شرپسند عمرانڈوز کیخلاف فوج کو گولی چلانے کا اختیار مل گیا

تحریک انصاف کی دہشت گردانہ کاروائیوں سے نمٹنے کے لئے پنجاب کے مختلف شہروں میں متعین کردہ فوجی دستوں کو شر پسندوں کو گولی مارنے کا اختیار دے دیا گیا ہے اس ضمن میں طے کردہ ضوابط کے تحت صوبے بھر میں فوج پر جان لیوا حملہ کرنے والوں کو پہلے وارننگ شاٹ اور پھر گولی مارنے کا اختیار ہوگا،
عمران خان کی گرفتاری کے بعد لاہور کی آبادی کے تناسب سے جو احتجاجی مظاہروں اور دھرنے وغیرہ کی توقع کی جا رہی تھی اس کے برعکس چند شرپسند عناصر کا گروہ ہی متحرک رہا، جو چند مقامات پر جلاؤ گھیراؤ کرتا دکھائی دیا جبکہ پولیس نے سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کی گرفتاری کو غیر قانونی قراردینے کے حکم سے پہلے ہی شہر میں امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کر لیا تھا اور مظاہرین صرف زمان پارک تک ہی محدود ہو کر رہ گئے تھے۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی والے شہر لاہور میں مظاہرین کی مجموعی تعدادہزار سے ڈیڑھ ہزار تک ہی رہی، جو مختلف ٹولیوں کی صورت میں ریاستی اداروں اور اہم مقامات پر دھاوا بولتے رہے اور جب پولیس جوابی کارروائی کرتی تو یہ بھاگ جاتے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خفیہ اداروں کی جانب سے جو رپورٹس تیار کی گئیں تھیں اس کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہزاروں کی تعداد میں کارکن اہم مقامات کو بلاک کر دیں گے اس لئے 40 سے 50 ہزار افراد کی توقع کی جا رہی تھی،پولیس اتنی بڑی تعداد میں گرفتاریاں نہیں کر سکتی تھی ، لیکن جب عمران خان گرفتار ہوئے تو پہلے دن لاہور کے 6 مقامات زمان پارک، لبرٹی چوک، مال روڈ، شاہدرہ، چونگی امرسدھو، بابو صابو وغیرہ پر احتجاج ہوا، جن میں 4 سو سے 6 سو افراد نے مختلف مقامات پر احتجاج کیا اور پھر یہی مظاہرین جن میں نوجوانوں کی بڑی تعداد تھی وہ موٹر سائیکلوں پر دوسرے مقام پر بھی جا کر احتجاج کرتے اسی طرح پولیس اور مظاہرین کا آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا، تاہم مظاہرین کی جانب سے کور کمانڈر ہاؤس کو نذر آتش کرنے کے بعد جب پولیس نے گرفتاریاں شروع کیں تو کارکنوں کی بڑی تعداد غائب ہو گئی۔ لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ ان دنوں میں اس نے صرف 202 کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب پی ٹی آئی قیادت کو معلوم ہوا کہ خان کی گرفتاری کے بعد بڑی تعداد میں مظاہرین باہر نہیں آ رہے تھے اس نے منصوبہ بندی کے ذریعے اپنے کارکنوں کو کہا کہ وہ جگہ جگہ جلاؤ اور گھیراؤ کریں تاکہ لوگوں کو ان کی موجودگی کا زیادہ سے زیادہ احساس ہو، اور معلوم ہو کہ بڑی تعداد میں کارکن باہر آئے ہیں، لہٰذا زمان پارک، لبرٹی، مال روڈ، اپر مال پر زیادہ جلاؤ گھیراؤ کیا گیا ۔
دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جناح ہاؤس اور دیگر فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے کچھ شر پسندوں کی شناخت کرلی جبکہ دیگر کی شناخت کا سلسلہ جاری ہے۔کور کمانڈر ہاؤس لاہور کو جلانے، توڑ پھوڑ کرنے اور قیمتی اشیاء و دستاویزات چوری کرنے والے شرپسندوں کی نشاندہی کر کےاُن کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے۔ اب تک بیشتر افراد کی شناخت ہوگئی ہے جنہوں نے کور کمانڈر ہاؤس کا جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی پرتشدد کارروائیوں میں حصہ لیا تھا جبکہ باقیوں کی شناخت کا سلسلہ جاری ہے۔ ان شر پسندوں کے خلاف انسداد دہشتگردی کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پر تشدد کارکنان مسلح آتشی اسلحہ، ڈنڈے، پتھر و پیٹرول بم سے لیس تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے مزید افراد جنہوں نے ملک کے دیگر علاقوں میں ملکی املاک کو نقصان پہنچایا وہ بھی قانون کی گرفت میں آ رہے ہیں۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے صوبے کےمختلف شہروں میں فوج کے دستے تعینات کر دئیے ہیں۔ پاک فوج کو اختیارات دینے کے حوالے سے اصول و ضوابط طےکرلئے ہیں جس کے تحت صوبے بھر میں فوج پر جان لیوا حملہ کرنے والوں کو پہلے وارننگ شاٹ اور پھر گولی مارنے کا اختیار ہوگا، حملہ آور شخص یا ہجوم کو پہلے وارننگ دی جائیگی، گشت کرنے والے اہلکاروں کو حفاظتی سامان کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے ۔ انتہائی معتبر ذرائع نے ’’جنگ‘‘ کو بتایا کہ صوبے کے مختلف شہروں میں گشت کرنے والے فوجی اہلکاروں کو انٹی رائٹس پولیس کے باڈی پروٹیکٹر ، رائٹ سوٹ،رائٹ گئیر(پرسنل آرمر، بیٹن) اور رائٹ شیلڈز فراہم کی جارہی ہیں ۔
