سیلاب :24 گھنٹوں میں 119 افراد جاں بحق،ریسکیو آپریشن جاری

ملک بھر میں جانی نقصان اور انفرا اسٹرکچر کی تباہی کا سبب بننے والے تباہ کن سیلاب سے مکمل طور پر منقطع ہوجانے والے علاقوں میں پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران مزید119 افراد زندگی کی بازی ہار گئی جس کے بعد بارشوں اور سیلاب سے جان بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 1033 ہوگئی۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا کہ جون کے وسط سے مون سون کی بارشوں کے باعث مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 33 تک پہنچ گئی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 119 افراد ہلاک ہوئے،ایک روز قبل دریائے کابل میں طغیانی کے سبب صوبہ خیبرپختونخوا میں آنے والے زبردست سیلاب کے پیشِ نظر تقریباً ساڑھے 3 لاکھ افراد کو چارسدہ اور نوشہرہ سے نکالا گیا تھا، سیلاب سے راتوں رات ایک بڑا پل بہہ گیا اور کچھ اضلاع تک سڑکوں تک رسائی منقطع ہوگئی تھی۔
تحصیل کنڈیا کے چیئرمین انوار الحق نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ کنڈیا کوہستان کے باقی علاقوں سے ‘مکمل طور پر منقطع’ ہے اور وہاں موبائل فون کے سگنل نہیں ہیں،مقامی لوگوں نے خطرناک حالات میں پیدل سفر کیا، جن میں سے کچھ نے دو روز تک سفر کیا اور انہیں بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق 2 ہزار گھر سیلاب میں بہہ گئے ہیں،کنڈیا میں خوراک اور ادویات کی شدید ضرورت ہے کیونکہ اسہال کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ کا پاکستان کو 90 لاکھ کرونا ویکسین کا عطیہ
علاوہ ازیں کوہستان کے اسسٹنٹ کمشنر ثاقب خان نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ فوج سے وہاں پھنسے ہوئے خاندانوں کو بچانے کے لیے ہیلی کاپٹر بھیجنے کی درخواست کی گئی ہے کیونکہ بذریعہ سڑک کوئی راستہ نہیں اور متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی نظام، بجلی منقطع ہے۔زیریں کوہستان ریسکیو 1122 کے ترجمان فرمان آفریدی نےبتایا کہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سیلاب کی وجہ سے 11 افراد پھنسے ہوئے ہیں، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ساجد علی یوسفزئی اور اسسٹنٹ کمشنر ثاقب خان کی نگرانی میں ٹیمیں وہاں پہنچ گئی ہیں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ادھر آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹروں نے پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کے لیے 4 پروازیں کیں،پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خوازہ خیلہ میں پھنسے ہوئے 110 افراد کو نکال کر کانجو چھاؤنی پہنچایا گیا،ان پھنسے ہوئے افراد کو کھانا اور ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے،جو افراد کمراٹ میں پہاڑی چوٹی پر پھنسے ہوئے ہیں انہیں موسم بہتر ہوتے ہی کامجو کنٹونمنٹ سوات سے خصوصی طور پر پرواز کر کے فوجی ہیلی کاپٹرز نکال لیں گے۔
ایک اور بیان میں آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاکستانی فوج کی پہلی ٹیم خانہ بدوشوں کے مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں وہ خاندان پھنسے ہوئے تھے،ان کے پیچھے فوج کے دستے باری کوٹ عبور کر چکے ہیں اور پاک فوج کا ہیلی کاپٹر بھی پرواز بھر کے ان کے مقام تک پہنچ رہا ہے۔ آئی ایس پی آر نے دیر اسکاؤٹس کے قائم کردہ فلڈ ریلیف کنٹرول سینٹر کے رابطے کی تفصیلات بھی شیئر کیں،ہنگامی صورتحال یا مدد کی صورت میں برائے مہربانی دیر اسکاؤٹس فلڈ ریلیف کنٹرول روم سے درج ذیل نمبروں پر رابطہ کریں،موبائل نمبر: 03091311310،موبائل نمبر: 03235780067، پی ٹی سی ایل: 0945825526۔
