لوڈ شیڈنگ میں انٹرنیٹ سروس بند کرنے کی دھمکی

پاکستان میں ٹیلی کام اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم نہ کی گئی تو وہ لوڈشیڈنگ کے دوران اپنی سروسز معطل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
اٹارنی جنرل جیالے خاندان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا کیسے بنا؟
بین الاقوامی ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو لکھے گئے مشترکہ خط میں کہا گیا ہے کہ لوڈ شیڈنگ اور ٹیلی کام آلات کی درآمد پر کیش مارجن کی شرط کی وجہ سے بیک اپ بیٹریز کی قلت کے باعث ملک میں ٹیلی کام سروسز اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی سروس معطل ہونے کا خدشہ ہے۔
ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کو لکھے گئے ایک خط میں آگاہ کیا گیا ہے کہ بجلی بحران کے باعث ٹیلی کام کمپنیوں کو خدمات جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے، طویل لوڈ شیڈنگ اور بیک اپ آلات کی درآمد میں رکاوٹ کی وجہ سے ٹاور اور تنصیبات کے لیے بیک اپ بجلی کی مسلسل فراہمی ممکن نہیں رہی۔
ٹیلی کام کمپنیوں نے حالات قابو سے باہر ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ریگولیٹر کو آگاہ کیا ہے کہ بجلی کے بحران کی وجہ سے ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے سروس کے معیار اور نیٹ ورک کی توسیع سے متعلق لائسنس کی شرائط پوری کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ٹیلی کام آلات اور بیک اپ بیٹریاں درآمد کرنے میں مشکلات کے باعث شہری علاقوں کے ساتھ دیہی علاقوں میں طویل لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے مہنگے ایندھن پر کئی کئی گھنٹے بیک اپ فراہم کرکے سیلولر ٹاورزکو ان رکھنا مشکل کام ہے کیونکہ اس سے بہت زیادہ اخراجات بڑھ رہے ہیں۔
ٹیلی کام کمپنیوں نے پی ٹی اے سے اپیل کی ہے کہ طویل لوڈ شیڈنگ اور آلات کی درآمد پر کیش مارجن کا معاملہ متعلقہ اتھارٹیز کے سامنے اٹھایا جائے اور اس مسئلے کو فوری حل کیا جائے۔
دوسری طرف پاکستان میں آپریٹ کرنے والی ایک غیر ملکی موبائل کمپنی نے اخراجات میں اضافے کو جواز بنا کر صارفین سے ہر بار اسکریچ کارڈ کے ذریعے بیلنس ری چارج کرنے پر اضافی 5 روپے وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس حوالے سے موبائل آپریٹر کی جانب سے صارفین کو ایک ایس ایم ایس بھیج کر آگاہ کیا گیا۔اس ایس ایم ایس میں کہا گیا ہے کہ اخراجات بڑھنے کے باعث 30 جون 2022 سے اسکریچ کارڈ کے ذریعے کیے جانے والے ہر ری چارج پر 5 روپے کی کٹوتی کی جائے گی۔‘
اس حوالے سے موبائل آپریٹر نے واضح نہیں کیا کہ یہ 5 روپے اِس وقت اسکریچ کارڈ سے بیلنس ری چارج پر سیلز ٹیکس کیلئے منہا کی جانے والی رقم کا حصہ ہیں یا یہ 5 روپے کی کٹوتی اس سے الگ ہے۔ اس حوالے سے ابھی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے بھی کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
اس ایس ایم ایس کے بعد سے ٹوئٹر پر صارفین نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت کہاں ہے جس کا کہنا تھا کہ بڑی صنعتوں پر ٹیکسوں کے نفاذ سے عام افراد یا صارفین متاثر نہیں ہوں گے۔ ایک ٹوئٹر صارف نے یہ لکھا کہ ’بس اسی کی کمی تھی۔‘
