شہباز گل کا ریمانڈ منسوخ کروانے کی کوشش کیسے ناکام ہوئی؟

تحریک انصاف کی قیادت کوتب ایک اوربڑاجھٹکا لگا جب اسلام آباد ہائیکورٹ کے ذریعے عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ کینسل کروانے کی کوشش ناکام ہوگئی۔ 18 اگست کو تحریک انصاف کے وکلا کی جانب سے ریمانڈ کینسل کرنے کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے الٹا اڈیالہ جیل راولپنڈی کے ایڈیشنل سپریٹنڈنٹ کی کلاس لے ڈالی اورسوال کیا کہ عدالتی احکامات ملنے کے باوجود شہباز گل کو وقت پر اسلام آباد پولیس کے حوالے کیوں نہیں گیا۔ عدالت نے جیل حکام سے اس معاملے کی تحریری رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اڈیالہ جیل حکام کی بد نیتی ثابت ہو گئی تو ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا گیا جب اڈیالہ جیل حکام کو شہباز گل کی اسلام آباد پولیس کو حوالگی کی روبکار ساڑھے چار بجے شام کو مل گئی تھی تو پھر رات 9 بجے تک کیا ہوتا رہا اور اس معاملے میں رکاوٹ کون ڈال رہا تھا۔ اس پر اڈیالہ جیل کے ایڈیشنل سپرٹینڈنٹ نے بتایا کہ اصل میں شہباز گل کی طبیعت خراب ہوگئی تھی اس لیے اس کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کرنے میں دیر ہوگئی۔ جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کہ شہباز گل کی طبیعت کتنے بجے خراب ہوئی۔ جیلر نے بتایا کہ انکی طبیعت سوا چار بجے خراب ہوئی تھی۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ جیسے ہی شہباز گل کی اسلام آباد پولیس کو حوالگی کا وقت قریب آیا انکی طبیعت خراب ہوگئی۔ جیلر نے بتایا کہ شہباز گل کی سانسیں اکھڑنا شروع ہو گئی تھیں۔ اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے اڈیالہ جیل کے میڈیکل افسر سے طبی رپورٹ مانگ لی۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ اس کے پاس کوئی رپورٹ نہیں۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر آپ رپورٹس لے کر نہیں آئے تو یہاں کیا میرا علاج کرنے کے لیے آئے ہیں؟
جسٹس عامر فاروق نے یہ سوال بھی کیا کہ شہباز گل پر تشدد کی افواہیں کون اڑا رہا ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے۔ کیا کسی نے شہباز کے جسم پر تشدد کے نشانات دیکھے ہیں اور کیا کوئی ایسی رپورٹ موجود ہے جس سے پولیس تشدد ثابت ہو۔ اس پر آئی جی پنجاب پولیس نے کہا کہ شہباز گل پر کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں ہوا اور اس حوالے سے تمام دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے شہباز گل کا ریمانڈ منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے قانون کے مطابق چلنا ہوتا ہے اور اگر قانون کی کتاب میں ایسی کوئی گنجائش موجود ہے تو مجھے بتائیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے شہباز گل کے وکیل شعیب شاہین سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے جسمانی ریمانڈ کا حکم نامہ چیلنج کیا ہے؟ شعیب شاہین نے استدلال کیا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے قانون میں فراہم کردہ ہدایات پر عمل نہیں کیا اس لئے ریمانڈ منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ غداری کے مقدمے میں گرفتار شہباز گل کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں رکھا گیا تھا جو کہ پنجاب حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ لیکن جب شہباز گل کو دو روزہ ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس کے حوالے کرنے کا حکم نامہ جاری ہوا تو عمران خان کی ہدایت پر حکومت پنجاب نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد رات گئے فوجی دستوں کو اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب چوہدری پرویز الٰہی نے معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے جیل حکام کو حکم دیا کہ شہباز گل کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس معاملے پر بعدازاں عمران خان نے پرویز الٰہی کو فون کیا اور دونوں کی سخت کلامی بھی ہوئی۔

کیا مہوش حیات سرجری سے پہلے ذیادہ خوبصورت تھیں؟

دوسری جانب عمران خان نے شہباز گل کی اسپتال منتقلی کی ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘ریاستی بربریت دیکھ کر مہذب دنیا پر سکتہ طاری ہو جائے گا، بدترین پہلو تو یہ ہے کہ منصفانہ عدالتی کارروائی کے بغیر جبر و تشدد سے مثال بنانے کیلئے ایک آسان ترین ہدف چُنا گیا ہے’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘جبکہ نوازشریف، مریم، مولانا فضل الرحمٰن اور آصف زرداری جیسےوہ تمام کردار جو ریاستی اداروں کیخلاف بغض و عناد سے بھرپور بیانات کے ذریعے انہیں ہرممکن حد تک بدترین انداز میں بار بار نشانہ بناتے رہے ہیں، بلاخوفِ ملامت آزاد گھوم رہے ہیں’۔

Back to top button