پی ٹی آئی والے اپنے کپتان کے ساتھ سیدھے ہونے والے ہیں

سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے جسکے بعد عمران خان کے بہت سارے ساتھی اراکین اسمبلی ان سے اسی سخت لہجے میں بات کرنے جا رہے ہیں جس لہجے میں پرویز خٹک نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کی۔ تاہم فرق یہ ہوگا کہ یہ لوگ بات کر کے پرویز خٹک کی طرح پیچھے نہیں ہٹیں گے اور نہ تردید کریں گے بلکہ اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔
معروف اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف بات کی ہو۔ وہ ماضی میں بھی اس طرح کی باتیں کر چکے ہیں۔ گذشتہ برس فروری میں چارسدہ میں ایک جلسے کے دوران خٹک نے اعلان کر ڈالا تھا کہ عمران خان کو میں نے وزیر اعظم بنواایا ہے اور جو بنا سکتے ہیں وہ گرا بھی سکتے ہیں۔
تاہم، پرویز خٹک کے ان الفاظ پر تب پارٹی کی طرف سے زیادہ رد عمل نہیں دیا گیا تھا۔ ٹی وی چینلز نے بھی اس بیان کو اچھالنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔ تاہم، اس مرتبہ پرویز خٹک کی شعلہ بیانی میڈیا پر چھا گئی ہے جس کی وجہ موجودہ غیریقینی سیاسی صورتحال ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پارلیمانی اجلاس سے پہلے پرویز خٹک تنہائی میں بھی عمران سے ان کے چیمبر میں ملاقات کر چکے تھے، تاہم وہاں انہوں نے ایسا سخت لب و لہجہ اختیار نہیں کیا تھا۔ لیکن جب پارلیمانی اجلاس میں وزیر دفاع نے اچانک انکے ساتھ سخت لب و لہجہ اختیار کیا تو وزیر اعظم خود بھی بھونچکے رہ گئے۔
انکا یہ رویہ صرف پارٹی کے لئے سرپرائز نہیں تھا بلکہ عمران خان کے لئے بھی پریشا ی کا باعث تھا اور وہ پرویز خٹک کا ایک بدلا ہوا روپ دیکھ کر حیران تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے جوابی طور پر خٹک سے سخت لہجے میں کہا کہ تم مجھے سب کے سامنے بلیک میل کر رہے ہو لیکن میں بلیک میل نہیں ہوں گا اور اگر زیادہ مسئلہ ہوا تو میں اقتدار اپوزیشن کے حوالے کردوں گا۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ منی بل تو پاس ہونا ہی تھا لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید لوگ عمران خان سے پرویز خٹک والے لب و لہجے میں بات کریں گے، لیکن وہ وزیر دفاع کی طرح بات کر کے پیچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ ڈٹ کے کھڑے ہو جائیں گے۔
آج ٹی وی کے پروگرام میں عاصمہ شیرازی نے فہد حسین سے پوچھا کہ وزیر اعظم نے پارٹی اجلاس میں یہ بھی کہا کہ میں اقتدسر چھوڑ دیتا ہوں، آپ کسی اور کو وزیر اعظم بنا لیں، اس پر آپ کیا کہیں گے۔ جواب میں فہد کا کہنا تھا کہ یوں لگتا ہے کہ ان پر بالآخر دباؤ آ گیا ہے اور اتنا شدید ہے کہ اسے ریلیز کرنے کا اور کوئی طریقہ نہیں۔
تبدیلی سرکار میں بغاوت؟
انکا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے استعفے کی باتیں کرنا دراصل اس دباو کو ریلیز کرنے کی کوشش ہے۔ فہد نے کہا کہ پرویز خٹک کی عمران خان سے منہ ماری کی خبر اندر سے کسی نے لیک کی جو فوراً میڈیا میں آ گئی حالانکہ رپورٹرز تو پارٹی اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ جس نے بھی خبر بھیجی، سب چینلز کو بھیجی کیونکہ یہ خبر کسی چینل کی ایکسکلوژو نہیں تھی بلکہ سب پر چل رہی تھی اور ایک ہی جیسے ٹکرز تھے۔ اس موقع پر عاصمہ شیرازی نے معنی خیز انداز مین فہد کی بات میں اضافہ کیا کہ سب سے پہلے یہ خبر ARY پر چلی۔ عاصمہ نے یہ بات اس لئے کہی کہ ARY کی PTI اور اسٹیبلشمنٹ سے محبت ڈھکی چھپی تو نہیں اور اسے حکومت نواز ٹی وی چینل سمجھا جاتا ہے ہے۔
فہد حسین نے کہا کہ پرویز خٹک سیاست کے عام کھلاڑی نہیں ہیں، وہ بہت منجھے ہوئے سیاستدان ہیں، کمزور شاٹ نہیں کھیلتے اسی لیے ان کی تردید بھی مبہم تھی اور رپورٹ ہونے والی گفتگو پر انہوں نے یہ نہیں کہا کہ پارٹی اجلاس میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔فہد کا کہنا تھا کہ PTI میں ایک لمبی فہرست ہے loose shot کھیلنے والوں کی لیکن پرویز خٹک ان میں سے نہیں۔انہوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف میں ہر شخص دوسرے سے لڑتا ہے لیکن اب ریڈ لائن بھی عبور ہو گئی ہے کیونکہ اس سے پہلے کبھی کسی نے وزیر اعظم سے یوں بات نہیں کی۔ اب تو ان کے منہ پر انکے خلاف تنقید ہوئی ہے اور یہ PTI کے لئے بھی نیا ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے مابین تحریک انصاف کے پارلیمانی اجلاس کے دوران ہونے والی منہ ماری اس وقت مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔ اجلاس میں پرویز خٹک نے عمران کو منہ پر کہہ دیا تھا کہ آپکو وزیراعظم ہم نے بنوایا ہے، لیکن اگر آپ کا یہی رویہ رہا تو ہم آپ کو دوبارہ ووٹ نہیں دے سکیں گے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پرویز خٹک کا یہ بدلتا لہجہ بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال کی وجہ سے ہے جس میں عمران خان کے گھر جانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
