عمران نے حکومت بچانے کے لیے 200 کروڑ کس کو دئیے؟

کفایت شعاری اور ایمانداری کے نام نہاد علمبردار سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت بچانے کے لیے عوام سے نچوڑے گئے دو سو کروڑ روپے میڈیا میں بانٹ دئیے ، پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کئے بغیر عمران خان نے دو ارب روپے کی بھاری رقم جاری کرنے کی بذات خود منظوری دی تاکہ من پسند میڈیا سے اپنی جھوٹی تعریفیں کروائی جاسکیں ، سماء ٹی وی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران حکومت کو جب یہ معلوم ہوا کہ اپوزیشن اور ان کے اتحادی ان کیخلاف تحریک عدم اعتماد لا رہے ہیں تو عمران خان نے اخراجات کو کنٹرول کرنے کی پالیسی کو ایک طرف کرتے ہوئے اپنی حکومت کے آخری دنوں میں 200 کروڑ روپے وزارت اطلاعات اور وفاقی وزیر فواد چودھری کو جاری کیے۔
اسپیکر نے آئین شکنی کر دی، کپتان بکری ہوگیا، اجلاس ملتوی
رقم کی منظوری پر وفاقی وزیر کو خصوصی ہدایات جاری کی گئیں کہ حکومت نے جتنے بھی ترقیاتی منصوبے بنائے ہیں، امدادی رقوم عوام میں تقسیم کی ہیں، تمام کاموں کی میڈیا مہم خصوصی طور پر چلائی جائے اور اس میڈیا مہم کے لیے میڈیا کے اداروں کی خصوصی فہرست بھی مرتب کی گئی اور پھر تمام رقم ان اداروں میں تقسیم کی گئی۔
حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے لانے کے لیے یہ انوکھا اقدام خود عمران خان نے اٹھایا ہے، اس وقت پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر وزارت خزانہ کو 200 کروڑ روپے جاری کرنے کو کہا گیا تھا۔
یاد رہے کہ حکومت سے فارغ ہونے کے بعد اپنے جلسوں اور تقریروں میں عمران خان خود اپنی حکومت کے خلاف سازش میں پیسے کے استعمال کا ذکر کرتے رہے ہیں کہ امریکہ نے پاکستان میں میرے خلاف اداروں میں پیسہ تقسیم کیا ہے۔
لیکن اب سامنے آنے والی دستاویزات میں یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ اصل میں پیسہ عمران حکومت اپنے حق میں تقسیم کر رہی تھی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آج سرکاری دستاویزات بتا رہی ہیں کہ کہانی کچھ اور تھی اور میڈیا کو کچھ اور بتایا گیا، عمران خان نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہونے والے فنڈز، رقوم کو اپنی تشہیر کے لیے استعمال کیا۔
میڈیا میں اس لیے پیسہ لگایا گیا کہ کسی طرح عمران خان کی حکومت کو بچایا جا سکے، عمران کی تعریفوں میں زمین آسمان ایک کر دیا جائے، اور یہ بتایا جائے کہ سب اچھا چل رہا تھا اور عمران خان پر کتنا ظلم ہو رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران حکومت کو ایک جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے تحت تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزیر اعظم کی کرسی سے ہٹایا گیا جس کے بعد وہ اور ان کے ساتھی قومی اسمبلی سے مستعفی ہو چکے ہیں ۔
