وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے بعدKP میں TTP کےحملوں میں تیزی

خیبر پختونخوا میں پرو طالبان وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد تحریکِ طالبان پاکستان سے وابستہ شدت پسندوں کے حوصلے مزید بلند ہو گئے ہیں۔ ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں ایک کرکٹ میچ کے دوران ٹی ٹی پی کے مقامی کمانڈر الیاس کی اپنے مسلح ساتھیوں سمیت اچانک آمد نے صوبائی حکومت کی رٹ اور سیکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ ناقدین کے مطابق صوبے میں شدت پسندوں کی سرگرمیوں میں حالیہ اضافہ اس بات کا غماز ہے کہ عسکری اداروں کی جانب سے جاری ٹارگٹڈ آپریشنز کے دوران حکومتی خاموشی کی وجہ سے عسکریت پسند گروہوں کو ایک بار پھر کھلی چھوٹ مل رہی ہے، جس سے امن و امان کی نازک صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں مقامی کرکٹ ٹیموں کے درمیان باڑہ میں فائنل میچ کھیلا جا رہا تھا۔ میچ کے مہمان خصوصی جے یو آئی باڑہ کے امیر تھے۔ تاہم جونہی میچ کے اختتام کے بعد فائنل کی تقریب میں ٹرافیاں دینے کا اعلان ہوا تو ٹی ٹی پی کاکمانڈر الیاس اپنے مسلح ساتھیوں سمیت اچانک میدان میں پہنچ گیا کمانڈر الیاس نے اپنے ساتھیوں سمیت اسٹیج پر قبضہ کرلیا اور ٹرافیاں تقسیم کرنی شروع کر دیں۔ مسلح دہشتگردوں کی اچانک آمد کی وجہ سے میدان میں خوف وہراس پھیل گیا اور تماشائی اور کھلاڑی خاموشی سے تقریب میں بیٹھے رہے۔ اس واقعے نے نہ صرف صوبائی حکومت کی رٹ بلکہ سیکیورٹی اداروں کی حکمتِ عملی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ اس وقت ٹی ٹی پی کمانڈر الیاس کی کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور اس پر عوام کی جانب سے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، وہیں اس واقعے کو سیکورٹی اداروں کیخلاف ایک سازش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق کھلاڑیوں میں تقسیم انعامات کے دوران ٹی ٹی پی کے کمانڈر نے عوام سے یہ درخواست بھی کی کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے خلاف ان کا ساتھ دیں اور اس سے ہر قسم کا تعاون کریں اس کے بعد طالبان کمانڈر اپنے ساتھیوں سمیت موقع سے چلے گئے۔ واقعہ کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مقامی آبادی اور لوگوں نے خیبرپختونخوا حکومت پر شدید تنقید شروع کردی ہے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے اب ٹی ٹی پی کے دہشتگرد صوبے میں دندناتے دکھائی دیتے ہیں حکومتی خاموشی کی وجہ سے دہشتگردوں کے حوصلے اتنے بلند ہو چکے ہیں کہ وہ تقریبات میں سر عام انعامات تقسیم کرتے نظر آتے ہیں۔
دوسری جانب جے یو آئی کے سوشل میڈیا انچارج اور مولانا فضل الرحمان کے بھائی ضیاء الرحمان کے مطابق ٹی ٹی پی کے کمانڈر نے تقریب پر بزور بندوق قبضہ کر کے صرف تین سے چار منٹ تک قیام کیا۔ تاہم ٹی ٹی پی نے جو کام کرنا تھا، وہ کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے گھر کے قریب اور پشاور کے پوش علاقے حیات آباد سے پندرہ کلو میٹر کے فاصلے پر ٹی ٹی پی کے کمانڈر کا دن دیہاڑے اس طرح گھومنا صوبائی حکومت کی نا اہلی ہے۔ موجودہ وزیراعلیٰ کو اس حوالے سے انتظامیہ سے پوچھ گچھ کرنی چاہیے۔ کیونکہ وزیراعلیٰ کے گھر کے قریب یہ تقریب منعقد ہوئی تھی۔ اس لئے اس کی ساری ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے‘‘۔ اے این پی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ باڑہ کے کرکٹ میچ میں ٹی ٹی پی کمانڈر کی آمد ایک منصوبے کا حصہ ہے۔ جس کا مقصد وفاقی اداروں اور صوبائی سیکورٹی اداروں کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکانا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی کے لوگ قبائلی علاقوں سے لے کر چارسدہ تک اور کرک میں جلسے کر رہے ہیں۔ ان کو کچھ نہیں کہا جارہا۔ جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کو حملوں کے خدشات ہیں۔ وزیراعلیٰ کو چاہیے کہ پہلے صوبے میں امن و امان کے قیام کیلئے سیکورٹی اداروں اور پولیس کے ساتھ بیٹھ کر حکمت عملی طے کریں۔ لیکن لگتا ہے وزیر اعلیٰ کی ترجیحات اور ہیں انھوں نے آتے ہی اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت سے پھڈے بازی شروع کر رکھی ہے تاہم عوام کو شدت پسندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ امن و امان کا مسئلہ وفاقی حکومت اور وفاقی سیکورٹی اداروں کا ہے۔ حالانکہ اے این پی اور فوج نے مل کر سوات سمیت پورے صوبے سے شدت پسندوں کا خاتمہ کر دیا تھا لیکن پھر پی ٹی آئی کو مسلط کر کے امن و امان کو خراب کر دیا گیا۔
پاک افغان مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیا ہونے جا رہا ہے؟
دوسری جانب افغان حکومت کے حمایت یافتہ سوشل میڈیا نے اس واقعہ کو پاکستانی اداروں کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا ہے سوشل میڈیا پر واویلا مچایا جا رہا ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان کی بجائے خیبرپختون کے علاقوں میں موجود ہے جبکہ اسلام آباد اسے حوالے سے ان کے خلاف مسلسل بیان داغ رہا ہے۔ تاہم پولیس حکام کے مطابق انھیں اس تقریب کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی جبکہ صرف مقامی علما ہی اس تقریب کا حصہ تھے۔تاہم جونہی طالبان کمانڈر کی اطلاع پولیس کو پہنچی تو سی ٹی ڈی اور پولیس کے اہلکار تقریب میں پہنچ گئے۔ تاہم اس سے قبل ہی ٹی ٹی پی کمانڈر موقع سے فرار ہو چکے تھے۔
