خلال سے بھی گئے اور خرام سے بھی گئے

تحریر: وجاہت مسعود
بشکریہ: روزنامہ جنگ
اکتوبر 2021تھا۔ ’نیا پاکستان‘بنانیوالوں کی آئینی میعاد مکمل ہونے سے دو برس قبل ہی اس ان کہی کشمکش کے آثار ہویدا ہو رہے تھے جو وطن عزیز پر باقاعدگی سے ہر تین برس بعد موسم خزاں میں اترتی تھی۔ 2007ءکے بعد سے ایک طاقتور منصب کی آئینی میعاد نومبر میں ختم ہوتی تھی۔ اس متوقع تبدیلی کا برس اولوالعزمی، سازش اور افواہوں کے جلو میں نمودار ہوتا تھا۔ تخت نشین کے نہاں خانہ دل میں توسیع جلوس کی خواہش مچلتی تھی۔ تاج پوشی کے امیدوار خواب کی چادر اوڑھے شفق آلود شام کی گلیوں میں نکلتے تھے۔ واقعات کی مانوس تمثیل کے مناظر محل سرا کے در و یوار پر جانی پہچانی ترتیب سے رونما ہوتے تھے۔ فرد کا مگر اس منطقہ گیتی پر سفر طے ہے۔ بچپن، جوانی، زوال عمر، شکستِ اعضا اور پھر بہانہ مرگ۔ آخر فنا، آخر فنا۔ روزگار دنیا فرد کے داخلی سفر سے بے نیاز ہے۔ 2021ءمیں آپ کا نیاز مند عمر کے اس منطقے میں داخل ہو رہا تھا جہاں خواب جوانی کو بالآخر اپنی تحدیدات، خامیوں، ناکامیوں اور ارادوں کے فسخ کا اشارہ ملنے لگتا ہے۔ ہم ایسے سوختہ جان شہریوں کو امور خسرواں سے کیا تعلق۔ ہمارے لیے تو سیماب اکبر آبادی کی آہ سرد کا اشارہ ہی چراغ رہ گزر ہے۔ ’دل کیا ٹھہر گیا کہ زمانہ ٹھہر گیا‘۔ اکتوبر 2021 ءمیں اسی ادارتی صفحے پر ایک کالم لکھا تھا، ’درویش کے دانت سویلین ہو گئے‘۔ ذاتی واردات کے پردے میں اجتماعی آشوب کا بیان تھا۔ کہنا یہ تھا کہ شہری کے دانت دبائو برداشت کرنے کی طاقت کھو بیٹھے ہیں۔ ریاست کی اندھی طاقت کے طوفان بلا خیز کے مقابل ایک شہری کی جانِ ناتواں کی کیا بساط۔ جہاں ایک کندہ ناتراش اہل کار خود ساختہ حرم سرا کی کنسوئی سے تحریک پا کر بے نتھنے بیل کے مانند کراچی پر چڑھ دوڑے اور پچاس برس کا قومی اثاثہ، 1970 سے نکلنے والے موقر ترین انگریزی جریدہ روندتا، نتھنوں سے دھواں خارج کرتا اسلام آباد لوٹ آئے۔ اس معرکے میں عشق بچارا کرے گا کیا / خود حسن کو ہیں جان کے لالے پڑے ہوئے۔ خیر گزری کہ حسن دساور سے درآمدہ فتوح کا حصہ تھا۔ اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے۔ اس ملک کے لوگ بزبان حال پوچھتے ہیں کہ شوکت عزیز، منصور اعجاز، ڈاکٹر باقر رضا اور محترمہ سنتھیا ڈی رچی ان دنوں کہاں ہوتے ہیں؟’ان دنوں صورت بربادیِ یاراں کیا ہے‘۔

