بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملے، ترکیہ کی شدید مذمت

ترکیہ نے بحیرہ اسود میں دو تجارتی جہازوں پر ہونے والے ڈرون حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے حملے نہ صرف بین الاقوامی بحری تجارت بلکہ عالمی غذائی تحفظ کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

ترک وزارتِ خارجہ نے کہا ہےکہ دونوں تجارتی جہاز روس کی بندرگاہ نووروسیسک سے روانہ ہونے کے بعد بحیرہ اسود میں ڈرون حملوں کا نشانہ بنے، جس کے نتیجے میں عملے کے متعدد افراد زخمی ہوئے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق زخمی عملے کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ واقعے سے متعلق مزید معلومات بھی اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

ترک حکام نے روس اور یوکرین کے درمیان بحیرہ اسود میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارہا انتباہ کے باوجود شہری جہاز رانی کو درپیش خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو عالمی تجارت اور خوراک کی سپلائی چین کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

بیان میں تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ بین الاقوامی تجارتی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔

 

آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ جلد متوقع ہے : امریکی وزیر خارجہ

رپورٹس کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے دونوں تجارتی جہاز یاسر اور نادیزہدا تھے، جو بالترتیب پاناما اور کیمرون کے پرچم تلے رجسٹرڈ ہیں، تاہم ان کی ملکیت ترک کمپنیوں کے پاس ہے۔

Back to top button