نواز لیگ کی باگ ڈور مریم نواز کو سونپنے کا فیصلہ ہو گیا

پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر حالیہ ضمنی انتخابات میں نواز لیگ کی شکست کے بعد پھیلنے والی مایوسی کے خاتمے اور پارٹی کارکنان کا اعتماد بحال کرنے کے لیے نواز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی کی عملی باگ ڈور مریم نواز کے حوالے کر دی جائے اور حکومت کے معاملات علیحدہ کردیے جائیں۔ یاد رہے کہ 2018 میں میں پارٹی صدارت کے لیے نااہل قرار دیے جانے کے بعد شہباز شریف کو نواز لیگ کا صدر منتخب کرلیا گیا تھا۔ تاہم لیگی ذرائع کے مطابق مریم نواز کو شہباز شریف کی جگہ پارٹی صدر بنانے کا امکان اس لیے نہیں کہ وہ بھی اپنے والد نواز شریف کی طرح عوامی اور پارٹی عہدہ رکھنے کے لیے نا اہل ہیں اور عدالتی فیصلے کے خلاف ان کی اپیل ابھی زیر سماعت ہے۔
تاہم یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ اب مریم نواز مسلم لیگ ن کے ماڈل ٹائون لاہور میں واقع مرکزی دفتر 180 ایچ میں باقاعدگی سے بیٹھیں گی اور پارٹی کو نئے سرے سے منظم کریں گی۔ اردو نیوز کے مطابق ن لیگ کے مرکزی دفتر میں مریم نواز کے لیے الگ دفتر بنایا جا رہا ہے جس کی تزئین و آرائش کا کام دن رات جاری ہے۔ خیال رہے کہ مریم نواز پارٹی کی نائب صدر ہیں۔ اس سے پہلے یہ دفتر حمزہ شہباز پارٹی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے تھے جبکہ مریم نواز جاتی امرا رہائش گاہ سے پارٹی امور دیکھتی تھیں۔ یاد رہے کہ پارٹی کے اندر مریم نواز کو اختیارات دیے جانے کے بعد انہوں نے دو مرتبہ اپنی ہی حکومت کی پالیسوں پر خفگی کا اظہار کیا ہے۔ پہلا ٹویٹ انہوں نے تاجروں پر لگائے گئے اضافی ٹیکس پر کیا تھا جو بعد ازاں وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے واپس لے لیا تھا۔ دوسرا ٹویٹ انہوں نے حال ہی میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر کیا۔ مریم نواز کی ان سخت ٹویئٹس سے لگتا ہے کہ نواز شریف نے پنجاب میں ہونے والے حالیہ ضمنی الیکشن کے نتائج سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی جماعت کو حکومت کے عوام دشمن فیصلوں سے دور رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعت مسلم لیگ ن آج کل سیاسی مشکلات کا شکار دکھائی دیتی ہے اور اس کی بڑی وجہ ملک میں جاری مہنگائی کی لہر ہے۔ ان سیاسی مشکلات کا اندازہ گزشتہ ماہ ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج سے بھی ہو گیا جب مسلم لیگ ن کو 20 میں سے صرف چار سیٹوں پر فتح حاصل ہوئی۔ ان حالات میں پارٹی کے اندر وسیع پیمانے پر سوچ بچار کا عمل شروع ہوا تو بات اس نتیجے پر پہنچی کہ جماعت کو ازسر نو ترتیب دیا جائے اور پارٹی کی تنظیم نو کی ذمہ داری مریم نواز کو دی جائے۔ پارٹی کے اندر اس وقت شدید اضطراب کی فضا ہے اور پارٹی کی اکثریت نواز شریف کی واپسی چاہتی ہے۔ نواز شریف بھی اس بے چینی کو محسوس کرتے ہیں اور اسی لیے پچھلے دنوں اپنے ہی بھائی کی حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ردعمل دیتے ہوئے نواز شریف پارٹی کے جاری اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو حالت عمران حکومت کے آخری دنوں میں تحریک انصاف کی تھی، کچھ ویسی ہی حالت اب مسلم لیگ ن کی ہے۔ صرف چار مہینے پہلے تک جس جماعت کا ٹکٹ ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا تھا اب اس کے اپنے اراکین اسمبلی تذبذب میں ہیں پارٹی کو ایک نیا بیانیہ اور متحرک قیادت چاہیے اور میاں صاحب کے آنے سے پہلے یہ کام صرف مریم نواز ہی کر سکتی ہیں۔ شریف خاندان اور مسلم لیگ ن کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ اس وقت ن لیگ کے پاس مریم نواز کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، اس لیے انہیں پارٹی کے اختیارات سونپے جا رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ نون لیگ اس وقت بالکل خوش نہیں ہے اور مسلم لیگ ن کے پاس اگر کچھ بچا ہے تو وہ نواز شریف ہی ہیں۔ ہم ان کی واپسی کی خبریں بھی سن رہے ہیں لیکن مریم نواز ان کے آنے سے پہلے سیاسی پچ تیار کریں گی۔ سلمان غنی سے پوچھا گیا کہ مریم نواز کو اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی ذمہ داری نہیں ملی تو کیا وہ ان مشکلات سے پارٹی کو نکال لانے کی اہلیت رکھتی ہیں؟ جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو اب تک صرف ایک ہی ٹاسک دیا گیا کہ وہ اپنے لوگوں کا اعتماد بحال کریں اور باہر نکالیں۔ مریم نے ماضی میں بھی یہ کام بہت اچھے طریقے سے کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کے اندر اپنی جگہ تیزی سے بنائی ہے اس لیے پارٹی ان پر اعتماد کرتی ہے۔ لیکن کچھ سیاسی پنڈت یہ سمجھتے ہیں کہ پارٹی نے مرکز میں حکومت لے کر جو سیاسی نقصان کیا ہے اسکا ازالہ فوری طور پر شاید مریم نواز بھی نہ کر سکیں۔
دوسری جانب نواز لیگ کے ماڈل ٹائون پارٹی دفتر میں ماحول بدل چکا ہے اور پارٹی کو نئے طریقے اور بیانیے سے چلانے اور سیاسی خلا پُر کرنے لیے مریم نواز تیار دکھائی دے رہی ہیں۔ تجزیہ کار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ سیاسی صورت حال تمام اندازوں سے مختلف ثابت ہوئی ہے۔ جن کو فائدہ ہو رہا ہے ان کے بھی وہم و گمان میں نہیں تھا اور جو بظاہر نقصان میں جا رہے ہیں انہوں نے بھی ایسا نہیں سوچا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے مریم نواز کو ایکٹیو کرنا اصل میں نواز شریف کی واپسی کی تیاری ہے اور اگلے انتخابات کے لیے صف بندی ہے۔ اگر آپ دیکھیں تو پارٹی کے کرتا دھرتاؤں کی توجہ اس وقت حکومت اور اقتصادیات پر ہے۔ سیاسی فرنٹ تقریباً خالی ہے۔ اس لیے بھی شاید میاں صاحب اب واپسی کا سوچ رہے ہیں۔