علاوہ ازیں ریسکیو 1122 سوات کی ترجمان شفیقہ گل نے بتایا کہ خوازہ خیلہ کے مقام پر دریائے سوات میں پھنسے 8 افراد کو رات گئے امدادی کوششوں میں نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا،گزشتہ رات خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 50 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا،بشام میں دریائے بشام خان کھوار کے درمیان میں پھنسے دو لڑکوں کو 2 گھنٹے کی ریسکیو کوششوں کے بعد بچا لیا گیا، ریسکیو 1122 بشام کے اسٹیشن انچارج شیراز خان نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ دونوں لڑکوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔
دوسری جانب حکومتِ خیبرپختونخوا کے فلڈ سیل نے کہا کہ نوشہرہ اور وارسک میں دریائے کابل کے پانی کی سطح بہت زیادہ اور بلند ہے۔حکام نے ایک بیان میں بتایا کہ اس وقت 2 لاکھ 98 ہزار 790 کیوسک پانی کا ریلا نوشہرہ سے گزر رہا ہے جبکہ ایک لاکھ 22 ہزار کیوسک کا ریلا وارسک اور 79 ہزار 600 کیوسک پانی ادین زئی پل سے گزر رہا ہے،فلڈ سیل نے خبردار کیا کہ دریائے سندھ میں پانی کی سطح بھی بلند ہے، اس وقت 5 لاکھ 23 ہزار 600 کیوسک اور 3 لاکھ 21 ہزار پانی کا ریلا اٹک اور تربیلا سے گزر رہا ہے،اس کے ساتھ ساتھ دریائے سوات سے 95 ہزار کیوسک اور 93 ہزار کیوسک کا ریلا منڈا ہیڈ ورکس اور چارسدہ خیالی سے گزر رہا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہبتایا کہ آج پنجاب کے ضلع راجن پور میں پاک فوج کی جانب سے ایک علیحدہ فضائی امدادی آپریشن کیا گیا،راشن کے تھیلوں اور خیموں کی صورت میں امداد فراہم کی گئی، فوج لیہ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے تمام سیلاب زدہ علاقوں میں بچاؤ اور امدادی کارروائیاں کررہی ہے۔
آئی ایس پی آرپاک فوج کی ٹیموں نے متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد کو بچا کر ان کے سامان سمیت انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے،ریلیف کیمپوں میں رہنے والے لوگوں کو پکا ہوا کھانا اور خشک راشن فراہم کیا جا رہا ہے،پاک فوج سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے جس میں میڈیکل کیمپوں میں فوری طبی امداد کی فراہمی بھی شامل ہے۔
ادھر سیلاب زدہ صوبہ سندھ کے شمال میں سیلابی ندیوں میں ایک بار پھر طغیانی آرہی ہے،دریائے سندھ کو شمال میں درجنوں پہاڑی معاون ندیوں سے پانی ملتا ہے لیکن ریکارڈ بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے کے بعد بہت سے اپنے کناروں سے پھیل چکے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئند چند روز میں پانی کے بڑے ریلے سندھ تک پہنچ جائیں گے، جس سے سیلاب سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کی مشکلات میں اضافہ ہوگا،سکھر کے قریب دریا کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے والے بیراج کے نگران عزیز سومرو نے کہا کہ ‘اس وقت سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب ہے،سندھ کے کچھ حصوں میں صرف اونچی سڑکیں اور ریل کی پٹریاں ہی خشک بچی ہیں جن کے ساتھ ساتھ ہزاروں غریب دیہاتی اپنے مویشیوں کے ساتھ پناہ لیے ہوئے ہیں،سکھر کے قریب خیموں کی ایک قطار 2 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے جہاں لوگ اب بھی لکڑی کے چارپائیوں، بستروں اور برتنوں سے لدی ہوئی کشتیوں کے ذریعے پہنچ رہے تھے۔22سالہ مزدور وکیل احمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘کل سے دریا میں پانی بڑھنا شروع ہو گیا ہے جس سے تمام دیہات زیر آب آ گئے اور ہم نقل مکانی پر مجبور ہوگئے،بیراج کے نگران سومرو نے بتایا کہ ہر سلوئیس گیٹ 6 لاکھ مربع میٹر فی سیکنڈ سے زیادہ دریا کے بہاؤ سے نمٹنے کے لیے کھلا ہے۔