سیماب اکبر آبادی جنوری 1951ءمیں رخصت ہوئے تھے۔ تب نئی غزل کی نمود تھی اور نئے رنگ کے جدید تعلیمیافتہ شاعروں کی رونمائی۔ تقسیم ہند کی اٹھا پٹخ کے اندمال سے گزرتا ہوا قافلہ جو غزل کے نئے لہجوں اور نئی اقدار کا نقیب تھا۔ اس قافلے میں احمد مشتاق بھی تھے۔ سینے میں سوز دروں کا الائو مگر کلام میں کمال ضبط بیاں تھا۔ اس زمانے میں احمد مشتاق کا ایک شعر بہت چمکا۔ شاعر نے آئندہ زمانوں کی چاپ سن لی تھی۔ ’دلوں کی اور دھواں سا دکھائی دیتا ہے / یہ شہر تو مجھے جلتا دکھائی دیتا ہے۔‘ جس نگر میں آوازوں کا قحط نمودار ہو جائے، وہاں آگ کا الائو بھڑکے ہی بھڑکے۔ درویش نے اپنے دانت سویلین ہونے کی خبر دی تھی، بے پرکی نہیں اُڑائی تھی۔ کچھ عرصہ گزرا تو اگلی خبر دینا پڑی۔ ’درویش کے دانت نمائشی ہو گئے‘۔ یہ خبر بھی حقیقت سے خالی نہیں تھی۔ اب تو نمائشی دانتوں پر بھی چار برس گزر گئے۔ اس بیچ زمین اور اہل زمین پر بہت کچھ گزر گیا۔ پشتینی تاشے اور نفیریاں بجانے والے جلوس شاہی کے ہم رکاب رہے مگر معیشت کی مشیت سے کسے مفر ہے۔ مرکز اور صوبوں میں تعلیم پر کل اخراجات مجموعی قومی پیداوار کا 0.8 فیصد رہ گئے۔ صحت عامہ کے لیے تفویض وسائل ایک فیصد سے بھی نیچے اتر آئے۔ قرضوں اور سود کی ادائی کل بجٹ کے 47 فیصد کو پہنچ گئی۔ کل داخلی پیداوا ر کا قریب 2 فیصد دفاع کو تفویض ہوا جو وفاقی بجٹ کا 15 فیصد حصہ بنتا ہے لیکن اس دوران قرضوں کی مد میں اخراجات دفاعی بجٹ سے تین گنا بڑھ گئے۔ صاحبان ذی وقار کہتے ہیں کہ 2010 میں طے پانے والا قومی مالیاتی ایوارڈ نظرثانی کا محتاج ہے۔ یہ مالیاتی ایوارڈ اٹھارہویں آئینی ترمیم سے بندھا ہے جس میں ریاست نے 1973 میں کیا گیا صوبائی خود مختاری کا وعدہ 37 برس کی تاخیر سے پورا کیا تھا۔ ساتویں قومی فنانس ایوارڈ میں وفاق کا حصہ 43 فیصد اور صوبوں کا حصہ 57 فیصد کر دیا گیا۔ یہ ترتیب نو اسلام آباد کو خوش نہیں آئی۔ گزشتہ سترہ برس اس انتظام کے خلاف ذہن سازی میں صرف ہوئے ہیں۔ الزامات یہ ہیں کہ صوبائی حکومتیں مالیاتی وسائل خرچ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتیں۔ صوبوں نے اپنے اختیارات اور وسائل مقامی حکومتوں کی سطح پر منتقل نہیں کئے۔ نیز یہ کہ وفاق کے پاس اپنی بنیادی ضروریات کیلئے وسائل کم پڑ گئے ہیں۔ ان اختلافات کے نتیجے میں آئندہ مالی برس کا بجٹ التوا میں چلا گیا۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ پہلے سے موجود صوبوں نے اجتماعی رائے سے پاکستان کا وفاق مرتب کیا ہے۔ اگست 1947ءمیں قائم ہونیوالے پاکستان نے صوبے تشکیل نہیں دیے۔ اگر پاکستان کی وفاقی اکائیاں نااہل ہیں تو مرکز کو چلانے والے صاحبان فیصلہ ساز کیا مریخ سے درآمد کیے جائینگے۔ بے شک مقامی حکومتیں جمہوری تصویر کا ناگزیر حصہ ہیں لیکن پاکستان میں مقامی حکومتوں کے نزاع کا ہمارے سیاسی ارتقا سے گہرا تعلق ہے۔ 1973ء کے دستور میں وفاقِ پاکستان کے مختلف اجزا میں ایک نازک توازن قائم کیا گیا جسے 1985 ء اور پھر 2003 ء میں بے درنگ مجروح کیا گیا۔ 2010 ء میں اس نشتر زنی کی جزوی رفوگری ہی ہو سکی۔ صوبوں سے وسائل مرکز کو منتقل کر کے معیشت سنبھالنے کے داعیوں کو سوچنا چاہیے کہ قومی معیشت کا کل حجم داخلی بندربانٹ سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کیلئے پیداوار، انسانی سرمائے اور سماجی توانائی میں اضافے کی ضرورت ہے۔ اِس کوٹھڑی کے دھان اُس کوٹھڑی میں منتقل کرنے سے پاکستان کی معاشی تصویر نہیں بدل سکتی۔ اس انتظار میں درویش کے دانتوں کا ضعف پائے استقلال تک آن پہنچا ہے۔ اگر معیشت کی شیرازہ بندی پر گروہی تعصبات یونہی کارفرما رہیں گے تو کہیں سے آواز آئے گی۔ ’خلال سے بھی گئے اور خرام سے بھی گئے‘۔

 

Back to top button