قلعے کی فصیل پر کھڑے ہو کر دیکھنے والے

تحریر: یاسر پیر زادہ
بشکریہ: روزنامہ جنگ
میں قلعے کی فصیل پر کھڑے ہو کر نیچے دیکھتا ہوں۔ روزانہ ایک ہی منظر ہوتا ہے۔ نیچے لوگ آتے ہیں۔ پہلے پہل تو وہ یونہی آ کر قلعے کی دیواروں کو تکتے رہتے تھے۔ یہ دیواریںاس قدر مضبوط اور اونچی ہیں کہ انہیں دیکھنے کیلئے سر کو آسمان کی طرف کرنا پڑتا ہے۔ مگر اب وہ صبح سویرے جمع ہو جاتے ہیں اور شام تک قلعے کی فصیل کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے رہتے ہیں۔ جہاں میں کھڑا ہوں وہاں سے یہ لوگ بالکل بونے نظر آتے ہیں۔ شاید ہم بھی انہیں ایسے ہی لگتے ہیں۔ قلعے کا دروازہ بہت بڑا ہے اور وہاں کچھ محافظ بھی مامور ہیں مگر اِن کی تعداد اتنی زیادہ نہیں۔ جمع ہونیوالے،کبھی کبھار جب ہجوم زیادہ ہو جاتا ہے تو یہ محافظ اپنی چھڑی سے زمین پر تین ضربیں لگاتے ہیں۔ پہلی ضرب پر لوگ خاموش ہو جاتے ہیں۔ دوسری پر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ تیسری پر کچھ لوگ گر جاتے ہیں۔ ہم فصیل پر کھڑے یہ سب دیکھتے ہیں۔ ہم، یعنی میں اور وہ لوگ جو میرے ساتھ فصیل پر موجود ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے بہت قریب کھڑے ہوتے ہیں مگر ہماری قربت کا کوئی مطلب نہیں۔ ہم ایک دوسرے کے کندھوں سے لگ جاتے ہیں مگر ایک دوسرے کی زندگیوں سے نہیں۔ کبھی کسی کا ہاتھ میرے بازو سے چھو جاتا ہے، میں چونک کر اسے دیکھتا ہوں، وہ بھی مجھے دیکھتا ہے، پھر دونوں نیچے دیکھنے لگتے ہیں، جیسے ہم نے کوئی ممنوعہ حرکت کر دی ہو۔ نیچے آنیوالوں کے ہاتھوں میں درخواستیں ہوتی ہیں۔ کچھ کاغذ اتنے پرانے ہوتے ہیں کہ ان پر لکھی ہوئی سیاہی خود داد رسی مانگتی ہے۔ ایک آدمی ہر تیسرے دن آتا ہے۔ اس کے پاس کپڑے میں لپٹا ہوا بنڈل ہوتا ہے۔ وہ دربان کے سامنے جھک کر کہتا ہے، ”حضور، اس میں میرے باپ کا مقدمہ ہے۔“

دربان پوچھتا ہے، ”تمہارا باپ کہاں ہیں؟“

”مر گیا۔“ ”تو مقدمہ کس کا ہے؟“

”اب میرا ہے۔“

”تم مر جاؤ گے تو؟“

آدمی بنڈل کو سینے سے لگا لیتا ہے۔ ”پھر میرے بیٹے کا ہوگا۔“ ”پھر انتظار کرو۔“

آدمی بیٹھ جاتا ہے۔ کبھی وہ شام تک بیٹھا رہتا ہے، کبھی رات ہونے سے پہلے چلا جاتا ہے۔ ایک بار اس نے اوپر فصیل کی طرف دیکھا تھا۔ مجھے یقین ہے اس نے مجھے دیکھا۔ میں فوراً پیچھے ہٹ گیا۔ مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ مجھے پہچان نہ لے حالانکہ میں اسے نہیں جانتا تھا۔ یا شاید جانتا تھا۔ فصیل پر آنے کے بعد آدمی اپنے جاننے والوں کو بھول جاتا ہے۔

ایک لڑکی بھی آتی تھی۔ اس کی عمر کا اندازہ مشکل تھا کیونکہ نیچے کھڑے لوگوں کی عمر جلدی بدلتی ہے۔ پہلی بار وہ بچی لگتی تھی، دوسری بار جوان، تیسری بار بوڑھی۔ اس کے ہاتھ میں کوئی کاغذ نہیں ہوتا تھا۔ دربان نے اُس سے پوچھا، ”درخواست کہاں ہے؟“

