TTPپاکستان میں کتنا فساد مچانے والی ہے؟


افغانستان میں طالبان کے دوبارہ سے برسراقتدار آ جانے کے بعد ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اب تحریک طالبان بھی پاکستان میں تقویت پکڑتے ہوئےدوبارہ سے اپنا ٹوٹا ہوا نیٹ ورک بحال کر لے گی جو کہ پاکستان کی سکیورٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی طالبان کے مطلوب امیر مفتی نورولی محسود نے ایک حالیہ بیان میں افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو مبارکباد کا پیغام دیتے ہوئے بطور امیرالمومنین انکی بعیت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مفتی نور ولی نے افغان طالبان کے افغانستان پر قبضے کو ’امت مسلمہ‘ کی فتح قرار دیا ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی نے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے جانے والے بیان میں بتایا ہے کہ ’آج اس مبارک دن ٹی ٹی پی امارت اسلامیہ سے اپنی بیعت کی تجدید کرتی ہے اور عہد کرتی ہے کہ انشااللہ مستقبل میں بھی امارت اسلامیہ کے استحکام اور ترقی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی اور ہم اسے اپنی اسلامی اور شرعی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔‘
سینئر صحافی اظہاراللہ کے مطابق افغانستان میں افغان طالبان کی حکومت بن جانے کے بعد ٹی ٹی پی دوبارہ سے مضبوط ہو جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ افغان طالبان پاکستان کو خوش کرنے کی خاطر تحریک طالبان کے خلاف کوئی کارروائی کریں گے کیونکہ یہ ایک سچ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان افغان طالبان کے ہمراہ افغانستان میں اتحادی افواج کے خلاف نبرد آزما رہی ہے۔
تاہم کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہیں کہ یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستان افغان طالبان کی ایما پر ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کرکے ان کو اس بات پر قائل کرسکے کہ وہ پاکستان میں کسی قسم کی دہشت گردی نہیں کریں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ افغان طالبان افغانستان سے ٹی ٹی پی کا خاتمہ کرنے پر راضی ہو جائیں کیونکہ افغان طالبان نے بارہا یہ بات کی ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔پشاور کے سینئر صحافی اور گذشتہ ایک دہائی سے ٹی ٹی پی بارے رپورٹنگ کرنے والے رسول داوڑ نےبتایا کہ جب افغانستان پر طالبان نے قبضہ نہیں کیا تھا تو افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک نے کوشش کی تھی کہ ٹی ٹی پی کو پاکستان کے ساتھ بٹھا کر بات چیت کراسکے۔ تاہم ٹی ٹی پی نے یہ بات نہیں مانی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ ایک واضح موقف تو یہی ہے کہ اگر افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو افغانستان میں جگہ دے دی تو وہ مزید مضبوط ہوجائیں گے اور ظاہرسی بات ہے پھر وہ پاکستان کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ ٹی ٹی پی کے اب بھی کچھ نہ کچھ ٹھکانے موجود ہیں جہاں سے وہ پاکستان پر حملے کرسکتے ہیں۔ رسول داوڑ نے کہا کہ افغان طالبان دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی پورے افغانستان پر رٹ بھی قائم ہے۔ لہازا اگر اس کے باجوود انہوں نے ٹی ٹی پی سے لا تعلقی ظاہر نہیں کی تو پاکستان کے افغان طالبان سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ تاہم داوڑ کے مطابق افغان طالبان سے کم امید ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کو افغانستان سے ختم کریں کیونکہ کسی نہ کسی طریقے سے دونوں اپنے آپ کو جہادی تنظمیں کہتے ہیں اور نظریاتی طور بھی ایک جیسے ہیں۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ افغان طالبان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہوگا کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان کی زمین استعمال کرکے پاکستان کے اندر حملوں سے روک سکیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے کی طرح پاکستان دوبارہ کوشش کرے کہ وہ افغان طالبان کے ذریعے ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کرسکے اور اگر ایسا ممکن ہوا تو کم از کم پاکستان کو ٹی ٹی پی سے خطرہ نہیں ہوگا۔ لیکن دوسری جانب داعش کی موجود گی افغان طالبان اور پاکستان دونوں کے لیے خطرہ ہے کیونکہ افغان طالبان کا داعش کے اوپر کسی قسم کا کنٹرول نہیں ہے ۔
یاد رہے کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 2640 کلومیٹر پر محیط سرحد ہے جس پر اہم کراسنگ پوانئٹس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں طورخم بارڈر اور چمن میں سپین بولدک ہیں جہاں تجارت سمیت عام مسافروں کی آمدورفت رہتی ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی وزیرستان سے متصل غلام خان بارڈر، شمالی وزیرستان سے متصل انگوراڈہ، ضلع کرم کے ساتھ خرلاچی کرانسگ، چترال کے ساتھ ارندو اور شاہ سلیم، ضلع لوئر دیر کے ساتھ اور ضلع باجوڑ کے ساتھ ناواپاس، ضلع مہند کے ساتھ گورسل کراسنگ ہے جو زیادہ تر تجارت کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ رسول داوڑ کے مطابق ٹی ٹی پی کے افغانستان میں ٹھکانے مشرقی صوبہ کنڑ میں موجود ہے جن کا بارڈر ضلع باجوڑ اور چترال کے ساتھ متصل ہے۔ داوڑ نے بتایا کہ پہلے خیال کیا جاتا ہے کہ اشرف غنی کی حکومت کی افغانستان کے کچھ علاقوں پر رٹ قائم نہیں تھی جس میں ایک صوبہ کنڑ بھی تھا جہاں ٹی ٹی پی کے لوگ موجود تھے۔ ’دنیا افغان طالبان کو تب قبول کرے گی جب وہ دہشت گرد تنظیموں کے پیچھے جائیں گے۔‘
پشاور یونیورسٹی شعبہ صحافت سے وابستہ پروفیسر اور دہشت گردی کے معاملات پر درجنوں مقالوں کے مصنف ڈاکٹر عرفان اشرف کا خیال ہے کہ افغانستان میں موجود د شدت پسند تنظیمیں جیسا کہ ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش، ایسٹ ترکستان موومنٹ وغیرہ کے خلاف اگر افغان طالبان کارروائی نہیں کریں گے تو بین الاقوامی برادری طالبان اور ان کی حکومت کو قبول نہیں کرے گی۔ انھوں نے بتایا کہ ’یہ بات صرف ٹی ٹی پی تک محدود نہیں جو پاکستان کے لیے خطرہ ہے بلکہ چائنہ کے لیے ایسٹ ترکمستان موومنٹ، امریکہ کے لیے القاعدہ اور ایران کے اور مختلف ممالک کے لیے داعش اور اسی طرح جتنی بھی دہشت گرد تنظیمیں خطرہ ہیں اور وہ افغانستان میں مقیم ہیں، بین الاقوامی برادری طالبان کو اس پر مجبور کرے گی کہ ان کے خلاف کارروائیاں کریں۔

Back to top button