عمران کے وکیل کی الیکشن کمیشن کو ماموں بنانے کی کوشش ناکام


سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل کی جانب سے توشہ خانہ نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کو ماموں بنانے کی کوشش تب ناکام ہو گئی جب اس نے یہ موقف اختیار کیا کہ عمران تو قومی اسمبلی سے استعفے دے چکے ہیں لہذا ان کی بطور رکن پارلیمنٹ نااہلی ممکن ہی نہیں۔ تاہم چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے عمران خان کے وکیل کو یاد دلوایا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے ابھی تک چیئرمین تحریک انصاف کا استعفیٰ قبول نہیں کیا اور جن 9 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے گئے ہیں ان میں بھی عمران کا نام شامل نہیں ہے۔ مسلم لیگ کے رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا کی جانب سے عمران کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے 18 اگست کو ابتدائی سماعت کی۔ درخواست گزار اور حکومتی اتحاد کی جانب سے وکیل خالد اسحٰق الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ لیکن عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کی جگہ ان کے معاون وکیل بیرسٹر گوہر کمیشن میں پیش ہوئے اور کارروائی لٹکانے کا پرانا حربہ استعمال کرتے ہوئے استدعا کی کہ چونکہ علی ظفر مصروفیت کے باعث نہیں آسکے، لہٰذا کیس کی سماعت ملتوی کی جائے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور عمران خان کے وکیل کو دلائل دینے کے لئے کہا۔

بیرسٹر گوہر نے پہلی دلیل ہی یہ دی کہ چونکہ عمران خان اب رکن اسمبلی نہیں رہے اس لئے نہ تو انہیں نااہلی کا نوٹس دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف بطور رکن پارلیمنٹ نااہلی کیس کی کارروائی چل سکتی، اس پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کی نظر میں عمران خان تاحال رکن قومی اسمبلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے الیکشن کمیشن کو استعفیٰ منظور کر کے نہیں بھجوایا، اس لیے آپ اپنی مرضی کی تشریح نہ کریں، انہوں نے کہا کہ جب تک سپیکر کی جانب سے استعفے منظور کر کے الیکشن کمیشن کو نہ بھیجے جائیں تب تک کوئی بھی رکن پارلیمنٹ ڈی نوٹی فائی نہیں ہو سکتا۔

دوسری جانب یہ بھی یاد رہے کہ عمران خان پہلے ہی قومی اسمبلی کی خالی کردہ نو نشستوں پر ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کر چکے ہیں۔ آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے اپنا استعفیٰ قبول نہ ہونے کے باوجود ضمنی الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں لیکن ان کی پہلی نشست تب خالی ہو جائے گی جب وہ الیکشن جیتنے کے بعد دوبارہ سے حلف لیں گے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی کے ساتھ ہوا تھا جنہوں نے پنجاب اسمبلی کے ضمنی الیکشن کے بعد بطور رکن صوبائی اسمبلی حلف لیا تھا اور یوں انکی قومی اسمبلی کی نشست خالی قرار دے دی گئی تھی جس پر اب ملتان کے حلقے سے دوبارہ ضمنی الیکشن ہو رہا ہے۔

18 اگست کو عمران کے خلاف نااہلی ریفرنس کی سماعت کے بعد الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے وکیل کو دستاویزات فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 22 اگست تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں مختلف جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے تعلق رکھنے والے اراکین نے توشہ خانہ سے ملنے والے تحائف اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر عمران خان کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کیا تھا۔ یہ ریفرنس محسن شاہنواز رانجھا سمیت 5 حکومتی ارکان قومی اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیا تھا۔ رکن قومی اسمبلی بیرسٹر محسن نواز رانجھا نے نااہلی کے لیے ریفرنس چیف الیکشن کمشنر کو جمع کروایا تھا جس پر قومی اسمبلی کے اراکین آغا حسن بلوچ، صلاح الدین ایوبی، علی گوہر خان، سید رفیع اللہ آغا اور سعد وسیم شیخ کے دستخط تھے۔

عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن میں دائر کردہ توشہ خانہ نااہلی ریفرنس فارن فنڈنگ کیس سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ 2017 میں اثاثے ڈیکلیئر نہ کرنے کے الزام پر ہی سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی نا اہل قرار دیا گیا تھا اور وہ عمر بھر کے لیے پارلیمانی سیاست سے بے دخل کر دیے گئے تھے۔ عمران پر بھی یہی الزام ہے کہ انہوں نے توشہ خانہ کے تحائف بیچ کر جو کروڑوں روپے کمائے انہیں دو برس تک اپنے سالانہ ڈکلئیر کردہ اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا چنانچہ نااہلی ریفرنس میں مطالبہ کیا گیا ہے وہ بھی نواز شریف کی طرح صادق اور امین نہیں رہے اور عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دئیے جانے چاہئیں۔ چنانچہ توشہ خانہ ریفرنس میں عمران کا بچنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن نظر آتا ہے۔

Back to top button