ٹوئیٹر پر مفت بلیو ٹک ہٹانے کیلئے 20 اپریل کی ڈیڈ لائن مقرر

دنیا کی امیر ترین شخصیت اور چیف ٹوئیٹ ایلون مسک نے ٹوئیٹر صارفین کے مفت بلیو ٹک ہٹانے کے لیے 20 اپریل کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے جس کے بعد سے مفت میں حاصل کردہ تمام تصدیقی بلیو ٹکس کو ہٹا دیا جائے گا۔
تاہم ایلون مسک نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ یکم اپریل کے بجائے اب ’20 اپریل تک بلیو ٹک کو ہٹانے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں legacy بلیو ٹک موجود ہے تو آپ کو 20 اپریل کے بعد اسے برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو ادائیگی کرنا ہوگی۔
20 اپریل کے بعد صرف ان اکاؤنٹ میں بلیو ٹک ہوگا جنہوں نے ٹوئٹر بلیو کی سپسکرپشن حاصل کی ہوگی۔ ٹویٹر بلیو کی سبسکرپشن ہر ملک کے لیے مختلف ہے، امریکی آئی او ایس یا اینڈرائیڈ صارفین کے لیے ماہانہ سبسکرپشن 11 ڈالر اور سالانہ سبسکرپشن 114.99 ڈالر جبکہ ویب صارفین کے لیے ماہانہ سبسکرپشن 8 ڈالر اور سالانہ سبسکرپشن 84 ڈالر ہوگی۔
دوسری جانب پاکستان میں ٹوئٹر بلیو کی سبسکرپشن فیس ماہانہ 2250 روپے رکھی گئی ہے، ٹوئٹر بلیو سروس کے صارفین کو بلیو چیک مارک کے ساتھ ساتھ طویل ویڈیوز، 4000 حروف کے ٹوئٹس اور ٹوئٹ کو ایڈٹ کرنے سمیت متعدد نئے فیچرز تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔
دریں اثنا ایلون مسک نے ٹوئیٹر کو چلانے کو مشکل ترین کام قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک رولر کوسٹر کو چلانے کی طرح تکلیف دہ کام ہے، بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹوئٹر کو چلانا انتہائی تکلیف دہ اور رولر کوسٹر جیسا ہے، اگر کوئی بہتر فرد ملا تو وہ اس کمپنی کو فروخت کر دیں گے۔
یاد رہے کہ ارب پتی کاروباری بزنس مین ایلون مسک کار بنانے والی کمپنی ٹیسلا اور راکٹ فرم اسپیس ایکس کے بھی مالک ہیں، انہوں نے اکتوبر 2022 کو سوشل میڈیا کمپنی ٹوئٹر 44 ارب ڈالر میں خریدی تھی۔
ایلون مسک کا یہ انٹرویو سان فرانسسکو میں ٹوئٹر ہیڈکوارٹر سے براہ راست نشر کیا گیا۔ ٹوئٹر چلانے پر پچھتاوا ہونے سے متعلق سوال پر ایلون مسک نے جواب دیا کہ سوشل میڈیا کمپنی کو چلانا انتہائی تکلیف دہ تھا، یہ کسی قسم کی پارٹی کرنے کی طرح نہیں ہے لیکن یہ بيزار کُن بھی نہیں ہے، یہ ایک طرح سے رولر کوسٹر جیسا ہے’۔
دنیا کے دوسرے ارب پتی بزنس مین نے مزید بتایا کہ گزشتہ کچھ ماہ سے بہت زیادہ دباؤ ہے لیکن کمپنی کو خریدنا صحیح فیصلہ تھا، چیزیں بہتر طریقے سے چل رہی ہیں، اکثر میں دفتر میں ہی لائبریری کے ایک صوفے پر سو جاتا ہوں، جب ٹوئٹر خریدا تھا تو اس وقت 8 ہزار سے کم ملازمین کام کررہے تھے اور اب ایک ہزار 500 ملازمین کام کر رہے ہیں۔
ایلون مسک نے بتایا کہ 8 ہزار ملازمین سے ایک ہزار 500 ملازمین تک لانا آسان کام نہیں تھا، ملازمین کو ذاتی طور پر برطرف نہیں کیا، بہت سے لوگوں سے آمنے سامنے بات کرنا ممکن نہیں تھا۔ ٹوئٹر legacy بلیو ٹک پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 20 اپریل سے بلیو ٹک ہٹانے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
