شہبازگل کو ہسپتال پہنچانے کے لیے کونسا انجکشن دیا گیا

عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کو اڈیالہ جیل راولپنڈی سے نکال کر ہسپتال پہنچانے کے لیے پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت نے جو انوکھی واردات ڈالی اس کا پردہ اب چاک ہو گیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق پمز ہسپتال کے ڈاکٹروں نے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا ہے کہ شہباز گل کو ہسپتال بھجوانے کی خاطر موصوف کو اعتماد میں لیکر اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ایک خاص انجکشن لگایا گیا تھا تاکہ ان کا بلڈ پریشر بڑھ جائے اور وہ میڈیکل ان فٹ قرار پائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان اور پنجاب حکومت کسی قیمت پر شہباز گل کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔چنانچہ سازشی عناصر سے صلاح مشورے کے بعد فیصلہ ہوا کہ شہباز گل کو میڈیکلی ان فٹ کر کے ریمانڈ سے بچایا جاسکتا ہے۔ روزنامہ جنگ سے وابستہ سینئر صحافی شکیل انجم نے دعویٰ کیا ہے کہ شہباز گل کو پولیس کی بجائے ہسپتال بھیجنے کے لئے ہائی پاور سٹیرائیڈ سولو کارٹیف Solocortif انجکشن لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس انجکشن سے بلڈ پریشر میں اضافے کے علاوہ دل کی دھڑکن بھی بڑھ کر بے ترتیب ہو جاتی ہے، اسکے علاوہ سانس لینے میں دشواری اور شدید ذہنی دباؤ سمیت 20 سے زائد بیماریوں کی علامات ظاہر ہو جاتی ہیں۔ لیکن یہ تمام علامات تین سے چار گھنٹوں میں انجکشن کا اثر زائل ہوتے ہیں دور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ بقول شکیل انجم، یہ طریقہ کارگر ثابت ہوا اور شہباز گل کو فوری طور پر اڈیالہ جیل راولپنڈی سے نکال کر پمز ہسپتال اسلام آباد پہنچا دیا گیا۔ اسی لیے پمز ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد سے شہباز گل کی طبیعت ٹھیک رہی اور انہیں کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ پھر جب پمز ہسپتال کے 13 رکنی میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کا طبی معائنہ کیا تو اس نے بھی انہیں مکمل صحت مند قرار دے کر ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی ایک تحریر میں سینئر صحافی شکیل انجم لکھتے ہیں کہ پاکستان کے وجود کے خلاف بین الاقوامی سازش کا آغاز عمران خان نے اپنی ’’فکر‘‘ سے مطابقت رکھنے والے امریکی ساتھی شہباز گل کے ذریعے کیا جنہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل پر عمران خان کا گمراہ کن پیغام پڑھ کر سنایا جس میں کسی ان دیکھی قوت کی خواہش پر پاکستان کی مسلح افواج کو تقسیم کر کے قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کی ابتدا کی۔ لیکن اس سازش کی تکمیل نہ ہو سکی اور ریاست پاکستان کی جانب سے شہباز گل کے خلاف غدار اور ماتحت فوجی اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کر گرفتار کر لیا۔
شہباز گل کےریمانڈ کے معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتے
شکیل انجم کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ کے خلاف سنگین الزامات کی تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد نے عمران خان کے کردار کا وہ پوشیدہ روپ بھی عیاں کر دیا جو ماضی میں زیر بحث رہا اور جو یقین اور بے یقینی کے درمیان معلق تھا اور عمران خان کے معتقدین اور متنفرین اسی مخمصے میں مبتلا رہے کہ عمران خان کا کون سا رخ سچ یا حقیقی سمجھا جائے۔
