کیا جنرل باجوہ سونے کا ہار توشہ خانہ میں جمع کرائیں گے؟


متحدہ عرب امارات نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باوجوہ کو ابوظہبی کے دورے کے دوران اپنے دوسرے سب سے بڑے اعزاز ’آرڈر آف دی یونین‘ سے نوازتے ہوئے ایک بھاری بھر کم سونے کے ہار نما میڈل سے بھی نوازا ہے جسکی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کیا آرمی چیف یہ تحفہ سرکاری توشہ خانہ میں جمع کرائیں گے یا نہیں؟ ایک ایسے وقت میں جب الیکشن کمیشن سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کے تحائف اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر دائر کردہ نا اہلی ریفرنس پر سماعت 18 اگست کو شروع کر چکا ہے، جنرل باجوہ کی وہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جن میں انھیں متحدہ عرب امارات کے امیر محمد بن زاید کی جانب سے سونے کا ہار نما بڑا میڈل پیش کیا جا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی طرف سے جنرل باجوہ کو دیے جانے والے اعزاز آرڈر آف دی یونین کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کی کوششوں کا اعتراف ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے پاکستان کا صرف ایک شہری ہی اب تک متحدہ عرب امارات کا اعلیٰ ترین سویلین اعزاز حاصل کر پایا ہے اور وہ ہے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف۔ اگست 2019 میں اس اعزاز سے موجودہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی نوازا گیا تھا۔

بظاہر سونے کے ہار جیسا لگنے والا یہ اعزاز ایک میڈل ہے جو متحدہ عرب امارات اس سے قبل بھی دوست ممالک کی اعلیٰ قیادت یا کسی شعبے میں نمایاں کارکردگی دینے والی شخصیات کو دے چکا ہے۔ مگر پاکستان میں سوشل میڈیا پر صارفین اس بحث میں مصروف ہیں کہ آیا ایسے میڈل کو بھی توشہ خانہ میں جمع کرایا جانا چاہیے۔ مریم نامی ایک خاتون صارف نے پوچھا کہ ’کیا یہ قیمتی تحفہ توشہ خانہ میں جائے گا یا جنرل باجوہ کی جیب میں؟‘ ایک اور صارف دل جان خان سواتی بھی سوال کرتے ہیں کہ ’کیا باجوہ صاحب یہ تحفہ توشہ خانہ میں جمع کروائیں گے یا اپنے ساتھ بلجیئم لے جائیں گے؟اسد نامی ایک یوتھیے صارف نے تو یہ تک کہہ دیا کہ ہمیں نو سال کا حساب دو۔ کتنے تحفے آئے؟
یاد رہے پچھلے دنوں عمران خان نے الیکشن کمیشن میں اپنے خلاف دائر کردہ توشہ خانہ ریفرنس کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ توشہ خانہ کے تحائف صرف میں نے ہی نہیں لیے تھے بلکہ آرمی چیف نے بھی لیے تھے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سویلین اور عسکری حکام کو ملنے والے تحائف کے معاملات مختلف ہوتے ہیں۔ فوجی وفود کو بیرون ملک اور اندرون ملک ملنے والی ایسی تمام شیلڈز یا میڈلز جی ایچ کیو کی پراپرٹی ہوتی ہیں، تاہم وہ افسر ان شیلڈز کو دفتر یا گھر میں رکھ سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آپ کسی فوجی افسر کے دفتر جائیں تو آپ کو شیلڈز کا بازار لگا نظر آئے گا۔ حکام کاکہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج میں اس سلسلے میں قواعد و ضوابط موجود ہیں جس میں اہم ترین یہی ہے کہ فوج میں ’تحائف‘ لینے اور دینے پر پابندی ہے۔ یہاں شیلڈز یا سیونیئرز لیے اور دیے جاتے ہیں۔ فوج میں خاص طور پر اعلیٰ سطح کے تمام دوروں کی مکمل منصوبہ بندی کی جاتی ہے جس میں یہ بھی پروٹوکول کا حصہ ہے کہ غیر ملکی میزبان سے پہلے ہی پوچھ لیا جاتا ہے کہ کیا ان کی طرف سے کوئی سیونیئر یا شیلڈ یا میڈل دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب سے مطلع کیے جانے کے بعد پاکستان سے جانے والا وفد بھی ایسی ہی شیلڈز یا سیوننیئرز لے کر جاتا ہے۔

