچھ رہنماؤں نے علی امین گنڈاپور کی زیر قیادت ہونے والے اجلاس میں مشورہ دیا کہ پی ٹی آئی کو چاہئے کہ وہ بشریٰ بی بی کے بیان سے فاصلہ اختیار کریں اور خاتون کو اپنا دفاع کرنے دینا چاہئے۔ تاہم، اس بات کا فیصلہ بھی نہ ہو سکا۔

دوسری جانب ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے واضح کیا ہے کہ اس کا پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان ہونے والے پس پردہ رابطوں سے کوئی تعلق نہیں۔ عسکری ذرائع نے اس تاثر کی واضح تردید کی کہ گویا یہ پس پردہ رابطے اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے ہو رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ فوج کسی سیاسی جماعت سے بات نہیں کرے گی۔ یہ سیاسی جماعتوں کا کام ہے کہ وہ ایک دوسرے سے بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کسی سیاسی رہنما یا سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کرے گی۔

عسکری ذرائع نے رواں سال مئی میں آئی ایس پی آر کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ادارے کا بیان کردہ موقف بدستور قائم ہے۔ مئی میں ان کی پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر سے پی ٹی آئی اور عمران خان کے ساتھ کسی ڈیل کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ فوج کا کوئی سیاسی کردار نہیں۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ فوج غیر سیاسی ہے اور ہر حکومت کے ساتھ اس کے تعلقات آئین اور قانون کے مطابق ہیں، تمام سیاسی جماعتیں ہمارے لیے قابل احترام ہیں لیکن اگر کوئی سیاسی گروپ اپنی ہی فوج پر حملہ کرتا ہے تو کوئی اس کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا، ایسے انتشار پسند گروہ کیلئے واحد راستہ یہ ہے کہ وہ قوم سے معافی مانگے، نفرت کی سیاست ترک اور تعمیری سیاست کا وعدہ کرے۔

عسکری ذرائع کا کہنا تھا کہ فوج کی پالیسی بدستور برقرار ہے اور اگر عمران خان کوئی ریلیف حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ فوجی قیادت سے امیدیں باندھنے کی بجائے عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کریں جس نے ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔

Back to top button