بے مقصد کا یہ تماشا

تحریر: ایاز میر
بشکریہ: روزنامہ دنیا

قوم کو لاحق دیگر دردِ سر کم نہ تھے کہ پانی کے مسئلے کی صورت میں ایک اور کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر غم وغصہ ہے اور ایسے بیانات سننے کو ملتے ہیں کہ اپنے حصے کے پانی کی حفاظت کے لیے آخری حد تک جا سکتے ہیں۔ یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے ساتھ کیا۔ ایران جنگ سے پہلے اس واٹر وے سے دنیا کے تمام جہاز بلا روک ٹوک گزرتے تھے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اور ایرانیوں نے آبنائے ہرمز بند کر دیا۔ یعنی پہلے جہاں مسئلہ نہیں تھا وہاں ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ سندھ طاس معاہدے نے جنگیں برداشت کیں‘ گزرے وقتوں میں کشیدگی کی تمام صورتوں کے باوجود معاہدے پر کوئی آنچ نہ آئی۔ لیکن اب جو ہندوستان کے ساتھ حالات کشیدہ ہوئے تو ہندوستان نے معاہدہ معطل کر دیا۔ یعنی جہاں پہلے کوئی مسئلہ نہ تھا اب پیدا ہو گیا ہے۔
دریائے جہلم اور چناب کے پانیوں پر ہندوستان ویسے ہی اثر انداز ہو رہا ہے۔ چناب کے پانیوں پر اُس کا کنٹرول خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے‘ جب چاہے پانی کی ترسیل رک جاتی ہے اور جب پیچھے سے پانی کا دباؤ زیادہ ہو تو بغیر اطلاع دیے پانی چھوڑ دیا جاتا ہے جس سے نیچے کے علاقوں میں سیلاب والی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ جواب میں ہماری زبان سخت ہوتی ہے‘ پر سخت زبان سے تو یہ مسئلہ حل نہیں ہونا۔ہندوستان کے اس حربے کے اثرات ایک یا دو دن میں ظاہر نہیں ہونے‘ یہ تو سالوں کی بات ہے۔ جہلم اور چناب کے پانیوں میں ہندوستان مداخلت کرتارہا تو پنجاب اور سندھ کی زرعی معیشت پر برا اثر پڑے گا۔ کیا اس صورت میں میزائل چلا دیے جائیں گے؟ اس سوال کا جواب دینے کیلئے کوئی تیار نہیں۔ بغیر سوچے ویسے ہی بیانات داغ دیے جاتے ہیں جیسا کہ بلاول بھٹو نے ایک دو روز پہلے یہ کہہ دیا کہ پانی رکے تو جنگ ہو گی۔ جہلم اور چناب کے پانی جہاں سے شروع ہوتے ہیں‘ لائن آف کنٹرول عبور کرکے اُن مقامات پر ہم نے قبضہ کرنا ہے؟
ملکوں میں مسائل ہوتے ہیں لیکن یہ جو کیفیت ہندوستان اور پاکستان میں قائم ہے یہ کوئی فطری یا نارمل بات نہیں۔ دانشمندی کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس صورتحال کو ختم نہیں تو کم کیا جائے‘ لیکن عجیب ماجرا ہے ہم دو ممالک کا کہ بے عقلی کم کرنے کے بجائے جو منہ کھولتا ہے بگاڑ کی طرف ہی حالات کو لے جاتا ہے۔ ہمسایوں سے اچھے تعلقات چاہنا بزدلی کا سودا نہیں ہے۔ یہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے فائدے کی بات ہے۔ ہندوستان کی معیشت ہم سے بڑی ہے‘ وہ بہت کچھ سہہ سکتے ہیں مگر ہم تو پھنسے ہوئے ہیں‘ ایک طرف معیشت کی زبوں حالی اور دوسری طرف افغان بارڈر پر کشیدگی اور ہندوستان سے تعلقات خراب۔ اوپر سے یہ پانی والا مسئلہ۔ کم از کم آئندہ سالوں میں یہ تو دردسر نہ بنے۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہندوستان اور پاکستان میں آپس کے تعلقات کچھ بہتر ہوں۔