ان معاملات سے واقفیت رکھنے والے ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ کسی فوجی افسر کو ملنے والا میڈل، ایوارڈ یا اعزاز اس کی ذاتی ملکیت تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ایوارڈ اس فوجی افسر کی سروسز کے اعتراف کے طور پر دیا جاتا ہے۔ اسی لیے اکثر مختلف تقریبات پر حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران یہ ایوارڈز اور میڈلز پہنتے ہیں اور انھیں اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان آنے والے ملٹری وفود کے لیے بھی یہی پروٹوکول ہے۔ یہاں آنے والے وفد سے بھی پہلے سے معلوم کر لیا جاتا ہے کہ کیا وہ کوئی شیلڈ پیش کریں گے۔ ایسا اس لیے بھی کیا جاتا ہے کہ ان ہائی پروفائل دوروں کے اوقات کار مکمل پابندی سے طے کیے جاتے ہیں اور آمد، ملاقات، بات چیت، کھانے پینے، شیلڈز پیش کرنے اور گروپ فوٹو تک کے لیے وقت نہ صرف مقرر کیا جاتا ہے بلکہ اس کی مکمل پابندی بھی کی جاتی ہے۔

دوسری جانب سربراہان مملکت کو دوست ممالک یا ریاستوں کے دوروں کے دوران تحائف ملنا معمول کی بات ہے جس کا مقصد دوست ممالک کے درمیان جذبہ خیر سگالی اور تعلقات میں گرمجوشی کو فروغ دینا ہوتا ہے۔۔ان تحائف کو سنبھال کر رکھنے کا ہر ملک میں اپنا نظام اور طریقۂ کار موجود ہے۔پاکستان میں کابینہ ڈویژن وہ ادارہ ہے جو پاکستانی سربراہان کو دوست ممالک کی جانب سے ملنے والے تحائف کا حساب کتاب رکھتا ہے اور یہ تحائف جہاں رکھے جاتے ہیں اس جگہ کو ‘توشہ خانہ’ کہا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق اگر ان تحائف کی مالیت 30 ہزار روپے سے کم ہو تو وزیر اعظم، صدر یا وزیر جنھیں یہ تحفہ ملا ہوتا ہے انھیں توشہ خانہ قوانین کے مطابق یہ مفت لینے کی پیشکش کی جاتی ہے، تاہم اگر تحفے کی مالیت 30 ہزار سے زیادہ ہو تو اس تحفے کی مالیت کا کچھ فیصد حصہ ادا کر کے اسے رکھا جا سکتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے درجنوں ایسے تحائف اپنے پاس رکھ لیے تھے جن کی مالیت 30 ہزار روپے یا ان سے کم تھی۔

سرکاری حکام کے مطابق اگر سربراہان مملکت یا وزرا یہ تحائف نہیں رکھتے تو پھر ان تحائف کی فہرستیں تیار کر کے انھیں توشہ قوانین کے مطابق سرکاری ملازمین اور فوج کے افسران کو نیلامی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ نیلامی کی قیمت کا تعین دوبارہ ایف بی آر اور سٹیٹ بینک سے کروایا جاتا ہے اور ان میں سے چند اشیا کی قیمت کو مارکیٹ ویلیو سے کچھ کم رکھا جاتا ہے جبکہ چند ایسے تحائف جو کسی خاص سربراہ ملک کی جانب سے ملے ہوں ان کی اہمیت اور اعزازی مالیت کے تحت ان کی قیمت مارکیٹ سے زیادہ رکھی جاتی ہے۔ توشہ خانہ قوانین کے مطابق ان تحائف پر پہلا حق اس فرد کا ہوتا ہے جس کو یہ تحفہ ملا ہوتا ہے، اگر وہ اسے نہیں لیتا تو پھر سرکاری ملازمین اور فوج کے اہلکاروں کے لیے نیلامی کی جاتی ہے۔ اس نیلامی سے جو اشیا بچ جائیں انھیں عام عوام کے لیے نیلامی میں رکھ دیا جاتا ہے۔ لیکن عملی طور پر ایسا کم ہی ہوتا ہے اور زیادہ تر ایسے تحائف ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے ملازمین ہی خرید لیتے ہیں کیونکہ وہ ارزاں نرخوں پر دستیاب ہوتے ہیں۔ جو بھی فوجی یا سرکاری ملازم یہ بیش قیمتی اشیا کو خریدتے ہیں انھیں اپنی ذرائع آمدن ڈیکلیر کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر لاگو ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ اگر کوئی رکن پارلیمنٹ یا وزیر اعظم کوئی قیمتی تحفہ آدھی قیمت پر خریدتا ہے تو اسے اس تحفے کی ملکیت اپنے سالانہ اثاثوں میں بھی ظاہر کرنا ہوتی ہے۔

Back to top button