اس نے کہا، ”میرے پاس زخم ہے۔“

دربان نے کہا، ”زخم پڑھا نہیں جا سکتا۔“

”دیکھا تو جا سکتا ہے۔“

دربان نے رجسٹر بند کر دیا۔ ”یہاں پڑھا جاتا ہے، دیکھا نہیں جاتا۔ انتظار کرو۔“ وہ لڑکی کئی دن آتی رہی۔ پھر ایک دن اس نے دیوار پھاندنے کی کوشش کی۔ دیوار پھاندنے والے عموماً رات کو آتے ہیں، مگر وہ دوپہر میں آئی اور قلعے کے دروازے سے کچھ دور گئی، جہاں فصیل کا ایک حصہ پرانی بیلوںسے ڈھکا ہواتھا۔ اس نے بیل پکڑی، پاؤں پتھر کی دراڑ میں رکھا، اور چڑھنے لگی۔ اہلکاروں نے بیل کاٹ دی۔ لڑکی گری نہیں، وہ کچھ دیر دیوار سے چمٹی رہی۔ پھر ایک اہلکار نے نیزے کی نوک سے اس کی انگلیوں کو چھوا۔ بس چھوا۔ وہ نیچے آ گری۔ ہجوم پیچھے ہٹ گیا، جیسے گرنے والا انسان نہیں کوئی بے جان چیز ہو۔ اگلے دن وہ نہیں آئی۔ تیسرے دن بھی نہیں۔ ساتویں دن فصیل پر ایک نیا چہرہ نظر آیا۔ وہی لڑکی۔ یہ پہلی بار نہیں تھا کہ نیچے سے کوئی اوپر آیا ہو۔ شروع میں میں نے اس بات کو اتفاق سمجھا۔ پھر ایک دن میں نے ایک آدمی کو پہچانا۔ وہ پہلےنیچے ہجوم میں آیا کرتا تھا۔ اسکی کمر جھکی ہوئی تھی مگر آواز بلند تھی۔ وہ اکثر دربان سے بحث کرتا۔ دربان ہر بار کہتا ”انتظار کرو۔“ پھر وہ آدمی کئی ہفتے غائب رہا۔ ایک صبح میں نے اسے فصیل پر دیکھا۔ اسکی کمر اب سیدھی تھی۔ اسکے ہاتھ خالی تھے۔ وہ میرے قریب سے گزرا تو میں نے اسے پہچان لیا۔ وہ میرے قریب آ کھڑا ہوا۔ ”تم نے مجھے نیچے دیکھا تھا؟“

”تم اوپر کیسے آئے؟“ میرے منہ سے نکل گیا۔

اس نے دیوار کی اندرونی سمت کی طرف دیکھا، جہاں دوسرا پردہ نما پتھر قلعے کو ہم سے بھی چھپائے رکھتا تھا۔ ”چور دروازہ ہے،“ اس نے کہا۔ ”کہاں؟“ وہ مسکرایا۔ ”قلعے کی پچھلی جانب“۔ ہجوم اس دن بھی موجود تھا۔سورج کی تمازت سے اُس کے چہرے تپ رہے تھے۔”کیا تم ان کی مدد نہیں کر سکتے؟“ میں نے پوچھا۔اس کے گلے سے ایک خشک آواز نکلی۔ ”نہیں، سب اوپر آگئے تو ہمارا کیا بنے گا!“

قلعے کے نیچے ہجوم اب بڑھنے لگا ہے۔ اسی لیے دربان اب زیادہ سخت ہو گئے ہیں۔ پچھلے چند دنوں سے نیچے والوں کی خاموشی بدل رہی ہے۔ اب وہ صرف اکٹھے ہو کر اوپر کو نہیں تکتے بلکہ ان کے درمیان ایک مبہم سی گہری گرج سنائی دیتی ہے، جیسے زمین کے اندر کوئی لاوا پک رہا ہو۔ ان کی تعداد اب اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ قلعے کے چاروں طرف کا میدان انسانوں کے سروں سے ڈھک چکاہے۔ اب وہاں کوئی صف نہیں ہے، انتظار کی کوئی قطار نہیں ہے۔ اب وہاں صرف ایک بپھرا ہوا سمندر ہے جو قلعے کی بنیادوں سے ٹکرا رہا ہے۔ پہریدار اب تھک رہے ہیں۔ ان کی لوہے کی لاٹھیاں اب ہجوم کو پیچھے دھکیلنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ جب وہ ایک کو مارتے ہیں تو اس کی جگہ دس نئے سر ابھر آتے ہیں۔ قلعے کی دیواریں، جو صدیوں سے ناقابلِ تسخیر سمجھی جاتی تھیں، اب نیچے کے دباؤ سے لرزش محسوس کر رہی ہیں۔ کوئی دن جاتا ہے کہ یہ ہجوم قلعے کا مرکزی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو جائے۔ یہ خوف اب فصیل پر ایک مرئی سائے کی طرح پھیل چکا ہے۔ ہم، جو کبھی ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے تھے، اب رات کے اندھیرے میں اکٹھے ہو کر سرگوشیاں کرتے ہیں۔ ہماری آنکھیں ایک دوسرے کے چہروں پر اس سچائی کو تلاش کرتی ہیں جسے ہم زبان پر لانے سے ڈرتے ہیں۔ ہمیں اس فصیل کو اس ہجوم سے دور رکھنا ہوگا ورنہ یہ ہماری بوٹیاں نوچ لیں گے۔ اگر وہ دروازہ ٹوٹ گیا تو وہ یہ نہیں دیکھیں گے کہ ہم بھی کبھی انھی کی طرح نادار تھے یا ہم نے چور دروازے سے آ کر یہاں پناہ لی تھی۔ ان کیلئے ہم اس قلعے کا حصہ ہیں جس نے انہیں صدیوں تک انتظار کی سولی پر لٹکائے رکھا۔ ان کے بھوکے ہاتھ، بڑھے ہوئے ناخن، اور غصے سے سرخ چہرے جب فصیل پر پہنچیں گے، تو وہ انصاف نہیں مانگیں گے، وہ انتقام لیں گے۔

ہم فصیل کے پتھروں کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اگرچہ ہمارے پاس کوئی اوزار نہیں ۔ لیکن نیچے کی گرج بڑھتی جا رہی ہے، اور قلعے کا لوہے کا دروازہ اب آہستہ آہستہ اندر کی طرف جھک رہا ہے۔

 

Back to top button