جس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شکوک وشبہات راتوں رات ختم ہو سکتے ہیں۔ نہیں ہوں گے‘ ہم ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے رہیں گے۔ لیکن جہاں بہتری لائی جا سکتی ہے وہ اقدام تو کیے جائیں۔ یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ اسلام آباد میں ہندوستانی سفیر نہیں اور دہلی میں پاکستانی سفیر نہیں۔ آپریشن سندور ہو گیا‘ ایک دوسرے پر میزائل اور ڈرون حملے ہوئے‘ ہندوستان کے رافیل طیارے مار گرائے گئے۔ اس سے آگے بھی چلیں یا یہیں ہم نے پھنسے رہنا ہے کہ اتنے جہاز گرائے اور اتنا گراف ہمارا اونچا گیا۔ معرکے کے بارے میں ہم پھر بھی سچ پر ہیں‘ ہندوستان کی پوری کہانی افسانے اور مبالغے پر مبنی ہے۔ پھر بھی معرکہ ہو گیا اب آگے کی سوچیں۔ پہلا قدم تو ہے سفیروں کا تعینات ہونا اور پھر واہگہ اٹاری بارڈر پر تجارت کی بحالی۔ اتنا ہو جائے تو پھر فضا بنتی ہے ایسے اقدامات پر غور کرنے کے لیے کہ مزید راستے کھل جائیں‘ مظفرآباد سری نگر بس سروس چل پڑے‘ لاہور دہلی بس سروس بحال ہو‘ لوگوں کا آنا جانا شروع ہو۔ ایسے اقدامات ہوتے ہیں تو ہماری نیوکلیئر صلاحیت پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ دونوں اطراف میزائل رہیں گے‘ لڑاکا جہاز موجود ہوں گے۔ واہگہ اٹاری بارڈر پر ہر شام پریڈ ہوتی رہے گی اور دونوں طرف سے آئے لوگ تالیاں بجاتے رہیں گے۔
اور اگر بہتری کی طرف کچھ نہیں کیا جاتا اتنا تو پھر سوچا جائے کہ موجودہ صورتحال سے حاصل کیا ہونا ہے۔ سوائے بیان بازی کے اور تو کچھ نظر نہیں آتا کہ ایسی صورتحال سے حاصل ہو ۔ لہٰذا نئی دہلی اور اسلام آباد دونوں میں کچھ نئی سوچ پیدا ہو اور بہتری کی طرف کا کچھ سوچا جائے۔ ہندوستان کا بھلا ہوتا ہے یا نہیں ہمارا اس میں فائدہ ہے۔ ہمارے دو لمبے بارڈر ہیں اور دونوں پر صورتحال خراب ہے۔ افغانستان کا تو چلیں الگ مسئلہ ہے لیکن ہندوستان کے ساتھ تناؤ کی کیفیت‘ اس میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے منتخب لیڈروں نے عمومی طور پر ہندوستان سے بہتر تعلقات چاہے ہیں۔ نواز شریف بہتری چاہتے تھے‘ عمران خان بھی۔ وزیراعظم بننے پر عمران خان کی پہلی تقریر سنی جائے‘ ہندوستان کا خاص ذکر ہے۔ لیکن منتخب لوگ پھر اس ضمن میں کچھ کر نہ پائے۔ اب صورتحال مختلف ہے۔ معاملات کسی منتخب قسم کے راہنما کے ہاتھ میں نہیں۔ فیصلہ سازی اس لیے زیادہ آسان ہے۔ جو طاقت کا اس وقت سرچشمہ ہے وہیں سوچ پیدا ہونی چاہیے کہ دیارِ غیر کی جنگیں تو ایک طرف رہیں اپنی صورتحال کا بھی کچھ کیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ جسے ہم بغرضِ احتیاط مقتدرہ کہتے ہیں جب تک وہ اس عمل میں شامل نہ ہو اس محاذ پر بہتری کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔
یاد رہے کہ جنرل ضیا الحق کے زمانے میں دونوں ملکوں میں بڑا آنا جانا ہو گیا تھا۔ لاہور میں بسنت ہوتی اور بارڈر پار سے اتنے مہمان آئے ہوتے کہ لاہور کے کسی ہوٹل میں جگہ نہ ملتی۔ پھر مشرف آئے اور گو وہ واقعۂ کارگل کے خالق تھے‘ جب اقتدار سنبھالا تو دونوں ممالک میں آنا جانا پھر سے بڑھنے لگا۔ صحافیوں کے ٹولے اسلام آباد آتے اور ایسے ہی ٹولے یہاں سے وہاں جاتے۔ آگرہ کانفرنس ہوئی تو پورا ایک جہاز پاکستانی صحافیوں کا وہاں پہنچا ہوا تھا۔ دو تین روز ہم جیسے صبح شام انڈین ٹی وی سکرینوں پر بیٹھے ہوتے۔ اس پر غور کرنا ضروری ہے کہ وہاں سے بگاڑ کی طرف صورتحال کیسے گئی۔
اب بھی ایسا موقع ہے کہ جنرل ضیا اور جنرل مشرف کی مانند بہتری کی طرف قدم اٹھائے جائیں۔ ہمارے ذمہ دار لوگ کچھ حرکت میں آئیں‘ کچھ روابط وہاں پیدا کیے جائیں۔ عمان یا کسی ایسی جگہ میل ملاقات ہو جائے۔ سفیروں کی تعیناتی پر بات ہو اور تجارتی رابطے بحال ہوں۔ پھر فضا بنے کچھ اور کرنے کی۔

Back to top button