لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد منفی مہم PTI نے چلائی

وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف شر انگیز مہم چلانے والوں کا سراغ لگا لیا ہے۔ بڑی خبر یہ ہے کہ یہ افسوسناک مہم چلانے کے لئے 580 سوشل میڈیا اکاوئنٹس استعمال کیے گئے جن میں سے 178 کا تعلق عمران خان کی جماعت تحریک انصاف سے نکلا ہے۔ یوں اس عمومی تائثر کی بھی تصدیق ہو گئی ہے کہ پاک فوج کے شہدا کے خلاف جو واحیات مہم چلائی گئی اس کے پیچھے پی ٹی آئی کا ٹرول بریگیڈ تھا جو کہ اب بھی ڈاکٹر ارسلان خالد کی زیر قیادت کام کر رہا ہے۔ ایف آئی اے، آئی ایس آئی اور انٹیلی جنس بیورو کے سینئر افسران پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے بتایا ہے کہ کل 580 سوشل میڈیا اکائونٹس کے ذریعے 2 ہزار 350 فوج مخالف پوسٹس کی گئیں جن میں 18 بھارتی اکائونٹس بھی شامل تھے۔ اسی طرح فوج مخالف مہم چلانے والے 123 سوشل میڈیا اکاؤنٹس پروفائل پکچرز کے ساتھ تھے جن کی نشاندہی کرنے کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ باخبر حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس رپورٹ کی روشنی میں لسبیلہ حادثے کے شہید فوجی افسران اور پاک فوج کے خلاف مہم چلانے والوں پر مقدمے درج کئے جائیں گے اور انہیں نشان عبرت بنایا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ مقدمے پیکا اور تعزیرات پاکستان کے تحت درج کئے جائیں، اسکے علاوہ فوج مخالف مہم میں ملوث افراد سے تفتیش کے بعد ان کے ہینڈلرز اور ماسٹر مائنڈز تک بھی پہنچا جائے گا۔
یاد رہے کہ پچھلے ماہ ہونے والے لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر سرگرم افراد نے اپنی ذاتی اور سیاسی عداوت کو آگے بڑھانے کے لیے ایک گھناؤنی اور ناقابل قبول آن لائن مہم چلائی جس پر تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
مرکز میں حکمراں اتحاد نے تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم پر الزام لگایا تھا کہ اس نے عمران خان کے کہنے پر گھناؤنی مہم شروع کی، پی ٹی آئی کی قیادت پر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی اور دیگر شہدا کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔ اب لسبیلہ حادثے اور اس میں ہونیوالی شہادتوں پر منفی پروپیگنڈا مہم پر ایف آئی اے اور حساس اداروں کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزارت داخلہ میں جمع کرواتے ہوئے اس بات کی تصدیق کر دی گئی ہے کہ فوج مخالف مہم کے پیچھے بنیادی طور پر تحریک انصاف کا سوشل میڈیا بریگیڈ تھا۔
پنجاب بھر میں بی اے تک تعلیم مفت کرنے کا اعلان
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق اس مہم میں شامل سیاسی جماعت کے کئی کارکنوں کے ویڈیو بیانات پہلے ہی منظر عام پر آچکے ہیں، جبکہ اس مہم کے پیچھے چھپے دوسرے کرداروں اور ان کے ہینڈلرز تک بھی پہنچاجارہا ہے اور دیکھاجارہاہےکہ بھارتی اکاؤنٹس کےنام پرکچھ اکاؤنٹس پاکستان سے تو نہیں چل رہے تھے۔ خیال رہےکہ گزشتہ دنوں لسبیلہ میں پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کے دوران لاپتہ ہوگیا تھا، کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد ہیلی کاپٹرکا ملبہ موسیٰ گوٹھ سے ملا تھا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ ہیلی کاپٹر کو حادثہ خراب موسم کے باعث پیش آیا جس کے باعث ہیلی کاپٹر میں سوار کورکمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی اور ڈی جی پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد سمیت 6 جوان شہید ہوگئے تھے۔
ہیلی کاپٹر حادثےکے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے منفی مہم چلائی گئی تھی جس کی پاک فوج نے شدید مذمت کی تھی جبکہ حکومت نے منفی سوشل میڈیا مہم کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا تھا اور ایف آئی اے اور آئی ایس آئی کے افسران پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی جس نے اپنی رپورٹ جمع کروا دی ہے۔
