ٹرمپ نے ایران معاہدے کا خفیہ مسودہ اسرائیل کو بھجوا دیا

برطانوی اخبار گارڈین نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کا خفیہ مسودہ اسرائیل سمیت اپنے اتحادی ممالک کو بھیج دیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کی بحالی، امریکی ناکہ بندی ختم کرنے اور ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی جیسے اہم نکات شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت میں تجویز دی گئی ہے کہ آبنائے ہرمز کو 30 روز کے اندر جنگ سے پہلے والی صورتحال پر بحال کیا جائے تاکہ عالمی تجارتی اور تیل بردار بحری راستے دوبارہ معمول پر آسکیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق معاہدے میں ایران کو تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک محدود رسائی دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ اثاثے بین الاقوامی پابندیوں کے باعث مختلف ممالک میں منجمد کیے گئے تھے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کی بحالی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے جیسے معاملات پر پیشرفت ہوئی ہے۔

گارڈین کے مطابق چین نے بھی مجوزہ معاہدے میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے کی جائے تاکہ اسے عالمی قانونی حیثیت حاصل ہو سکے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکا معاہدے کے خدوخال پر اسرائیل اور خلیجی اتحادی ممالک سے مسلسل مشاورت کر رہا ہے، جبکہ حتمی منظوری اور دستخط کے مراحل ابھی باقی ہیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق مجوزہ معاہدے میں امریکی بحری ناکہ بندی میں نرمی اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت بحال کرنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔ تاحال امریکا اور ایران میں سے کسی حکومت نے اس رپورٹ پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ حالیہ کشیدگی کے بعد خطے میں ایک بڑی سفارتی پیشرفت تصور کی جائے گی۔

Back to top button