عمران خان کی سیاسی اننگز اپنے اختتام کی طرف گامزن

آئینی اور قانونی ماہرین اس نقطے پر متفق نظر آتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے لیے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کی روشنی میں نا اہلی سے بچنا نا ممکن ہے خصوصاً جب سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بھی ایسے ہی الزامات پر نااہل قرار دیا جا چکا ہے۔ عمران کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کی بنیاد پر الیکشن کمیشن میں نااہلی کا ریفرنس دائر ہو چکا ہے اور منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کچھ قانونی ماہرین کے مطابق ایسے کیسوں کا فیصلہ 30 دن کے اندر ہونا لازمی ہے جبکہ دیگر کے خیال میں اس حوالے سے 90 دن کی مدت ہوتی ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اگر نواز شریف کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ عمران خان پر بھی لاگو کیا جاتا ہے تو ان کے نااہلی سے بچنے کا کوئی امکان نہیں۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف پر بیرونِ ملک سے ممنوعہ فنڈز لینے کے الزامات ثابت ہو گئے ہیں۔الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے پی ٹی آئی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر رکھا ہے کہ کیوں نہ یہ فنڈز ضبط کر لیے جائیں۔ تحریکِ انصاف نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے سامنے صرف 8 بینک اکاؤنٹس کی ملکیت کو تسلیم کیا جبکہ اس نے 13 بینک اکاؤنٹس کو نامعلوم قرار دیتے ہوئے ان سے اظہارِ لاتعلقی کیا۔ لیکن الیکشن کمیشن نے قرار دیا ہے کہ سٹیٹ بینک سے حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق پی ٹی آئی نے جن اکاؤنٹس سے اظہار لاتعلقی کیا وہ پی ٹی آئی کی سینئر صوبائی اور مرکزی قیادت اور عہدیداروں نے کھولے اور چلائے تھے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے سینئر پارٹی قیادت کے زیرِ انتظام تین مزید اکاؤنٹس کو چھپایا۔ کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے ان 16 بینک اکاؤنٹس کو چھپانا آئین کی شق 17 (3) کی خلاف ورزی ہے۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی کے سربراہ نے 2008 سے 2013 تک کے لیے جو فارم ون جمع کروایا تھا، وہ کمیشن کی جانب سے سٹیٹ بینک سے حاصل کردہ ڈیٹا اور دیگر ریکارڈ کی بنا پر بے انتہا غلطیوں کا حامل ہے، چنانچہ کمیشن نے پارٹی کو نوٹس جاری کیا کہ کیوں نہ یہ ممنوعہ فنڈز ضبط کر لیے جائیں۔

شہباز گل کا ریمانڈ منسوخ کروانے کی کوشش کیسے ناکام ہوئی؟

آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران خان کے خلاف باقاعدہ چارج شیٹ ہے جس کے بعد ان کا نااہلی سے بچنا ممکن نظر نہیں آتا۔ کمیشن کے فیصلے کے مطابق عارف نقوی کے ذریعے ووٹن کرکٹ لمیٹڈ لندن، برسٹل انجنیئرنگ سروسز دبئی، ای پلینیٹ ٹرسٹ اور ایس ایس مارکیٹنگ برطانیہ کی جانب سے تحریک انصاف کو بھیجی گئی رقوم ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتی ہیں۔ اسکے علاوہ پی ٹی آئی امریکہ، پی ٹی آئی کینیڈا کارپوریشن اور پی ٹی آئی پرائیویٹ لمیٹڈ برطانیہ کی جانب سے فنڈز اکٹھے کرنا اور پاکستان میں پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس میں بھیجنا بھی ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے غیر ملکی شہریوں، اور غیر ملکی کمپنیوں سے حاصل کردہ عطیات کی قانونی حیثیت بھی مشکوک ہے۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے چار ملازمین کے اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں پارٹی چندے کی وصولی بھی الیکشن کمیشن کی نظر میں غیر قانونی ہے۔ ایک اور سنجیدہ معاملہ بطور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے دستخط کردہ فارم ون سرٹیفکیٹس میں چھپائے جانے والے بینک اکاؤنٹس کا ہے۔

فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پانچ اہم پی ٹی آئی رہنماؤں کو ایف آئی اے کی جانب سے طلبی کے نوٹس بھی بھیجے گئے تھے جنہیں عدالت میں چیلنج کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں تحریک انصاف نے جو اپیل دائر کر رکھی ہے‘ جس کے تحت الیکشن کمیشن کے فیصلہ کو چیلنج کیا گیا ہے‘ اس میں اکبر ایس بابر نے فریق بننے کی درخواست دائر کر دی ہے۔ بادی النظر میں اکبر ایس بابر کے فریق بننے کے بعد حالات کا رُخ تبدیل ہو سکتا ہے۔ عمران خان نے اپنی حکمت عملی کے تحت فارن فنڈنگ کیس کی تحقیقات میں ایف آئی اے کو جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے اپنے تحریری جواب میں کہا ہے کہ وہ ان کے سامنے جوابدہ نہیں۔ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے اختیارات کو بھی چیلنج کیا ہے۔اب اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کا تعین ہو گا۔

اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے سابق سفیر کنور محمد دلشاد کہتے ہیں کہ اس ایشو پر الیکشن کمیشن کو کامیابی حاصل ہو گی کیونکہ اسے 1973 کے آئین کے آرٹیکل 213 سے 225 تک وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو عدالتی اور انتظامی اختیارات بھی حاصل ہیں اور الیکشن ایکٹ 2017ء کی دفعہ 9 کے تحت اس کو ٹربیونل کے اختیارات بھی۔ الیکشن کے معاملات کی دیکھ بھال کے لیے متعلقہ چیف جسٹس کی مشاورت سے الیکشن ٹربیونل بنانے کے اختیارات بھی حاصل ہیں۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے سیکشن 210 کی خلاف ورزی کرنے پر حقائق کو پوشیدہ رکھنے کے معاملے میں عمران کو نوٹس بھجوا رکھا ہے۔ عمران کے قانونی مشوری نویسوں کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کو عدالتی اختیارات حاصل نہیں مگر یاد رہے کہ اسی الیکشن کمیشن نے اپنے اختیار بروئے کار لاتے ہوئے فیصل واوڈا کو نااہل قرار دیا تھا اور آئین کے آرٹیکل 64 (1) ایف کا سہارا لیا تھا۔ اسی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ کنور محمد دلشاد کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو توہینِ عدالت کے بھی وہی اختیارات ہیں جو ہائیکورٹ کے جج کے ہوتے ہیں انہوں نے یاد دلایا کہ آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری اور اعظم سواتی کو توہینِ عدالت کے نوٹس بھجوائے تھے اور جب شوکاز نوٹس کا وقت آیا تو فواد چوہدری اور اعظم سواتی نے تحریری معافی مانگ لی تھی۔ اسی طرح 2017ء اور 2018ء میں تب کے چیف الیکشن کمشنر سردار رضا نے عمران خان کو توہینِ عدالت کے نوٹس بھجوائے اور الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق دونوں مرتبہ خان صاحب نے تحریری طور پر الیکشن کمیشن سے معافی مانگی تھی۔ اس سے پہلے ایک مرتبہ سردار رضا نے الیکشن کمیشن کی حکم عدولی پر عمران کو ہتھکڑی لگا کر پیش کرنے کا حکم دیا تھا اور انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کو یہ احکامات بھجوائے تھے۔ اس لئے آنے والے ہفتوں میں عمران خان کے لیے اچھی نہیں بلکہ بری خبریں آنے والی ہیں۔

Back to top button